چیف جسٹس کابابا رحمت

چیف جسٹس کابابا رحمت
 چیف جسٹس کابابا رحمت

  


میں بابا رحمت کو چالیس برسوں سے جانتا ہوں ۔ممکن ہے آپ سب کے گاوں میں بھی ایسا بابا رحمت ہو،ہمارے گاوں میں جب بھی کوئی جھگڑا ہوتالوگ فیصلہ کرانے اسکے پاس پہنچ جاتے ،اسکا فیصلہ سن کر بڑے سے بڑا کن ٹٹا بھی سر گرادیتا تھا۔زمیندار،نمبردار،ذیلدار بھی اسکے سامنے چوں نہیں کرتا تھا....گاوں والوں کو کبھی کورٹ کچہری اور تھانے کا منہ نہیں دیکھنا پڑتا تھا۔بابا رحمت کی رحمت سے پورا گاوں امن اور سکون کا گہوارہ تھا۔بابا رحمت کی خوبی تھی کہ زمیندار سے دانے لیکر نہیں کھاتا تھا،بڑا غیرت مند ،جراتمند اور فہم و فراست کا مالک تھا۔خود محنت کرتا اور اپنے ہاتھوں سے کمایا کھاتا تھا۔وہ کبھی کسی کے کہے سنے میں نہیں آتا تھا،اسکی آزاد فطرت اس سے آزاد فیصلے کراتی تھی۔ جھگڑوں کے فیصلے کرتے ہوئے وہ انکی تہہ تک پہنچتا ،کوئی اس کے کان میں آکر بات کرتا تو ڈانٹ دیتا اور کہتا” پریا بیٹھی ہے،جو کہنا ہے اونچی آواز میں کہو“ ۔........لیکن پھر میں نے اسی بابا رحمت کو گاوں میں گالیاں کھاتے دیکھا،لوگ با امر مجبوری اسکی پریا میں جاتے اور وہ چونکہ چناچہ کرکے کوئی فیصلہ کرتا،تو سائل و مسئول اسکے فیصلہ پر سرعا م معترض ہوتے۔اس نے کانوں میں سرگوشیاں کرنے والوں کو بھی ڈانٹنا چھوڑ دیا تھا۔

وجہ یہ بنی تھی کہ بابا رحمت کے پتر ماجھا اور گاما جوان ہوگئے تھے۔انہیں لگی بندھی روزی اچھی نہ لگتی،وہ دن بھر کھیتوں میں ہل چلا کر سال بعد چار پیسوں کا منہ نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ان کے اندر ہوس دیکھ کر کن ٹٹوں نے اپنے پیر پھیلائے اور انکی مدد سے بابا رحمت پر اثر انداز ہوتے چلے گئے۔میں نے دیکھا ہے کہ آج بابا رحمت کے بیٹے اور پوتے سونے کے نوالوں میں کھانا کھاتے ہیں۔انہیں ایجنٹی اور دلالی بڑی راس آئی تھی.... آج بابا رحمت بہت آسودہ حال ہے....لیکن گاوں کا ماحول بالکل تباہ ہوچکا ہے۔گندی نالیاں،چرسیوں اور ہیروئن فروشوں کی من موجیاں ،شاملاٹوں اور کمزوروں کی زمینوں پر قبضے اور ہر دوسرے گھر کی مقدمہ بازی کے لئے کچہریوں کے دورے میرے گاوں کی زندگی اور شان بن چکے ہیں۔میرے گاوں کی رحمت کو ٹاوٹ اٹھا کر لے گئے ہیں۔ 

اتفاق ہے کہ مجھے بابا رحمت بھی ایسے وقت میں یاد آیاہے جب چیف جسٹس آف پاکستان نے اپنے بابا رحمت کو یاد کیا ہے ۔ہوسکتا ہے کہ ان کے اور میرے بابے میں کوئی فرق ہو.... لیکن جب میں گلوبل پنڈمیں اپنے ملک کو دیکھتا ہوں تو مجھے دور تک کوئی بابا رحمت نظر نہیں آتا ۔وجہ آپ بھی جانتے ہیں۔

دوستو،پاکستان میں عادلوں کو بھی اب وضاحت کے لئے منظر عام پر آنا پڑتا ہے....بے یقینی اور بد اعتمادی ختم ہونے سے گالی گلوچ جس قوم کا وطیرہ بن جائے وہاں عدل و انصاف کے اداروں کو اپنی ساکھ بچانے کے لئے زبان بھی کھولنی پڑتی ہے۔فیصلے تو وہ کرتے ہی ہیں،یہ فیصلے جیسے بھی ہوں ،خود نہ بول سکیں تو مدعی اور استغاثہ دونوں میں سے جو متاثر ہوگا وہ خود ہرزہ سرائی کرے گااور بولے گا ،وہ صرف اس پر اکتفا نہیں کرتا ،ڈھول بھی بجاتا ہے۔عدلیہ کو غلام گردانتا ہے،عادلوں کے میرٹ کو سکرپٹ قرار دیتا ہے۔وہ یہ بھی دھوم مچاتا ہے کہ عدالت کے اندر ججوں کے اہل خانہ کو یرغمال بنا کر فیصلے لکھوائے جاتے ہیں....پاکستان میں کرپشن کا بول اتنا بالا ہے کہ عدالتوں پر کسی کو اعتبار نہیں رہا،جو بولتا ہے اسکی زبان سوگز لمبی ہوجاتی ہے .... عدلیہ کے ہاتھ ان زبانوں کو پھسلن کی وجہ سے پکڑ نہیں پاتے اور انکا تف بے یقینی اور بغاوت کا زہر پھیلاتا چلاجاتاہے۔

