مدینہ کی ریاست یابنانا ریپبلک!

مدینہ کی ریاست یابنانا ریپبلک!
مدینہ کی ریاست یابنانا ریپبلک!

  



مدینہ کی ریاست بنانے کا دعویٰ ہے، لیکن جس تیزی سے ملک کو بنانا ریپبلک بنایا جا رہا ہے، عوام کا اس کھوکھلے دعوے سے اعتبار اٹھتا جا رہا ہے۔ جو حکومت ایک سال میں سود پر 16 ہزار ارب روپے قرضہ لے کر قرضوں کے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ چکی ہو، وہ کیسے مدینہ کی ریاست کا مقدس نام لے سکتی ہے؟۔ پوری دنیا میں کشکول لے کر پھرنے کے بعد آئی ایم ایف کے در پر سجدہ ریز ہونے کے باوجود عوام کا کوئی پرسان حال نہ ہو، کاروبار ہو،نہ روزگار، بلکہ پہلے سے برسر روزگار لاکھوں لوگ نوکریوں سے فارغ ہو چکے ہوں، مہنگائی بیس سالہ ریکارڈ توڑ چکی ہو،جو سرکار کے اپنے مطابق 14 فیصد، لیکن ماہرین کے مطابق 20 فیصد سے بھی زیادہ ہو،اقتصادی ترقی کی شرح آدھی سے بھی کم رہ گئی ہو، بجلی اور گیس کی قیمت میں کئی سو فیصد اضافہ اور گھروں کے چولہے بجھ چکے ہوں، عوام کی جان و مال ڈاکووں، مسلح جتھوں اور شرپسند عناصر کے رحم و کرم پر ہو، ایسی حکومت جسے نہ معیشت کا پتہ ہو،نہ گورننس کا، جو نہ قانون سازی کر نے کے قابل ہو اور نہ ان کے پاس ایسے لوگ ہوں جو انہیں بتا سکیں کہ ریاست مدینہ کیسی تھی؟…… جو ہر جگہ میرٹ کی بجائے اپنے منظور نظر لوگوں کو لگا رہی ہو، جہاں عوام سے روٹی، مریضوں سے علاج اور طالب علموں سے تعلیم کی سہولتیں چھینی جا رہی ہوں، جہاں ملک کے مختلف حصے انارکی کا شکار ہوں اور جہاں مائیں اپنے بچوں کو تبدیلی کا نام لے کر ڈراتی ہوں، وہ مدینہ کی ریاست نہیں ہو سکتی۔ سیاسی مقاصد کے لئے آقائے دو عالمﷺ کا نام لینا ہی انتہائی قبیح فعل ہے۔ یہ بنانا ریپبلک نہیں ہے تو پھرکیا ہے؟

دنیا کی تاریخ میں کسی بھی ملک کے کسی ہسپتال پر آج تک کسی مسلح جتھے کی طرف سے منظم حملہ نہیں ہوا تھا،جیسا کہ پہلی بار لاہورمیں واقع امراض قلب کے ہسپتال پی آئی سی پر ہوا۔ اگر ہوتا بھی تو کسی بنانا ریپبلک میں ہی ہوا ہوتا، لیکن اب یہاں ہو چکا ہے۔یہ بنانا ریپبلک نہیں ہے تو کیا ہے، جہاں ایک بڑا جتھہ مسلح ہو کر اعلانیہ ایک ہسپتال پر حملہ کرنے کے لئے روانہ ہوا اور دو گھنٹے میں وہاں پہنچا۔ اس جتھے کا حملہ کئی گھنٹے جاری رہا، لیکن پولیس یا قانون نافذ کرنے والا کوئی ادارہ دور دور تک نظر نہیں آیا۔ اس حملے میں کئی لوگ جان سے گئے اور درجنوں زخمی ہوئے، لیکن پتہ نہیں پولیس کہاں غائب رہی۔ معلوم نہیں کیساحسن اتفاق ہے کہ پنجاب میں پولیس کے نئے آنے والے سربراہ کے ابتدائی دنوں میں ہی ایک بڑا واقعہ پیش آتا ہے۔ پنجاب کے نئے آئی جی ڈاکٹر شعیب دستگیر کے آتے ہی یہ حملہ ہوا۔ماضی میں دیکھاجائے تو 2014ء میں جس دن نئے آئی جی مشتاق سکھیرا نے چارج لیا تھا، اسی دن سانحہ ماڈل ٹاؤن پیش آیا تھا۔ اس سے بھی پیچھے چلے جائیں تو 1991ء میں سردار محمد چودھری کے آئی جی کا چارج سنبھالتے ہی اسلام پورہ میں ایک ہی خاندان کے تیرہ لوگوں کا سفاکانہ قتل ہوا تھا۔ خیر، پی آئی سی حملے کے اگلے روز ملک کے وزیر اعظم نے صوبے کے وزیر اعلی کی عمدہ ہینڈلنگ کی بہت تعریف کی اور کہا کہ حکومت کی عمدہ حکمت عملی کی وجہ سے کم نقصان ہوا، ورنہ اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔ یہ ایسے ہی ہے کہ کسی حادثے میں ایک درجن لوگ مر جائیں تو کہا جائے کہ شکر کریں، ایک درجن ہی مرے، ورنہ تین درجن بھی مر سکتے تھے۔ ویسے جس ہسپتال پر یہ حملہ ہوا، اس کے بالکل ساتھ ہی دماغی امراض کا ہسپتال بھی ہے، جسے لاہور والے عام طور پر پاگل خانہ کہتے ہیں۔

