مغرب میں ناموس قرآن و ناموس رسالت ؐ کا تحفظ (1)

مغرب میں ناموس قرآن و ناموس رسالت ؐ کا تحفظ (1)
مغرب میں ناموس قرآن و ناموس رسالت ؐ کا تحفظ (1)

  



ناروے کی اسلام دشمن تنظیم ”سیان“ ……Stop Islamisation in Norway…… کا یہ الزام غلط ہے کہ قرآن مجید پُر تشدد کتاب ہے اور جلانے کے لائق ہے۔ پادری ٹیری جونز نے بھی غلط الزام عائد کیا ہے کہ مَیں قرآن اس لئے جلا رہا ہوں،کیونکہ یہ یہودیوں اور عیسائیوں کا دشمن ہے۔ گیرٹ وائلڈرز نے بھی غلط الزام عائد کیا ہے کہ مَیں گستاخانہ خاکے اس لئے شائع کر رہا ہوں، کیونکہ مسلمانوں کے رسول (ﷺ) یہودیوں اور عیسائیوں کے دشمن ہیں۔ ہمارے لئے لمحہء فکریہ ہے کہ اہل مغرب کے الزام کی تردید کیسے کرنی ہے، اس کا سدباب کیا ہے اور ان واقعات کو کیسے روکا جا سکتا ہے کہ آئندہ ایسا نہ ہو؟ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم سوچ بچار کریں کہ اس سلسلے میں قرآن و حدیث کا وژن (دوربیں فراست) کیا ہے؟ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اہل مغرب کو آگاہ کریں کہ قرآن پُر تشدد کتاب نہیں، قرآن یہودیوں اور عیسائیوں کا دشمن نہیں، بلکہ قرآن یہودیوں اور عیسائیوں کے بنیادی عقائد کی اصلاح کرنا چاہتا ہے۔

ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اہل مغرب (اہل کتاب) کو آگاہ کریں کہ قرآن کریم میں اہل کتاب سے متعلق اللہ تعالیٰ کا پہلا فلسفہ کیا ہے اور اہل کتاب سے متعلق اللہ تعالیٰ کا دوسرا فلسفہ کیا ہے؟ اہل کتاب سے متعلق اللہ تعالیٰ کا پہلا فلسفہ تو یہ ہے کہ "اے مسلمانو!یہودو نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ، وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جو کوئی اُن سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے ……(سورہئ مائدہ آیت نمبر51) ……ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اہل کتاب کو آگاہ کریں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم صرف اُس اہل کتاب (یہودی +عیسائی) کے لئے ہے جو مسلمانوں کا دوست نہیں اور وہ پانچ بنیادی عقائد میں سے کسی ایک عقیدے کا انکار کرتا ہے، کیونکہ قرآن حکیم میں فرمان باری تعالیٰ ہے:”اور جو انکار کرے اللہ کا اور اُس کے فرشتوں کا اور اُس کی کتابوں کا اور اُس کے رسولوں کا اور یوم آخرت کا تو وہ ضرور دور کی گمراہی میں پڑا“……سورۃئ النساء آیت نمبر136۔

ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اہل مغرب (اہل کتاب) کو آگاہ کریں کہ قرآن کریم میں اہل کتاب سے متعلق اللہ تعالیٰ کا دوسرا فلسفہ یہ ہے ……”(اے نبیؐ) آپ مسلمانوں کی دوستی میں سب سے زیادہ قریب ان کو پاؤ گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ یہ اس لئے کہ ان میں پادری اور راہب ہیں اور یہ غرور نہیں کرتے“…… (سورہئ مائدہ آیت نمبر82) ……ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اہل کتاب کو آگاہ کریں کہ مسلمانوں کا دوست صرف وہ اہل کتاب ہے جو مسلمانوں کی مانند پانچ بنیادی عقائد، یعنی: 1۔ اللہ پر 2۔ اُس کے فرشتوں پر 3۔ اُس کی کتابوں پر 4۔ اُس کے رسولوں پر 5۔ یو م آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ مسلمانوں اور اہل کتاب اقوام کے درمیان مشترک پانچ بنیادی عقائد پر ایمان لانا ہی بین المذاہب ہم آہنگی (Interfaith Harmony)ہے۔ مسلمانوں اور اہل کتاب اقوام کے درمیان مذہب کی بنیاد پردوستی کی بھی یہی علامت ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اہل مغرب (اہل کتاب) کو آگاہ کریں کہ قرآن مسلمانوں اور اہل کتاب کو اشتراک عقائد کی بنیاد پر مل جل کر رہنے کی ہدایت کرتا ہے۔

