فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 302

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 302
فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 302

  

اسی شام خیرالکبیر صاحب، ان کی مسز، حمید صاحب اور کئی دوسرے لوگ چلے آئے۔ پہلا پروگرام اگلے روز شام کو ہونا تھا۔ اس کے لیے گانوں کا انتخاب کرنا اور پھر ان کی ریہرسل بھی ایک مسئلہ تھا۔ نیلو اپنے ڈانس کا میوزک ہمراہ لے گئی تھیں۔ انہیں ریہرسل کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ قدرت نے رِدھم اور رَقص کی لَے ان کے جسم کے اندر ہی رکھ دی ہے۔ اِدھر میوزک چلا اور اُدھر نیلو کے لوچدار جسم نے ڈولنا اور بل کھانا شروع کردیا۔ مسئلہ تو میڈم نور جہاں کا تھا۔

مسئلہ نہیں۔ مسائل کہئے۔ پہلا مسئلہ تو یہ تھا کہ وہ کبھی یوں کسی تقریب میں براہِ راست نہیں گاتی تھیں۔ بڑی مشکل سے اعجاز کی بدولت رضامند ہوئی تھیں مگر کہے جارہی تھیں کہ اللہ خیر کرے۔ مجھے عادت نہیں ہے۔دوسرے لوگ مسلسل تسلی دے رہے تھے کہ میڈم فکر نہ کریں۔ سب ٹھیک ہوجائے گا۔

دوسرا مسئلہ سازندوں کا تھا۔ ہارمونیم، طبلہ، وائلن، بنسری، سارنگی کون بجائے گا؟

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 301

مشرقی پاکستان کے بڑے بڑے موسیقار بھی عقیدت کے مارے آئے ہوئے تھے۔ وہ میڈم کو یقین دلا رہے تھے کہ انہوں نے بہت اچھّے سازندوں کا بندوبست کیا ہے۔ آپ مطمئن رہیے۔ کچھ دیر بعد سازندے بھی آگئے۔ طبلہ، سارنگی، بنسری، وائلن، ڈھولک یہ تو خیر غنیمت تھے حالانکہ میڈم ان سے مطمئن نظر نہیں آرہی تھیں پھر بھی بقول ان کے ”کام چلانے کے لائق تھے“ مگر سب سے بڑا مسئلہ ہارمونیم بجانے کاتھا۔ ہارمونیم کے بغیر ریہرسل ممکن نہ تھی اور میڈم صرف ایک ہی ہارمونیم نواز کی سنگت میں گانے کی عادی تھیں جو اس وقت لاہور میں تھا۔ جب دو تین ہارمونیم نواز پیش کئے گئے اور سب کے سب فیل ہوگئے تو میڈم نے بڑے اطمینان سے کہا ”یوں تو کام نہیں چلے گا بھائی جان۔ کچھ کرنا پڑے گا۔“

”کیا کریں میڈم جی؟“ سب نے ایک آواز ہوکر پوچھا۔

”میرے باجے والے استاد جی کو لاہور سے بلانا پڑے گا۔“

سب ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگے۔ لاہور سے ڈھاکا کے لیے آئندہ دو دن تک کوئی فلائٹ نہیں تھی۔ اس کے علاوہ کچھ دوسری مشکلات بھی تھیں۔ ابھی کچھ لوگ بولنے ہی والے تھے کہ میڈم نے فیصلہ سنادیا ”باجے کے بغیر تو میں گاہی نہیں سکتی بھائی جان“ انہوں نے بڑی معصومیت سے کہا۔

کمرے میں کافی لوگ موجود تھے مگر ایک دم سناٹا چھاگیا۔ چند لمحے سب خاموش رہے۔ میڈم نور جہاں سے بھلا کون بحث کرے۔

اچانک ایک جوان عمر کے دراز قد‘ گھونگریالے بالوں والے بنگالی صاحب نے آگے بڑھ کر ہارمونیم سنبھال لیا اور انگریزی میں بولے۔

”لیٹ می ٹرائی!“

یہ کہہ کر انہوں نے سُر چھیڑے۔ میڈم جو بیزاری سے بیٹھی ہوئی تھیں ایک دم ان کے چہرے پر کچھ دلچسپی کے آثار پیدا ہو گئے۔ چند منٹ بعد ہارمونیم بجانے والے کی کارکردگی پر وہ خاصی خوش نظر آنے لگیں اور بولیں۔

”ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔ آئیں ریہرسل کرتے ہیں۔“

ریہرسل شروع ہو گئی۔ میڈم کی سحر انگیز آواز نے سارے ماحول کو جادو کی نگری بنا دیا تھا۔ وہ ایک کے بعد ایک گانے کی ریہرسل کرتی تھیں اور ساتھ ہی ہارمونیم بجانے والے اور طبلہ نواز کی حوصلہ افزائی بھی کرتی جا رہی تھیں جو ملکہ¿ ترنم نورجہاں کی داد پا کر پھولے نہیں سما رہے تھے۔

کچھ دیربعد ریہرسل کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ سب نے اطمینان کا سانس لیا۔ ادھر حمید صاحب اور نذیر صاحب کُھسر پھُسر کرنے میں مصروف ہو گئے تھے۔

”بہت اچھّا ہارمونیم بجانے والا ہے۔ ریڈیو ڈھاکا سے مل جائے گا۔ “میڈم نورجہاں کے کانوں میں یہ آواز پڑی تو وہ چوکنّا ہو گئیں۔

”نہیں بس باجے والے تو یہی ہوں گے“ انہوں نے کہا۔

سب لوگ پریشان ہو گئے۔

میڈم ان صاحب کی طرف متوّجہ ہوئیں جنہوں نے ہارمونیم بجایا تھا ”آپ بہت اچھّا ہارمونیم بجاتے ہیں۔ آپ کا نام کیا ہے؟“

