ایک کرم والا ،دوسرا دل والا

ایک کرم والا ،دوسرا دل والا
ایک کرم والا ،دوسرا دل والا

  


سوال بہت سادہ تھا۔ ”اگر آپ کو کوئی شخص گالیاں دیتا رہا ہو تو کیا آپ کسی موقع پر اس شخص کی مدد کرنا گوارا کریں گے ؟“ حاضرین مجلس نے بلا توقف جواب دیا: ”یہ بہت مشکل ہے۔ ہم کسی ایسے شخص کی مدد نہیں کریں گے جو ہمیں گالیا ں دیتا ہو۔“

”آپ نے ٹھیک کہا کہ ہم ایسا نہیں کرتے۔“ عارف نے لوگوں کی تائید میں سر ہلا کر کہا۔ ”مگر ایک ہستی ہے جو انتہائی حقیر اور پست لوگوں سے صبح و شام گالیاں بھی سنتی ہے اور ان کی داد رسی بھی کرتی رہتی ہے “، عارف نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا۔

”یہ اللہ تعالیٰ کی بلند ترین ہستی ہے۔ ایک صحیح حدیث میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ابن آدم مجھے گالی دیتا ہے۔ اور اس کا گالی دینا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ اللہ نے اولاد اختیار کی ہے“ اس حدیث قدسی کے مطابق شرک اللہ تعالیٰ کو گالی دینے کے متراف ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بدترین توہین ہے کہ اس کی ذات، صفات اور اختیارات میں کسی کو شریک سمجھا جائے ، مگر آج بیشتر انسان؛ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، کھلے یا چھپے ہوئے شرک کا شکار ہیں۔ پھر بھی اللہ تعالیٰ ان گالی دینے والوں اور اپنی بدترین توہین کرنے والوں کو کھانا دیتے ہیں ، پانی دیتے ہیں اور اولاد دیتے ہیں۔ غرض وہ سب دیتے ہیں جس کی انھیں ضرورت ہوتی ہے۔“

لمحہ بھر کے توقف کے بعد عارف نے لوگوں سے دریافت کیا: ”جو کریم گالی دینے والوں کے ساتھ ایسا ہے ، آپ بتائیے وہ وفاداروں کے ساتھ کیسا ہو گا؟“ سوال یہ بھی واضح تھا، مگر اس سوال کا اہل مجلس کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔ ایسے سوالوں کا دل والے زبان سے جواب نہیں دیا کرتے۔ کسی نے گردن جھکالی۔ کسی کی آنکھ سے آنسو بہہ نکلے اور کوئی اپنا احتساب کرنے لگا کہ وہ اس کریم و شفیق ہستی کے وفاداروں میں سے ہے یا نہیں۔

گالی اورلغویات ہماری زندگی کا معمول بن چکے ہیں....قرآن کریم میں کئی مقامات پر اہل ایمان کی یہ صفت بیان ہوئی ہے کہ وہ لغویات سے بچتے ہوئے زندگی گزارتے ہیں۔ لغویات اصلاً گناہ کے کام نہیں ہوتے ، بلکہ یہ وہ پست رویے ہوتے ہیں جو اعلیٰ شرف انسانی کو مجروح کرتے ہیں یا پھر وہ لایعنی اور بے مقصد اعمال ہوتے ہیں جن سے انسان کا وقت ضائع ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو محدود وقت دے کر ایک اعلیٰ مقصد کے ساتھ اس دنیا میں بھیجا ہے۔ ساٹھ ستر برس کی اس مختصر زندگی میں انسان کے سامنے ایک اعلیٰ مقصد رکھا گیا ہے کہ وہ خواہشات اور جذبات پر قابو پا کر اعلیٰ اخلاقی رویہ اختیار کرے ، جس کے نتیجے میں وہ اللہ تعالیٰ کی ہمیشہ باقی رہنے والی جنت کا حقدار قرار پائے گا۔

بدقسمتی سے آج کے انسان کے سامنے یہ مقصد باقی نہیں رہا بلکہ وہ اپنی زندگی کی سب سے قیمتی متاع یعنی اپنے وقت کو لغویات میں بے دریغ ضائع کرتا ہے۔ زمانہ قدیم میں ان لغویات کی ایک شکل گھروں ، بازاروں اور چورا ہوں پر بے معنی گفتگو کا کیا جانا تھا اور دور جدید میں موبائل پر بے مقصد گفتگو، بلاضرورت میسجز کا تبادلہ اور انٹرنیٹ پر بلا ضرورت چیٹنگ اور سرفنگ اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ خاص کر نوجوان طبقہ اپنی بہترین صلاحیتوں ، سیکھنے کے قیمتی اوقات اور والدین کی خون پسینے کی کمائی کو ان لغو چیزوں پر بے دریغ ضائع کرتا ہے۔ انھی لغویات کی ایک شکل ٹیلیوژن کے وہ اکثر پروگرام ہوتے ہیں ، جن میں تفریح کا عنصر بہت کم اور لغوباتوں ، بے مقصد داستانوں اور وقت کے زیاں کے علاوہ گناہ کی مختلف شکلوں کی کثرت ہوا کرتی ہے۔

ہم میں سے ہر شخص کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہمیں زندگی کے محدود لمحے دیے گئے ہیں اور ہر لمحہ صرف ایک بار ملتا ہے۔ اس لیے ہر لمحے کو یہ سوچ سمجھ کر خرچ کرنا چاہیے کہ اگر یہ گناہ و نافرمانی کے کاموں میں استعمال نہیں ہوا تو لغویات میں بھی ضائع نہیں ہونا چاہیے۔

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

۔۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...