” یہ جو ٹی وی پر بیٹھ کر تبصرے کرتے ہیں کہ۔۔۔“ چیف جسٹس ثاقب نثار خود میدان میں آگئے ، صحافیوں کو شرم سے پانی پانی کردیا

” یہ جو ٹی وی پر بیٹھ کر تبصرے کرتے ہیں کہ۔۔۔“ چیف جسٹس ثاقب نثار خود میدان ...
” یہ جو ٹی وی پر بیٹھ کر تبصرے کرتے ہیں کہ۔۔۔“ چیف جسٹس ثاقب نثار خود میدان میں آگئے ، صحافیوں کو شرم سے پانی پانی کردیا

  


” یہ جو ٹی وی پر بیٹھ کر تبصرے کرتے ہیں کہ۔۔۔“ چیف جسٹس ثاقب نثار خود میدان میں آگئے ، صحافیوں کو شرم سے پانی پانی کردیا

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ مبصرین ، تبصرہ کرنے والے لوگ جنہوں نے فیصلہ نہیں پڑھا ہوتا وہ ایسی کہانی پیش کردیتے ہیں کہ ہم سنتے ہیں تو ہمیں بھی حیرت ہوتی ہے کہ ہم نے تو ایسا نہیں کہا۔

پاکستان بار کونسل کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ انہوں نے ایک معیار سیٹ کیا ہے جس کے تحت سپریم کورٹ ایک مہینے سے زیادہ کوئی بھی فیصلہ محفوظ نہیں رکھے گی ، اسی معیار کے تحت عمران خان ، جہانگیر ترین نا اہلی کیس کا فیصلہ سنایا ، نہیں پتا تھا کہ جمعہ کو ہی حدیبیہ کا بھی فیصلہ آرہا ہے۔آپ کو خوش ہونا چاہیے اور عدلیہ پر فخر ہونا چاہیے کہ وہ جلد کیسز نمٹا رہی ہے۔

اٹھارہویں ترمیم کے فیصلے میں پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کیا ، کسی کے خلاف فیصلہ آجائے تو عدلیہ کو گالیاں نہ دے : چیف جسٹس

انہوں نے کہا یہ کہا جاتا ہے کہ عدلیہ میں کوئی تقسیم ہے، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عدلیہ پر باہر سے دباﺅ ہے اور کسی منصوبے کے تحت کام کیا جا رہا ہے، اگر کسی کا زور چلتا ہوتا تو حدیبیہ کا وہ فیصلہ نہ آتا جو آیا ہے ، اس کیس کے فیصلے سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر جج اپنے فیصلوں میں آزاد ہے۔

چیف جسٹس نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ میں کوئی تقسیم نہیں ہے اور ہر جج اپنی مرضی سے آزادانہ فیصلہ دے رہا ہے۔ ’میں قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ اس عدلیہ پر کسی قسم کا کوئی دباﺅ نہیں ہے ، ہم نے جتنے بھی فیصلے کیے ہیں وہ اپنے ضمیر اور قانون کے مطابق کیے ہیں‘۔

مزید : قومی


loading...