بنانا ریپبلک کی اصطلاح سب سے پہلے مشہور امریکی ادیب ولیم سڈنی پورٹر(جو اولیور ہنری کے قلمی نام سے لکھتے تھے) نے 1901ء میں اپنے ناول Cabbages And Kings میں استعمال کی تھی۔ اب ایک صدی سے زیادہ ہو گیا ہے، بنانا ریپبلک سیاسیات میں ایسے ملک کو کہتے ہیں، جہاں کی ناکام اور نااہل حکومت کی وجہ سے سیاست، معیشت اور گورننس سمیت ملک کے تمام سسٹم فیل ہو چکے ہوں۔ وہاں فیصلوں کا اختیار چند طاقتور لوگوں کے پاس چلا جاتا ہے جس کی وجہ سے نظام حکومت میں عوام کے منتخب نمائندوں کی حیثیت صرف دکھانے کے دانتوں جیسی رہ جاتی ہے، جبکہ طاقتور اشرافیہ کے پاس کھانے کے اصل دانت ہوتے ہیں۔ ملکی وسائل پر چند بڑے کھرب پتیوں کا قبضہ ہوتا ہے اور جن کی مرضی سے معیشت، سیاست اور نظام عدل چلتا ہے۔ عوام کی حالت تو کوڑھ کے مریضوں سے بھی بدتر ہوتی جاتی ہے۔ اپنے ارد گرد نظر دوڑانے سے کیا یہی سب کچھ نظر نہیں آ رہا؟ اور اگر نظر آرہا ہے تو پھر یہ بنانا ریپبلک نہیں ہے تو اور کیا ہے؟

جب ملک آئی ایم ایف جیسے عالمی ساہوکار کے شکنجے میں اس طرح سے جکڑ دیا جائے کہ عوام کی ہڈیوں میں سے گودا تک نکال لیا جائے اور انہیں بھوک، ننگ اور افلاس سے تڑپتے رہنے دیا جائے تو سر پھٹول کے علاوہ اور کیا مناظر نظر آ سکتے ہیں؟ بھوک، غربت اور بے روزگاری کے ننگے ناچ میں لوگ ایک دوسرے کا گریبان پکڑیں گے اور اگر تن کے کپڑے بھی اتر چکے ہوں تو سر بھی پھوڑیں گے۔ دوسری طرف ملک کے قیمتی وسائل، اثاثے، عہدے اور اختیارات قریبی دوستوں کے حوالے کر دئیے جائیں، جو سات سمندر پار سے آئے ہی مال غنیمت اکٹھا کرنے ہوں تو ملک عشروں اور سالوں میں نہیں بلکہ مہینوں میں بنانا ریپبلک بن جاتا ہے۔ ولیم سڈنی پورٹر کا 118 سال پہلے شائع ہونے والا ناول پڑھیں تو لگتا ہی نہیں کہ بات لاطینی امریکہ میں واقع ملک ہونڈراس کی ہو رہی ہے۔ ناول میں اس زمانے کے ایسے ہونڈراس کا ذکر ہے، جہاں جرنیلوں نے کٹھ پتلی سیاست دانوں پر مشتمل ایک حکومت بنا رکھی ہے جو دنیا کو دکھانے کے لئے ہے، جبکہ اصل میں ملک وہ چلا رہے ہوتے ہیں اور پورا سیاسی و انتظامی ڈھانچہ امریکی حکومت اور اداروں کی مونگ پھلی جیسی مالی مدد کا محتاج ہوتا ہے۔ اس ناول میں ولیم سڈنی پورٹر عوام الناس کی غربت و افلاس اور ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام کی بھرپور منظر کشی کرتا ہے۔ ملک میں بد امنی عروج پر ہوتی ہے اور حکمرانوں کی نااہلی اور کرپشن اس سے بھی زیادہ عروج پر۔ ملک کی وزارتیں، سفارتیں اور عہدے صرف منظور نظر لوگوں کو ہی ملنے ہیں۔

