ریاست مدینہ اور اسلامی شعائر

ریاست مدینہ اور اسلامی شعائر
ریاست مدینہ اور اسلامی شعائر

  



حکومت آئین پاکستان کے منافی اقدامات سے گریز کرے۔اسلامی تہذیب و تمدن، ملک و ملت کی بقاء اور نوجوانوں کے بہتر مستقبل کی ضامن ہے۔سنیما گھروں کی جگہ تعلیمی ادارے بنائے جائیں۔آرٹ کونسل میں رقص کی اجازت دینے کی بجائے، ہم نصابی سرگرمیوں کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ اسلامی شعائر کے منافی اقدامات کسی طور پر قابلِ قبول نہیں۔ ریاستِ مدینہ کا نام لے کر ”ثقافتِ مدینہ“ کے منافی پالیسیاں تشکیل دینے سے گریز کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے قائدین مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر، مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی، مولانا انوار الحق، مولانا محمدحنیف جالندھری، مولانا قاضی عبدالرشید، مولانا امداد اللہ، مولانا سعید یوسف، مولانا حسین احمد، مولانا زبیر صدیقی، مولانامفتی صلاح الدین ایم این اے، مولانا اصلاح الدین اور دیگر نے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاق المدارس کے قائدین نے کہا کہ سکولوں سے داڑھی اور پردے کے خلاف اقدامات انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہیں۔

یہ بات انتہائی خوش آئند ہے کہ ”ریاستِ مدینہ“ بنانے کے لئے،”ثقافتِ مدینہ“ اور ”اسلامی تہذیب“ کو اولیت دی جانی چاہیے۔ وفاق المدارس کے قائدین نے، اس طرف توجہ مبذول کرائی ہے کہ قانون سازی کرتے وقت، ”آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان“ میں بے شمار شقیں ایسی موجود ہیں، جن کی روشنی میں ہماری ”ثقافت“ کو بھی ”اسلامی رنگ“ میں رنگنا چاہیے، جبکہ اسی آئین کے تحت ”اسلامی نظریاتی کونسل“ بھی موجود ہے، جس کی پرائمری اور لازمی ذمہ داری یہی ٹھہرائی گئی ہے کہ کوئی بھی قانون ”قرآن و سنت“ کی تعلیمات کے خلاف نہیں بنایا جائے گا۔ آئین کا آرٹیکل 2-A اسی بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ قرآن و سنت کی تعلیمات کے خلاف قانون سازی نہیں کی جائے گی۔ ہم متعدد بار اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ اگر اسی ایک جملے کی عبارت، اگر اس صورت میں ہو کہ ہر ایک قانون،قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق بنایا جائے گا تو پھر کسی بھی صورت میں قانون سازی قرآن و سنت کے خلاف نہیں کی جا سکے گی، کیونکہ اس مسودۂ قانون کو پہلے اسلامی نظریاتی کونسل ملاحظہ کرے گی، جس میں ملک بھر سے مختلف مکاتب فکر کے علمائے اکرام موجود ہیں، اس کے بعد معاملہ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔

اس چھوٹی سی بات کی بدولت، علمائے کرام اور عوام، سب مطمئن ہوں گے، کیونکہ ہر قانون، قرآن و سنت (یعنی شریعت اسلامی) کے مطابق ہو گا۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے علاوہ شریعت کورٹ بھی موجود ہے۔ اگر کوئی چھوٹی موٹی خامی، قانون سازی میں رہ بھی جائے گی تو اس کے ازالے اور اس کو صحیح شرعی قانون بنانے میں شریعت کورٹ کی طرف رجوع کیا جا سکے گا۔ سود کا معاملہ جو سپریم کورٹ آف پاکستان میں پڑا ہے، اس کیس کو اٹھانا چاہیے اور وہ بھی اولین ترجیح کے طور پر کہ شائد اس سے بہتر اور کوئی موقع نصیب ہو نہ ہو۔ سود لینا دینا، سودی کاروبار کرنا تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کھلی جنگ ہے۔اتنے کبیرہ گناہ کا ارتکاب ہوتا رہے اور ایمان والا خاموشی سے بیٹھا رہے، یہ کیسے ممکن ہے؟ ملت اسلامیہ کی بقاء اسی میں ہے کہ اس ”لعنت“ سے جلد از جلد چھٹکارا حاصل کیا جائے اور علمائے کرام کی خدمات لی جائیں، تاکہ وہ اس کا متبادل اسلامی نظام معیشت پیش کریں …… اور اس کے مطابق قانون سازی کی جائے۔

