فواد چودھری کے سنجیدہ مشورے!

فواد چودھری کے سنجیدہ مشورے!

  



وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد حسین چودھری نے غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو کے دوران اشارہ دیا ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے حوالے سے نظرثانی کی اپیل بھی کی جا سکتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ فیصلے میں سقم ہیں اور عدالت عظمےٰ پارلیمینٹ کو قانون سازی کا حکم نہیں دے سکتی۔ فواد حسین چودھری نے جو خود بھی پریکٹسنگ وکیل ہیں۔یہ بھی کہا ہے کہ آئینی اداروں کے درمیان ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، عدالت عظمےٰ، فوج، حکومت اور میڈیا کو بات چیت کر کے اپنے اپنے دائرہ کار کا تعین کر لینا چاہئے کہ کوئی بھی مداخلت برداشت نہیں کرتا اور ہر کوئی خود مختاری کا دعویدار ہے۔فواد حسین چودھری نے جب سے وزارت کا سنبھالا ہے وہ ”اینگری ینگ مین“ ہی نظر آئے۔ انہوں نے ابتدائی طور پر وزیر اطلاعات کے طور پر اپوزیشن کو جی بھر کر رگیدا اور وزارت کی تبدیلی کے بعد بھی تنقید کرتے چلے گئے۔قانون دان ہیں،اِس لئے قانونی نکات کی بھی بات کرتے رہے، تاہم اس انٹرویو میں وہ سنجیدہ نظر آئے اور سنجیدگی ہی سے تجویز بھی پیش کی،جہاں تک عدالت عظمےٰ کے فیصلے پر ان کا تبصرہ ہے تو تجزیہ کاروں اور سینئر قانون دانوں کے نزدیک یہ قبل از وقت ہے کہ عدالت عظمےٰ کے مختصر فیصلے کو سامنے رکھ کر کیا گیا،بہتر ہوتا کہ وہ تفصیلی فیصلہ آنے تک انتظار کر لیتے، جو بقول چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ 20دسمبر سے پہلے آ جائے گا کہ وہ خود ریٹائر بھی ہو رہے ہیں۔یہ بات درست بھی ہے،جہاں تک نظرثانی کی بات ہے تو یہ متاثرہ فریق کا حق ہے اور اس کے لئے ٹھوس وجوہات بھی ضروری ہیں اور پھر فیصلہ بھی عدالت ہی نے کرنا ہے،جہاں تک اس توسیع والے معاملے کا تعلق ہے تو سب پر عیاں ہو چکا کہ خود حکومتی قانونی ٹیم نے اسے ”مس ہینڈل“ کیا،ورنہ تو چودھری اعتزاز احسن بھی کہہ چکے کہ ترمیم کی ضرورت نہیں،بہتر ہوتا کہ چودھری اس وقت حکومتی ٹیم کو مشورہ دیتے جب وہ تیاری کر رہی تھی۔اب تو فیصلہ آنے کے بعد ہی کچھ ہو گا۔فواد حسین چودھری نے ڈائیلاگ کی جو بات کی ہے تو معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان اس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں،لیکن کیا یہ صرف عدلیہ، فوج،حکومت اور میڈیا والوں ہی کے درمیان ہونا چاہئیں۔وہ یہ کیوں نہیں سوچتے اور کہتے کہ زیادہ ضرورت تو حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کے درمیان رابطے اور ڈائیلاگ کی ہے کہ پارلیمینٹ ”تعلقات کار“ نہ ہونے کی وجہ سے بے عملی کا شکار ہے۔حکومت اور اپوزیشن کے ڈائیلاگ کا تو یہ عالم ہے کہ ابھی تک الیکشن کمیشن کے چیئرمین اور اراکین کے ناموں کا فیصلہ نہیں ہو سکا،حالانکہ یہ کوئی زیادہ مشکل کام نہیں ہے،رہ گئی یہ بات کہ عدالت پارلیمینٹ کو قانون سازی کے لئے حکم نہیں دے سکتی،بادی النظر میں یہ بھی درست نہیں، عدالت مجاز ہے اور پارلیمینٹ کو تجویز کر سکتی ہے۔بہرحال ان کا جذبہ درست نظر آتا ہے ان کو اب پہل حزبِ اقتدار کی طرف سے حزبِ اختلاف کے ساتھ مثبت ڈائیلاگ سے شروع کرنا چاہئے۔

مزید : رائے /اداریہ