ہمارے ہاں منظور نظرافراد کو نوازنے کا یہ حال ہے کہ فارن فنڈنگ کیس الیکشن کمیشن میں ہونے کے باوجود اپنی پارٹی کے فنانس سیکرٹری سردار اظہر طارق خان کو کرغزستان میں سفیر لگایا گیا ہے۔کرپشن کا یہ عالم ہے کہ پشاور بی آر ٹی منصوبہ 25 ارب سے بڑھ کر 125 ارب ہو جانے کے باوجود سڑکوں پر کھدے کھڈوں سے آگے نہ بڑھ رہا ہو اور اب انتہائی سادگی سے یہ کہا جا رہا ہے کہ غلطی ہو گئی۔ اربوں کی کرپشن پر غلطی نہیں ماننا ہوتی، بلکہ ذمہ داروں کو گرفتار کرکے سزا دینا ہوتی ہے۔ مالم جبہ اور خیبر پختون خوا کے چپے چپے پر کرپشن کی داستانیں رقم ہیں لیکن احتساب کمیشن کو تالہ لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔ ویسے دیکھا جائے تو ایک ناول میں استعمال ہونے والی اصطلاح پچھلے سو سالوں میں سیاسیات میں بہت مقبول ہوئی۔ اپنے ارد گرد نظر دوڑانے سے کیا یہی سب کچھ نظر نہیں آ رہا؟ اور اگر نظر آرہا ہے تو پھر یہ بنانا ریپبلک نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ عمران خان کا وعدہ تھا کہ وہ ایک کروڑ لوگوں کو نوکریاں دیں گے، کم آمدنی والے لوگوں کو پچاس لاکھ گھر دیں گے اور کسی صورت میں بھی آئی ایم ایف میں نہیں جائیں گے، بلکہ آئی ایم ایف جیسے عالمی ساہوکار کے پاس جانے کی بجائے وہ خود کشی کو ترجیح دیں گے۔ ظاہر ہے آئی ایم ایف میں جانے سے نئی نوکریوں والا معاملہ تو خود بخود ختم ہو جاتا ہے، کیونکہ وہاں سے قرضہ ملتا ہی کڑی شرائط پر ہے جس کی وجہ سے چند ارب پتی، کھرب پتی اداروں کے علاوہ باقی زیادہ تر کے کاروبار ٹھپ ہو جاتے ہیں اور نئی نوکریاں دینا تو کجا، پرانی بھی زیادہ تر جاتی رہتی ہیں۔

جب سے عمران خان کی حکومت آئی ہے، لاکھوں لوگوں کو نوکریوں سے نکالا جا چکا ہے اور اس تعداد کا تخمینہ پندرہ لاکھ سے پچیس لاکھ تک بتایا جاتا ہے۔ پاکستان چونکہ آبادی اور افراط زر پر کنٹرول نہیں کر سکا،اس لئے بے روزگاروں کی تعداد میں دن دوگنی اور مہنگائی کے عذاب میں رات چوگنی ترقی ہو رہی ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہونے کا بہت ڈھول پیٹا جاتا ہے، یہ شائد ختم بھی ہو گیا ہے، لیکن اس کی قیمت کیا ادا کرنا پڑ رہی ہے یہ خسارہ درآمدات کو اتنا کم کرکے کیا گیا ہے کہ ملک میں پیداواری عمل تقریباً رک گیا ہے۔ پیداواری عمل رکنے کا مطلب مزید بے روزگاری اور مہنگائی سے ایسا لگتا ہے کہ پانچ سال میں ایک کروڑ نئی نوکریا ں ملنے کی بجائے ایک کروڑ پرانی نوکریاں ختم ہوں گی اور یہ تمام لوگ سڑکوں پر ہوں گے۔تیزی سے تباہ ہوتے پاکستان کے حالات دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ پشاور میٹرو کی طرح ایک دن یہ کہہ کر اچانک حکومت نہ چھوڑ دی جائے کہ غلطی ہو گئی۔ لیکن حکمرانوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جب وہ ایسی کوشش کریں گے تو انہیں فرار کا موقع بھی نہیں مل سکے گا۔ انہیں مدینہ کی ریاست جیسا مقدس نام استعمال کرنے کی بجائے اپنی نااہلی تسلیم کر لینی چاہئے۔ حکومت چلانا ان کے بس میں نہیں تو بار بار ریاست مدینہ کا نام نہ لیں، کیونکہ انہیں اس لئے سلیکٹ نہیں کیا گیا تھا کہ وہ ملک کو بنانا ریپبلک بنا دیں۔ اپنے ارد گرد نظر دوڑانے سے کیا یہی سب کچھ نظر نہیں آ رہا؟ اور اگر نظر آرہا ہے تو پھر یہ بنانا ریپبلک نہیں ہے تو اور کیا ہے؟

مزید : رائے /کالم