وکلاء برادری کو اپنی سمت درست کرنا ہو گی

وکلاء برادری کو اپنی سمت درست کرنا ہو گی

  



چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اسلام آباد میں فوری انصاف کی فراہمی سے متعلق قومی کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے خطاب کے دوران کہا کہ پی آئی سی واقعہ افسوس ناک اور قابل مذمت ہے،دل والے ہسپتال میں جو ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز اور وکیل دونوں ہی معاشرے کے باوقار پیشے ہیں،دونوں ہی پیشوں کے ساتھ گرانقدر روایات منسلک ہیں اور ان معززپیشوں سے تعلق رکھنے والوں کو خود احتسابی کے عمل سے گزرنا ہو گا۔تبدیلی وہی لوگ لاتے ہیں جو رسک لینے کو تیار ہوتے ہیں،جو کرنا ہے، بس کرجائیں، لوگ تنقید کرتے رہیں گے، آپ کی نیت صحیح ہونی چاہئے۔

یہ بات بالکل درست ہے کہ ڈاکٹر اور وکیل دونوں ہی باوقار اور معزز پیشے ہیں، ان پر داغ اور سوالیہ نشان تو ڈاکٹر اور وکلاء کے رویے لگا رہے ہیں۔ ڈاکٹر اور وکلاء کا تنازعہ کھڑا ہوا۔اس کے بعد صلح ہوئی،پھر ایک ڈاکٹر کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی،اس کے طنزیہ اور مزاحیہ لہجے کو بعض وکلاء نے اپنی ”عزت و غیرت“ پر حملہ سمجھا، بدلے کی آگ میں جل کر انہوں نے11دسمبر کو اخلاقیات کی تمام حدیں پھلانگتے ہوئے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر ہلہ بول دیا۔ اس دن کیا ہوا اور کیا نہیں، پوری دُنیا نے ٹی وی پر دیکھا، رہی سہی کسر سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیوز نے پوری کر دی،اِس لئے اب اس بحث میں نہیں پڑنا چاہئے اور نہ ہی اس سے کچھ حاصل ہو گا کہ اُس دن کیا ہوا تھا، اور کون کیا کرگذرا تھا۔یہ سانحہ اور اس کے بعد کے واقعات نے پوری قوم کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔

پی آئی سی کی او پی ڈی اور اِن ڈور سروسز تادم تحریر بند ہیں،آپریشن ملتوی کر دئیے گئے ہیں، انجیو گرافی، ایکو کارڈیوگرافی بھی نہیں ہو پارہی، اب دِل کو کوئی کیا بتائے کہ شہر کے حالات اچھے نہیں ہیں، لہٰذا معمول کے مطابق دھڑکنا جاری رکھے۔پولیس نے اگلے ہی روزپی آئی سی پر حملے میں ملوث 81 وکلا ء کو گرفتار کر لیا، ان میں سے46کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا، شادمان تھانے میں بھی 200-250 وکلاء کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج ہو گیا۔اس صورت حال پر وکلاء برداری سیخ پاہے۔ان کا خیال تھا کہ اس کارنامے پران کی پیٹھ ٹھونکی جائے گی، لہٰذا ”خلاف توقع“ سلوک پر انہوں نے جمعتہ المبارک کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر دیا۔پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین شاہنواز اسماعیل اور لاہور ہائی کورٹ بار کے سیکرٹری فیاض رانجھا کا مطالبہ ہے کہ وکلاء کو فوری رہا کیا جائے اور ایف آئی آر بھی خارج کر دی جائے،وکلاء حضرات نے تہیہ کیا ہے کہ جب تک پولیس کے زیر حراست ان کے ساتھیوں کو رہائی نہیں ملے گی، تب تک پنجاب میں ہڑتال جاری رہے گی۔ وہ اپنامطالبہ منوانے کے لئے عدالتوں کا بائیکاٹ کئے بیٹھے ہیں، عدالتوں کی کارروائی بھی شدید متاثر ہو رہی ہے، ہزاروں مقدمات کی سماعت نہ ہو پائی اور وکلاء کالی پٹیاں پہنے پھرتے رہے۔ ذرا سوچیں! اگر تمام تر ”زیادتیوں“ پر عام آدمی احتجاجاً کالی پٹی پہننا شروع کردے تو یہ اس کے لباس کا مستقل حصہ بن جائے گی یا پھر شاید لباس ہی کالا ہو جائے گا۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن،پاکستان بار کونسل، پنجاب بار کونسل،لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے مشترکہ اجلاس میں بھی وکلاکی ”آزادی‘‘ پر زور دیا گیا۔ سپریم کورٹ کے بعض سینئر ترین وکلاء نے پھر پی آئی سی پر حملے کی مذمت تو کی لیکن ساتھ ہی وکلاء کو معصوم قرار دینے کی بھرپور کوشش بھی کی۔ ان کے نزدیک سارا ملبہ وکلاء پر ڈالا جا رہا ہے حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے، حکومت نے معاملات کو سنجیدگی سے نہیں لیا، اگر وہ معاملہ حل کرا دیتی تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔ ان کے نزدیک تو وکلاء کو دہشت گردی کی عدالت میں پیش کرنا ان کی توہین کرنے کے مترادف ہے۔البتہ اعتزاز احسن اور بعض دوسرے قانون دانوں نے سخت الفاظ میں وکلاء کو آڑے ہاتھوں لیا تھا،جس پر انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس انوار الحق نے عدالت میں تنبیہہ کی، لیکن ان کے وکیل جناب اعظم تارڑمصر تھے کہ وکلاء کا اتنا قصور نہیں اور پولیس کو وکلاء کے ساتھ بدسلوکی کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا، جو کچھ وکلاء نے کیا وہ اس میں حق بجانب تھے؟

