سانحہ پی آئی سی:کیا پنجاب حکومت بری الذمہ ہے؟

سانحہ پی آئی سی:کیا پنجاب حکومت بری الذمہ ہے؟
سانحہ پی آئی سی:کیا پنجاب حکومت بری الذمہ ہے؟

  



میڈیا اور مبصرین کہہ رہے ہیں کہ سانحہئ پی آئی سی گورننس کی ناکامی ہے، جبکہ وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت ِ پنجاب کی بہتر حکمت عملی کے باعث زیادہ نقصان نہیں ہوا،وگرنہ تو منصوبہ ساز سانحہئ ماڈل ٹاؤن کو دہرانا چاہتے تھے۔ اب یہ اپنی اپنی منطق ہے۔ پنجاب حکومت کو جو صفر نمبر دینا چاہتے ہیں،اُن کے پاس بھی دلائل ہیں اور جو پورے سو نمبر دے کر پاس کرنا چاہتے ہیں،وہ بھی بھرپور دلائل رکھتے ہیں۔قصہ مختصر یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپنے وسیم اکرم پلس کے بارے میں کوئی نامناسب بات نہیں سننا چاہتے، چاہے پہاڑ ہی کیوں نہ ٹوٹ پڑے۔البتہ یہ کریڈٹ تو عثمان بزدار کو جاتا ہے کہ اُن کی حکومت میں وکلاء پر دہشت گردی کے پرچے درج ہوئے،

انہیں ہتھکڑیاں لگیں،انہیں چہرے پر ماسک پہنا کر دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا اور مصلحت سے کام لینے کی بجائے پوری قانونی طاقت سے اس سانحہ کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا رہا ہے،وگرنہ پہلے کہاں ایسا ہوتا تھا؟……وکلاء گردی کے تو درجنوں واقعات ہو چکے ہیں،ہر واقعہ کے بعد پولیس یا مدعی کو ہی معافی مانگنا پڑتی تھی،کئی واقعات میں تو ضلعی پولیس افسر بار روم میں معافی مانگنے پر مجبور ہوتے رہے،حتیٰ کہ ججوں پر حملے میں بھی ججوں ہی کو صلح صفائی کرنا پڑی۔ ایک تو سانحہ پی آئی سی بہت بڑا ہے، دوسرا حکومت بھی تحریک انصاف کی ہے، جس کا دعویٰ ہے کہ قانون سب کے لئے برابر ہے۔ تیسرا عثمان بزدار وزیراعلیٰ ہیں،جن پر ہمیشہ یہ دباؤ رہتا ہے کہ وہ کچھ کر کے دکھائیں …… سو ان سب باتوں نے مل کر وکلاء کو انہونی سے دوچار کر دیا ہے۔انہیں اب سمجھ آ رہی ہے کہ جسے وہ گھر کی لونڈی سمجھ بیٹھے تھے، وہ قانون جب متحرک ہوتا ہے تو بڑے بڑوں کے کس بَل نکال دیتا ہے۔

البتہ یہ نکتہ بحث طلب ہے کہ نقصان اس سے زیادہ ہو سکتا تھا، جتنا کہ اب ہوا ہے؟…… اس بات کو اس لئے دلیل بنا کر پیش کیا جا رہاہے کہ ایوانِ عدل سے وکلاء کا کئی کلو میٹر فاصلہ طے کر کے پی آئی سی تک پہنچ جانا ایک ایسی غفلت ہے، جس پر حکومت ِ پنجاب اور اس کے قانون نافذ کرنے والے ادارے لاکھ تاویلیں پیش کریں،عوام کو مطمئن نہیں کر سکتے۔ اب تو یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مشتعل وکلاء کو نہ صرف راستے میں کہیں نہیں روکا گیا،بلکہ جب انہوں نے پی آئی سی کے اندر گھس کر اُس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، تب بھی کوئی پولیس ایکشن نہیں ہوا اور بالآخر وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو اسلام آباد سے کال کر کے اس ہنگامے کے خلاف ایکشن کا کہنا پڑا۔کہنے کو یہ بات عثمان بزدار کا کریڈٹ بنا کر پیش کی جا رہی ہے،حالانکہ یہ حکومت کا بہت بڑا ڈس کریڈٹ ہے۔کیا پولیس کے آئی جی اور چیف سیکرٹری اس معاملے سے لاتعلق تھے۔کیا پولیس بڑے سے بڑے واقعہ پر اسی طرح دم سادھے کھڑی رہے گی؟ تاوقتیکہ وزیراعلیٰ کو حکم نہ آئے۔کیا لاء اینڈ آرڈر کی ذمہ داری انتظامیہ اور پولیس کی نہیں، کیا انہیں معلوم نہیں کب ایکشن کرنا ہے اور عوام کے جان و مال کو بچانا ہے؟وزیراعظم کہتے ہیں کہ بڑے نقصان سے بچ گئے…… اس سے بڑا نقصان اور کیا ہو سکتا ہے کہ مریضوں کی جانیں گئیں،انہیں علاج و معالجے سے محروم کر دیا گیا،ہسپتال میں سات کروڑروپے کا نقصان ہوا، ہسپتال کئی روز بند رکھنا پڑا۔ اگر ہوش میں رہ کر پہلے سے سپیشل برانچ کی رپورٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے وکلاء کو کہیں راستے ہی میں روک لیا جاتا،اُن سے مذاکرات کر کے مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی،وزراء وہاں پہنچ کر معاملہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے، تو کم ازکم ایک ہسپتال تو بچ جاتا۔ یہ کیسی گورننس تھی کہ جس نے وکلاء کو ہدف تک بآسانی پہنچنے دیا اور نیرو کی طرح چین کی بانسری بجاتی رہی؟

