”وہ مائی جب سپریم کورٹ میں آئی تو اندھی ہو چکی تھی اور۔۔۔“ چیف جسٹس آف پاکستان نے ایسا واقعہ سنا دیا کہ سیاستدان بھی شرم سے پانی پانی ہو جائیں گے، جان کر آپ کا دل خون کے آنسو روئے گا

”وہ مائی جب سپریم کورٹ میں آئی تو اندھی ہو چکی تھی اور۔۔۔“ چیف جسٹس آف ...
”وہ مائی جب سپریم کورٹ میں آئی تو اندھی ہو چکی تھی اور۔۔۔“ چیف جسٹس آف پاکستان نے ایسا واقعہ سنا دیا کہ سیاستدان بھی شرم سے پانی پانی ہو جائیں گے، جان کر آپ کا دل خون کے آنسو روئے گا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے پاکستان بار کونسل سے خطاب کے دوران سیاسی مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے ایک ایسا واقعہ سنا دیا کہ سیاستدان بھی شرم سے پانی پانی ہو جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔”سنی لیونی واحد بھارتی نہیں جنہوں نے فحش فلموں میں کام کیا بلکہ۔۔۔“ ایسی 10 بھارتی لڑکیاں منظرعام پر آ گئیں جنہوں نے بیرون ملک جا کر فحش فلموں میں اداکاری شروع کی، تفصیلات جان کر آپ کی حیرت کی انتہاءنہ رہے گی

انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی گند صارف ہونے کے مراحل سے ذرا باہر نکل جائیں تو مائی بھاگاں، غلام رسول، دین محمد اور رحمت اللہ کا کیس سننے کا موقع بھی مل جائے تو بیچارے تین مرلے کی اپنی چھوٹی کی کٹڑی کو حویلی سمجھتے ہیں۔

اس مائی کا مقدمہ سننے کی بھی توفیق ملے جو بڑے عرصے سے اپنی وراثت کیلئے لڑتی رہی کیونکہ اس کا شوہر بہت اراضی چھوڑ گیا تھا۔ وہ مائی سنی خاوند کی بیوہ اور بے اولاد تھی لیکن خاوند کے بھتیجوں نے اپنے ہی چچا کو شیعہ قرار دیدیا۔ اب شیعہ قانون میں بیوہ کو وراثت میں اراضی وغیرہ نہیں ملتی۔

شیعہ کیوں ڈکلیئر کیا؟ اس لئے کہ جی اس کی نماز جنازہ شیعہ طریقہ سے پڑھوائی تھی، اس لئے کہ وہ فلاں مولوی کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا تھا، اس لئے کہ اس نے کسی وقت میں کربلا کو چندہ دیا تھا، اس لئے وہ شیعہ تھا۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔پاکستان کا وہ لڑکا جس نے قائداعظم جیسا نظر آنے کیلئے 50 سرجریاں کرا ڈالیں، انٹرنیٹ پر شیئر ہونے والی تصویر نے دھوم مچا دی، ہنسی کا طوفان آ گیا کیونکہ۔۔۔

مائی آٹھ مربع کی زمین کا مقدمہ لڑتی رہی، نیچے بھی ہار گئی، پھر اوپر بھی ہار گئی، پھر اوپر بھی ہار گئی اور جب سپریم کورٹ میں آئی تو وہ مائی اندھی ہو چکی تھی۔ میں نے کہا کہ یار تین کورٹس کا فیصلہ ہے، اسے کچھ دے دو، مجھے یاد ہے کہ نور محمد وکیل تھے جن کا مال روڈ پر دفتر ہے۔ وہ کہنے لگے کہ دو لاکھ روپے دے دیتے ہیں اور جب میں نے پتہ کروایا تو انکشاف ہوا کہ اس کی زمین کے ایک مربع کی قیمت ڈھائی سے تین کروڑ روپے تھی۔“

مزید : قومی