چیف جسٹس ہائی کورٹ کی ہدایت پر ملتان کے وکلاءکے مسائل حل کردیئے گئے ،رجسٹرار نے موقع پر احکامات جاری کئے

چیف جسٹس ہائی کورٹ کی ہدایت پر ملتان کے وکلاءکے مسائل حل کردیئے گئے ،رجسٹرار ...
چیف جسٹس ہائی کورٹ کی ہدایت پر ملتان کے وکلاءکے مسائل حل کردیئے گئے ،رجسٹرار نے موقع پر احکامات جاری کئے

  


لاہور(نامہ نگارخصوصی )چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ کی ہدایت پر رجسٹرار سید خورشید انور رضوی نے جوڈیشل کمپلیکس میں سہولیات کے حوالے سے وکلاءکے تحفظات دور کردیئے ۔انہوں نے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ نئے جوڈیشل کمپلیکس کا دورہ کیا۔

اس موقع پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملتان، کمشنر ملتان، ڈپٹی کمشنر ملتان، آر پی او ملتان، سی پی او ملتان،ایگزیکٹو انجینئر(بلڈنگ )اور ملتان کے سینئروکلاءرہنما بھی ہمراہ تھے۔ رجسٹرار سید خورشید انور رضوی نے وکلاءکے مسائل سنے اور فوری طور پر احکامات جاری کئے، انہوں نے نئے جوڈیشل کمپلیکس میں ایک ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت کو لیڈیز بار روم میں تبدیل کرتے ہوئے تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی کا حکم دیا جبکہ بارروم میں کچن اور لیڈیز کامن روم کے لئے کمرے اور واش روم پہلے سے ہی موجود ہیں ۔لیڈیز بارروم کوفرنش کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ مزید برآں وکلاءکے بار روم کے لئے پہلے سے مختص جگہ میں وکلاءکے لئے مستقل چیمبرز بننے تک 5 ہزار مربع فٹ رقبہ پر عارضی فائبر سٹینڈ بنانے کا حکم دیا ہے۔ وکلاءچیمبرر کے کمپاﺅنڈکے مین گیٹ سے عارضی طور بنائے جانے والے وکلاءکے فائبر بار روم تک ٹف ٹائلز کی راہداری کا حکم دیا۔ سائلین کے بیٹھنے کے لئے فائبر کے سات شیڈز بھی بنانے کا حکم دیا گیا ہے، جن میں سے 4 فائبر شیڈز سول کورٹس، 2 ایڈیشنل ججوں کی عدالتوں کے سامنے اور ایک سیشن جج کی عدالت کے سامنے بنائے جائیں گے۔ ڈپٹی کمشنر ملتان نے رجسٹرار کو بتایا کہ وکلاءو سائلین کی سہولت کے تین روٹس پر وین سروس کے لئے روٹ پرمٹ بھی جاری کئے گئے ہیں، ان روٹس میں چوک کمہاراں براستہ کھاد فیکٹری تا نیو جوڈیشل کمپلیکس، چوک کمہاراں سے براستہ شمالی بائی باس نئے جوڈیشل کمپلیکس اور پرانی کچہری تا نیو جوڈیشل کمپلیکس شامل ہیں۔ اسی طرح لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ اور نئے جوڈیشل کمپلیکس سے میٹرو بس سروس تک کے لئے بھی سپیڈو فیڈر بسیں بھی چلنا شروع ہو گئی ہیں اور وکلاءچیمبرز سے لے کر سول کورٹس تک وکلاءکے شٹل بس سروس کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے۔ جوڈیشل کمپلیکس میں فوٹو کاپی بوتھ قائم کرنے کے لئے بھی چھ مقامات فراہم کئے گئے ہیں جبکہ عام عوام کے لئے دو مقامات پر کینٹین بنانے کی بھی منظوری دی گئی ہے ایک کینٹین سول کورٹس بلاک اور ایک ایڈیشنل سیشن کورٹس بلاک میں بنائی جائے گی۔ رجسٹرار ہائی کورٹ نے جوڈیشل کمپلیکس میں زیر تعمیر مسجد کی فوری تکمیل کا بھی حکم دیا مسجد میں ایک وقت میں لگ بھگ 500نمازی باجماعت نماز ادا کر سکتے ہیں، وکلاءراہنماوں نے نئے جوڈیشل کمپلیکس میں وکلاءو سائلین کے لئے بنیادی سہولیات کی فراہمی کو سراہا۔

مزید : لاہور


loading...