خوشی سے ان کا چہرہ گلُنار ہو گیا۔ ”آپ کی بہت مہربانی میڈیم جی۔ آپ نے میرا دل بڑھا دیا ہے۔ میرا نام سمرداس ہے۔“

”سمرداس جی۔ بس اب آپ ہی میرے ساتھ ہارمونیم بجائیں گے۔“

سمرداس کے چہرے سے خوشی ایک دم غائب ہو گئی۔انہوں نے دوسرے لوگوں کی طرف دیکھا۔ اے حمید صاحب نے اشارہ کیا اور ہمیں کمرے سے باہر لے گئے۔

”آفاقی.... میڈم کو سمجھاﺅ بھائی۔ یہ سمرداس بہت بڑا موسیقار ہے۔ اسپین اور اٹلی میں میوزک کا ٹیچر اور ریڈیو کا کمپوزر رہ چکا ہے۔ یہ کیسے فنکشن میں ہارمونیم بجا سکتا ہے۔“

ہم نے کہا ”میڈم کو سمجھانا بہت مشکل ہے۔ جو بات ایک بار ان کے منہ سے نکل جائے وہ پتّھر کی لکیر ہو جاتی ہے۔“

”مگر یار ذرا سوچو تو۔ سمر داس اتنا بڑا آدمی ہے۔ وہ بھلا ہارمونیم لے کر بیٹھے گا۔ یہاں تو خیر اس نے عقیدت اور شوق میں بجا دیا مگر ہال میں تو وہ ہر گز ایسا نہیں کرے گا۔ تم ذرا سمجھاﺅ خاتون کو۔“

ہم نے کہا ”سوری۔ رانگ نمبر۔ اعجاز سے بات کرو۔ شاید....“

حمید صاحب کچھ دیر بعد اعجاز کو گھیر کر لے آئے اور مسئلہ بیان کیا۔ اعجاز نے کہا ”حمید صاحب انہیں جس ہارمونیم والے کے ساتھ کی عادت ہے وہ اس کے بغیر گاتی ہی نہیں ہیں۔ موڈ اچھا تھا جو مان گئیں۔ اب یہ صاحب مل گئے ہیں تو ان سے باجا بجوائیں۔“

حمید صاحب نے انہیں سمرداس صاحب کے بارے میں بتایا اور کہا ”یار وہ بہت بڑاموسیقار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ آدمی ہے۔“

اعجاز نے کہا ”تو پھر کیا ہوا۔ نورجہاں کے گانے کے ساتھ ہارمونیم بجانا بھی تو کوئی معمولی بات نہیں ہے۔“

ہم نے بھی کہا ”حمید صاحب واقعی۔ یہ اعزاز سے کم نہیں ہے۔ وہ کبھی اپنے بچّوں کو بتائے گا کہ اس نے نورجہاں کے لئے ہارمونیم بجایا تھا۔“

حمید صاحب کچھ دیر بعد سمرداس کو بھی بلا لائے۔ وہ واقعی تعلیم یافتہ اور نہایت شائستہ شخص تھا۔ جب مسئلہ بیان کیا گیا تو سمر داس نے بلاتامل کہا ”ایسا بات نہیں ہے حمید صاحب۔ میڈم جی کے ساتھ ہارمونیم بجانا ہمارے لئے بہت بڑا آنر ہے۔ بات یہ ہے کہ آج کل میری مسز بیمار ہے۔ مجھے شام ہوتے ہی ان کی وجہ سے گھر جانا پڑتا ہے۔ لیکن میں دو دن یہ کام کرلوں گا۔“

حمید صاحب نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ وہ کہنے لگے ”شکریہ کیسا۔شکریہ تو مجھے آپ کا ادا کرنا چاہئے جس کی وجہ سے میڈم نورجہاں جیسی ہستی کے ساتھ مجھے کسی فنکشن میں ہارمونیم بجانے کا موقع مل رہا ہے۔“

سمرداس مشرقی اور مغربی دونوں جگہ کی موسیقی پر عبور رکھتے تھے۔ آواز بھی اچھّی اور سُریلی تھی۔ کئی ساز بجانے کا ہُنر جانتے تھے۔

نیلو کو ان کے کمرے میں ڈانس کی ریہرسل کرا دی گئی تھی۔ اوّل تو نیلو کو ریہرسل کی ضرورت ہی نہیں تھی مگر پھر بھی حمید صاحب کو فکر پڑی ہوئی تھی کہیں فنکشن میں کوئی غلطی نہ ہو جائے۔

میڈم نورجہاں کا موڈ اب کافی بہتر ہو گیا تھا۔

رات کے دس گیارہ بج رہے تھے اور ہوٹل کا سارا عملہ میڈم کو ڈنر کھلانے کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا۔ حمید صاحب وغیرہ سب رخصت ہو گئے اب صرف ہم تینوں کمرے میں رہ گئے تھے۔ منیجر نے ایک بار پھر آ کر دریافت کیا کہ کیا ڈنر لگا دیا جائے؟ ایک دم سب کی بُھوک چمک اٹھی اور کھانے کے لئے ڈائننگ ہال کی طرف چل پڑے۔

ہوٹل شاہ باغ ان دنوں ڈھاکہ کا بہترین ہوٹل تھا اورواقعی بہت خوبصورت اور صاف ستھرا ہوٹل تھا۔ برآمدے اور گیلریاں شیشے کی مانند چمکتے تھے۔ کمرے‘ ہال ،باغ بھی دیکھنے کے قابل تھے۔ بہت اچھّا ماحول تھا اور آس پاس کا منظر بھی دلفریب تھا۔

جاری ہے، اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مزید : فلمی الف لیلیٰ