پانامہ کیس سے لیکر جہانگیر ترین کی نااہلی اور اس دوران ان ہنگاموں میں رونما ہونے والے واقعات پر عدالتی کارروائیوں پرجو زبان درازی اور نفرت پھیلائی گئی ہے،سوشل میڈیا پر،جلسے جلوسوں میں،ٹی چینلوں پر ،کالموں میں،بازاروں میں .... اللہ معاف کرے ایسی دھول کسی معاشرے میں کہاں اڑائی جاتی ہوگی جیسی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اڑائی گئی ہے ۔اسی وجہ سے تو اب چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کو ایک بار پھر مائک پر،کیمروں کے روبرو ،کالے کوٹ والوں کی محفل میں کہنا پڑا ہے کہ جس کے خلاف فیصلہ آجائے وہ بابے کو گالیاں دیتا ہے۔چیف جسٹس نے کیا خوب ٹرم نکالی ہے۔ادبی اور علمی ذوق رکھتے ہیں،اس لئے مثالوں اور محاوروں سے بھی اپنا مدعا اور درد دل بیان کرتے ہیں ،یہ بابا عدلیہ ہے۔عدلیہ ایک بزرگ ہے جو گاو¿ں کے بابا رحمت کی طرح فیصلے کرتی ہے۔بقول چیف جسٹس بابے کو گا لیاں دی جارہی ہیں۔انہوں نے عدالتی نظام کی خامیوں کا خود بھی اعتراف کیا ہے لیکن وہ اس بات کو قبول کرنے کو تیار نہیں کہ کوئی اور عدلیہ پر اثراانداز ہوکر فیصلے کراتا ہے۔وہ موجودہ عدلیہ کو آزاد اور خود مختار سمجھتے ہیں ،ایسی ہی ایک بات ہائی کورٹ کے دبنگ جج شوکت عزیز صدیقی نے بھی پچھلے مہینے کی تھی کہ اب عدلیہ میں کوئی جسٹس منیر نہیں جو نظریہ ضرورت کے تحت فیصلے کرے گا۔ہائی کورٹ لاہور کے چیف جسٹس منصور علی شاہ سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار تک ماتحت عدلیہ کے ججوں نے بھی غیر معمولی طور پر جرات و بہادری سے بات کرنے اور ٹھوک بجا کر فیصلے کرنے کا جو عندیہ دے رکھا ہے ،اگر یہ سلسلہ میرٹ پرجاری رہتا ہے تو ایک آزاد اور خود مختار عدلیہ ہر کسی کو نظر آجائے گی اور کوئی عدالت سے باہر چینلوں اور سڑکوں پر عدالتیں نہیں لگائے گا۔اس کا اندازہ چیف جسٹس صاحبان کو بھی ہے کہ ان کے فیصلے وقت پر بولیں گے تو ان پر تہمتیں دھرنے والوں کی زبانیں بند ہوجائیں گی۔ان کو میڈیا پرسنز کی سرزنش کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔یہ بات چیف جسٹس سے چھپی ہوئی نہیں کہ عدالتی نظام کبڑا ہوچکا ہے،اسکی کمر پر لاکھوں مقدمات کا بھار ہے،اسے بابا رحمت کے ٹاوٹ بیٹوں کا بھی سامنا ہے....نظام عدل سے جڑے ہوئے قانون اور انصاف کے اداروں کی بدمعاشیوں کو بھی بھگتنا پڑتاہے.... بار کے اتھرے وکیلوں سے بھی لڑنا ہے اور سب سے بڑھ کر.... اس خفیہ ہاتھ کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالنا ہے جس کے شبہات میں عدلیہ کو بدنا م کیا جارہا ہے۔نظام کی اوپر سے نیچے تک اوورہالنگ ہی نہیں نئے سپیر پارٹس بھی بدلنے ہوں گے.... آزاد عدلیہ ہر کسی کا خواب ہے لیکن اسکی تعبیرکی راہ میں بڑی دلدلیں اور کھائیاں ہیں جنہیں جان سے گزرکر ہی عبور کیا جائے گا تو خواب پورا ہوگا........معاشرے میں استحکام پیدا کرنے کے لیے عدل وانصا ف اور سزا نہایت ضروری ہیں۔ اس کے بغیر معاشرہ جرائم اور منکرات سے پاک نہیں ہوسکتا۔ معاشرے کو برائیوں سے مبرا رکھنے کے لیے قانون وعدل نہایت ضروری ہیں۔لیکن اس سے بڑھ کرسب سے پہلے اعتماد اور یقین قائم کرنا ہوگا،بھروسہ پیداکرانا ہوگا۔ معزز جج صاحبان چاہیں تو یہ کام زیادہ مشکل نہیں.... نئی نسلکی جوڈیشری میرٹ اور جرات کی حامی ہے ،بس اس پر لگی رہے ،خود بھی بابا رحمت کی عزت کرے،آزاد عدلیہ سب کو نظر آجائے گی،پھر عدالتوں سے باہر عدالتیں بھی نہیں لگیں گے۔

۔۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...