وکلاء کی تمام تر تنظیمیں برملا یہ تبصرہ کر رہی ہیں کہ وہ تو پُر امن احتجاج کے لیے اکٹھے ہوئے تھے، ڈاکٹروں کے رد عمل پر حالات خراب ہوئے۔ عرض یہ ہے کہ جتنا پُرامن احتجاج وہ کرنے جا رہے تھے، وہ سب ان کی ویڈیوز میں صاف جھلک رہا ہے، اس لئے یہ بحث فضول ہے۔ اور تو اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے سیکرٹری عمیر بلوچ نے پہلے عدالت کے تقدس کو بالائے طاق رکھا اور پھر کھلے عام میڈیا کو دھمکاتے نظر آئے، وکلاء کی تنظیمیں بھی میڈیا سے ناراض و نالاں ہیں،ان کا ”گلہ“ ہے کہ میڈیا نے جان بوجھ کر تصویر کا ایک ہی رُخ پیش کیا جو ان کی بدنامی کا باعث بنا۔عقل یہ بات سمجھنے سے قاصر ہے کہ تصویر کا وہ دوسرا رُخ کیا ہے،اور کہاں ہے جو ہسپتال پر حملے کا جواز بن جائے،اور مریضوں کی جان لے گذرے۔

اس وقت وکلاء حضرات کو اپنے رویے پر غور کرنے کی شدید ضرورت ہے،کہ پہلے چوری اور پھر سینہ زوری سے کام نہیں چلے گا،جو کچھ انہوں نے کیا اس کا جواز تلاش کرنا ممکن نہیں ہے، بہتر یہی ہے کہ اپنی غلطی تسلیم کریں اور قوم سے معافی مانگ لیں۔سب کو اپنی سمت درست کرنی چاہئے تاکہ ملک میں خود احتسابی کی روایت قائم ہو،اگر قانون کے رکھوالے ہی قانون کی دھجیاں بکھیرنے پر تل جائیں گے تو کارو بار ریاست کیسے چلے گا؟ بڑوں کا فرض ہے کہ چھوٹوں کی رہنمائی کریں، لیکن ان کو ہلّا شیری دینا کسی طور زیب نہیں دیتا۔وکلاء ہڑتال کر رہے ہیں،ان عدالتوں کا بائیکاٹ کر رہے ہیں جن کے دم ہی سے ان کا وجود ہے، عام شہریوں سے بد سلوکی کر رہے ہیں، ان سب سے کیا حاصل ہو گا؟ عوام میں مزیدمنفی جذبات ابھریں گے۔ کالی بھیڑیں ہر جگہ موجود ہوتی ہیں، لیکن انہیں شہہ دینے کی بجائے ان کی نشاندہی کر کے ان کی سرکوبی کا اہتمام کرنا چاہیے،اگر گندی مچھلی پورے تالاب کو آلودہ کرنے لگے تو اسے اُٹھا کر باہر پھینک دینا چاہئے۔اب بھی وقت ہے معاملات خوش اسلوبی سے طے کرکے معاشرے میں اپنی گرتی ساکھ کو سنبھال لیں،سینئر حضرات اپنی ساکھ اور عزت کو داؤ پر نہ لگائیں۔

مزید : رائے /اداریہ