ہمارے پیارے رسولؐ نے عیسائی بادشاہوں کے نام خط میں بھی اسی قرآنی آیت کا حوالہ دیا تھا: ”اے اہل کتاب!جو بات ہم دونوں میں متفق علیہ ہے آؤ، اس پر مل کر عمل کریں۔ یہ کہ اللہ کے سوا ہم کسی کی عبادت نہیں کریں گے،اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور ہم میں سے کچھ لوگ کچھ دوسرے لوگوں کو اللہ کے سوا پالن ہار نہیں سمجھیں گے“ …… (سورہئ آل عمران آیت نمبر64)ء …… ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اہل مغرب کو آگاہ کریں کہ قرآن حکیم میں مذہبی عبادت گاہوں کے احترام میں ایک ایسا اشارہ بھی ملتا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عبادت گاہیں خواہ مسلمانوں کی ہوں یا غیر مسلموں کی، سب کی سب یکساں محترم ہیں، مگر فائد ہ صرف اُس عبادت گزار کو ہوگا جو پانچ بنیادی عقائد پر ایمان رکھتا ہے۔ قرآن حکیم میں فرمان باری تعالیٰ ہے: ”اور اللہ اگر آدمیوں میں ایک کو دوسرے سے دفع(دور) نہ فرماتا تو ضرور گرا دی جاتیں خانقاہیں اور گرجے اور کلیسے اور مسجدیں، جس میں اللہ تعالیٰ کا بکثرت نام لیا جاتا ہے“……(سورۃ الحج آیت نمبر40)…… ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اہل مغرب کو آگاہ کریں کہ درج ذیل قرآنی آیات صرف اُن اہل کتاب کے لئے ہیں جو پانچ بنیادی عقائد پر ایمان رکھتے ہیں:

1۔قرآن حکیم میں فرمان باری تعالیٰ ہے: ”انجیل والوں کو چاہیے کہ اس چیز کے مطابق احکام دیا کریں جو اللہ نے انجیل میں نازل کی ہے“…… (سورۂ مائدہ آیت نمبر47)۔

2۔قرآن حکیم میں فرمان باری تعالیٰ ہے: ”ہم نے تم سب کے لئے ایک ایک شریعت اور راستہ بنایا اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی اُمت بنا دیتا، مگر منظور یہ ہے کہ جو کچھ تمہیں دیا، اُس میں تمہیں آزمائے تو بھلائیوں کی طرف سبقت چاہو، تم سب کا پھرنا اللہ ہی کی طرف ہے تو وہ تمہیں بتا دے گا جس بات میں تم جھگڑتے تھے“…… (سورہئ مائدہ آیت نمبر48)۔

3۔قرآن حکیم میں فرمان باری تعالیٰ ہے: ”اے نبی ؐ!آپ فرما دیجئے!اے اہل کتاب!تم کچھ بھی نہیں ہو جب تک نہ قائم کرو تورات کو اور انجیل کو اور جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اُترا۔ اور بے شک (اے پیغمبرؐ) وہ جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اُترا، اس سے اُن میں بہتوں کو شرارت اور کفر میں اور ترقی ہو گی تو تم کافروں کا کچھ غم نہ کھاؤ“ …… (سورہئ مائدہ آیت نمبر68)۔

4۔قرآن حکیم میں فرمان باری تعالیٰ ہے: ”بے شک مسلمان (اہل قرآن) اور یہودی (اہل تورات) اور صابی (اہل زبور) اورعیسائی (اہل انجیل)، ان میں سے جو کوئی ایمان لائے اللہ پر اور یوم آخرت پر اور اچھے کام کرے تو نہ ان پر کچھ اندیشہ ہے اور نہ کچھ غم“……(سورہئ مائدہ آیت نمبر69)۔

5۔قرآن حکیم میں فرمان باریٰ تعالیٰ ہے: ”سب ایک سے نہیں اہل کتاب میں، کچھ وہ ہیں کہ حق پر قائم ہیں،۔ اللہ کی آیتیں پڑھتے ہیں، رات کی گھڑیوں میں اور سجدہ کرتے ہیں۔ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں اور بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہیں اور نیک کاموں پردوڑتے ہیں اور یہ لوگ صالح ہیں۔ اور وہ جو بھلائی کریں، اُن کا حق نہ مارا جائے گا اور اللہ کو معلوم ہیں ڈر والے“…… (سورہئ آل عمران آیات نمبر113تا115)۔

قرآن اللہ کا کلام ہے اور ایک معجزہ ہے، کیونکہ اس کی آیات الزام عائد کرنے والوں کو عاجز کر دیتی ہیں۔ ہم ان شاء اللہ اہل مغرب کو استدلال اور موثر حکمتِ عملی سے جواب دیں گے اور یقینا پادری ٹیری جونز جیسے لوگ، جو یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ قرآن یہودیوں اور عیسائیوں کا دُشمن ہے، عاجز ا ٓ جائیں گے۔ (جاری ہے)

مزید : رائے /کالم