یاد رہے! ”ریاست مدینہ“ اور ”ثقافتِ مدینہ“ لازم و ملزوم ہیں۔ پاکستان کو جب ہم اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی سعی و کوشش کر رہے ہیں اور موجودہ وزیراعظم اس بات کا عزم کئے ہوئے ہیں کہ وہ تمام اسلامی اقدامات جو ریاست مدینہ بنانے کے لئے کرنے پڑے کریں گے، سب سے پہلا کام جو وزیراعظم نے شروع کیا ہے کہ وہ رشوت ستانی اور منی لانڈرنگ کو جڑ سے اکھاڑ کر رکھ دے گا۔ یہ نہایت ہی خوش آئند بات ہے کہ اس مہم کا آغاز روز اول سے ہی شروع کیا گیا ہے اور دھیرے دھیرے اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے، امید واثق ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت سے اس میں وہ سرخرو ہوں گے اور پاکستان معاشی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل ہو جائے گا، ذہنی غلامی سے نجات حاصل ہو گی اور قومی سوچ ”آزادی کی فضا“ میں پروان چڑھے گی۔ یاد رہے! ذہنی غلامی میں، قومی سوچ آزاد نہیں ہوتی، اس پر کئی ایک قدغنیں لگی ہوتی ہیں اور نہ ہی کوئی غلام ذہن اپنی سوچ و فکر میں آزاد ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں قومی ترقی کی راہیں مسدود ہو جاتی ہیں۔ ذہنی آزادی ہی نئے رجحانات اور نئی تحقیقات کا باعث بنتی ہے۔ اسی سے ایجادات کے دروازے کھلتے ہیں۔

علمائے کرام کی یہ تجویز کہ سنیما گھروں کی جگہ تعلیمی ادارے بنائے جائیں اور آرٹ کونسل میں رقص کی اجازت دینے کی بجائے، ہم نصابی سرگرمیوں کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ ہم ان تجاویز کے ساتھ سو فیصد اتفاق کرتے ہیں کہ سنیما گھروں کو تعلیمی اداروں میں بدلا جائے اور آرٹ کونسل کو لائبریری کی شکل دی جائے، تاکہ نئی نسل کے ہاتھ میں کتاب ہو اور کتاب سے علم کا حصول ممکن ہو۔ کتاب سے محبت گویا اسلامی ثقافت کی روح ہو۔ یقینا آپ سبھی نے مسجد نبویؐ میں بھی ایک بہت بڑی اور خوبصورت لائبریری دیکھی ہو گی، جس میں ہر طرح کا لٹریچر موجود ہے۔ دین اسلام کے بارے میں بھی اور عصری علوم کے بارے میں بھی۔ دین اسلام تو تمام علوم کا احاطہ کرتا ہے۔ دنیا کا کوئی بھی علم یا فن ہو، اس کی اصل تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر31کو ملاحظہ فرمائیں گے تو وہاں پر ”علم الاسماء“ کا ذکر ہے اور یہ ان تمام علوم و فنون کا احاطہ کرتا ہے،جن کا قیامت تک ظہور ہو گا۔ ”قرآن حکیم“ کا علم ”وحی“ کے ذریعے نجماً نجماً آپؐ پر اترا اور دین اسلام کی تکمیل ہو گئی۔

اعلان ہوا کہ دین کی تکمیل ہو گئی ہے…… ترجمہ:”گویا دین اسلام ہی اللہ تعالیٰ کو پسند ہے“…… ”رحمن“ نے یہ دونوں علوم، حضرت آدم علیہ السلام کو ودیعت کئے،پھر دنیا میں دھیرے دھیرے، ان کا ظہور ہوا۔ سورۃ الرحمن کی پہلی و دوسری آیت الرحمن و علم القرآن، یعنی رحمان نے قرآن کا علم سکھایا۔ تمام علوم کا منبع تو اللہ تعالیٰ کی ہی ذات ہے، لہٰذا اس کی تعلیمات کو آپؐ کی تعلیمات کی روشنی میں اپنا اوڑھنا بچھونا بنانا ہی دنیا و آخرت کی کامیابی کی کلید ہے۔ یقینا نوجوان نسل ہر قوم کا مستقبل ہوا کرتی ہے۔ ان کو صحیح راستے پر لگانا، ان کی صحیح سرگرمیوں میں مصروف رکھنا…… یہ ”فلاحی ریاست“ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے،خاص طور پر اسلامی فلاحی ریاست یا مدینہ کی ریاست کی یہ روح ہے۔

یاد رہے! روح کے بغیر جسم بیکار ہوتا ہے۔ روح نہ ہو تو ہاتھ پکڑ نہیں سکتا، پاؤں چل نہیں سکتا، آنکھ دیکھ نہیں سکتی، زبان بول نہیں سکتی اور دماغ سوچ نہیں سکتا۔ یہ روح ہی ہے جو تمام جسم کو لئے پھرتی ہے اور روح تو اللہ کا امر ہے۔ اسی طرح اللہ کے امر کو پورا کرنا ہے۔ آئین پاکستان کے منافی اقدامات سے گریز کرنا ضروری ہے۔ اسلامی تہذیب و ثقافت کو فروغ دینا ہے۔ ملک و ملت کی بقاء کے لئے نوجوانوں کی بہتر اسلامی خطوط پر تربیت کرنا ہے۔ تعلیم و تربیت دونوں ساتھ ساتھ چلیں گے، تاکہ دل میں ایمان اور ہاتھ میں ہنر ہو گا، کیونکہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔ گویا دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے افضل ہوتا ہے۔ اس سے ذہنی غلامی سے چھٹکارا حاصل ہو گا اور ذہنی آزادی کے ساتھ…… دنیا و آخرت کی ابدی کامیابی نصیب ہو گی۔دعا ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین!

مزید : رائے /کالم