جہاں سینئر وکلاء کا یہ استدلال ہو کہ سارا قصور پنجاب حکومت اور پولیس کا ہے،جنہوں نے وکلاء کو اتنا طویل فاصلہ طے کر کے پی آئی سی میں پہنچنے دیا، وہاں پنجاب حکومت خود کو بری الذمہ کیسے قرار دے سکتی ہے؟ان سینئر وکلاء نے تو وکلاء سیاست کرنی ہے،وہ تو ایسے بھونڈے دلائل دیں گے ہی، لیکن یہ بھی تو ایک بھونڈی دلیل ہے کہ پنجاب حکومت نے دوسرا سانحہ ماڈل ٹاؤن نہیں ہونے دیا۔کیا وکلاء کو روکنے کے لئے سانحہ ماڈل ٹاؤن دہرانا ہی ضروری تھا؟ کیا واٹر کینن، لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے ذریعے راستے میں روکنے کی حکمتِ عملی اختیار نہیں کی جا سکتی تھی؟اب یہ خبریں تو زبانِ زد عام ہیں کہ لاہور میں تعینات پولیس افسر شش و پنج کا شکار تھے۔ایک تو معاملہ وکلاء کا تھا، جن پر ماضی میں پولیس ایکشن کرنے والے افسروں کو عدلیہ نے سخت بُرا بھلا کہا اور کئی ایک کے خلاف مقدمے بھی درج ہوئے۔اتفاق سے لاہور میں اُس دن آئی جی اور چیف سیکرٹری بھی موجود نہیں تھے، اس کا نتیجہ جو نکلا وہ سب کے سامنے ہے۔پورا ملک دیکھ رہا تھا کہ وکلاء جتھوں کی صورت میں ہسپتال میں داخل ہو کر وحشیانہ انداز میں توڑ پھوڑ کر رہے تھے،انہیں روکنے والا کوئی نہیں،پولیس اگر موجود بھی ہے تو بے بسی کی تصویر بنی،یہ سب کچھ دیکھ رہی ہے۔

یہ سلسلہ نجانے اور کتنی دیر تک چلتا کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ایکشن کا حکم دے دیا۔اس سب کچھ کے بعد بحث تو بنتی ہے کہ سانحہ پی آئی سی پنجاب حکومت کی ناکامی کا شاخسانہ ہے یا وکلاء کی وحشیانہ انتقامی سوچ کا؟ اس سے بچا جا سکتا تھا اگر لاہور کی انتظامیہ اور پولیس بقائمی ہوش و حواس اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہوتی۔کالے کوٹ والوں کے ڈر سے دبک کے اپنے دفتروں میں بیٹھ جانا کیا انتظامیہ و پولیس افسروں کو زیب دیتا ہے؟…… اگرایک صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان بیچ بچاؤ کرانے کے لئے درمیان میں کود سکتا ہے تو پولیس اور انتظامیہ کے افسر کیوں نہیں آئے، کیوں یہ سب کچھ ہوتا دیکھتے رہے؟ ہجوم کو جب میدان صاف ملے اور کوئی روکنے والا بھی نہ ہو تو وہ باغ اسی طرح اُجاڑتا ہے،جس طرح پی آئی سی کو اُجاڑا گیا۔وکلاء کے خلاف تو ایکشن ہو رہا ہے،کیا حکومت دوسری طرف بھی دیکھے گی۔اس بارے میں بھی تحقیقات ہو رہی ہیں کہ سپیشل برانچ کی رپورٹ کے باوجود پولیس نے خاطر خواہ انتظامات کیوں نہیں کئے، کیا اس بارے میں بھی کوئی انکوائری ہو رہی ہے کہ جب وکلاء ہسپتال میں توڑ پھوڑ کر رہے تھے تو پولیس کیوں اوپر سے کسی کال کے آنے کا انتظار کرتی رہی،اُس وقت پولیس کی کمان کس کے ہاتھ میں تھی، اور وہ کیوں فورس کو لے کر خاموش تماشائی بنا ہوا تھا؟ ناکامیوں کو کامیابی بنا کر پیش کرنے سے بات نہیں بنے گی۔ حکومتی سطح پر اپنے اداروں سمیت خود احتسابی کی ضرورت ہے،لیکن شاید ایسا نہ ہو سکے، کیونکہ اس کے لئے درکار جرأت رندانہ دور دور تک ناپید ہے۔

مزید : رائے /کالم