مودی حکمرانی کا سال 2019ء

مودی حکمرانی کا سال 2019ء
مودی حکمرانی کا سال 2019ء

  



بھارت کے پردھان منتری نریندر مودی چائے کے کھوکھے سے اٹھ کر دہلی راجدھانی کے سنگھاسن پر بیٹھے تو ملک کے ایک ارب سے زیادہ ہندوؤں نے ان کی ذات میں ایک کرشماتی کشش محسوس کی۔ یہ بات ان کے لئے حیران کن تھی کہ گجرات کا ایک مہا غریب ہندو پہلے اپنے صوبے کا مہامنتری اور پھر پورے بھارت کا پردھان منتری کیسے بن گیا۔پہلے اپنے صوبے میں سینکڑوں مسلمانوں کو قتل کروایا اور پھرپورے بھارت میں گؤرکھشا کے نام پر ہندوستان کے 22کروڑ مسلمانوں میں سے سینکڑوں کی کھال کھینچ کر رکھ دی۔ انڈیا کے ہندو کو معلوم ہوا کہ RSS کا مسلم کش فلسفہ جس کو ہندوتوا کا نام دیا گیا ہے، مودی کی کلیدِ کامیابی ہے۔ 2014ء سے لے کر 2019ء تک کا 5سالہ عرصہ ہندوتوا کے فروغ کا اسی طرح کا دورانیہ تھا جس طرح کا نازی جرمن ڈکٹیٹر اوڈلف ہٹلر کا 1933ء سے لے کر 1938ء تک کا تھا۔ ہٹلر بھی ویانا (آسٹریا) کے ریلوے سٹیشن پر کئی برس تک ایک مزدور اور قلی کے طور پر کام کرتا رہا تھا۔

پہلی جنگ عظیم میں اس نے جرمن آرمی جوائن کی لیکن کارپورل رینک سے اوپر نہ اٹھ سکا۔1918ء میں جب یہ عالمی جنگ ختم ہوئی تو کارپورل ہٹلر ”بے روزگار“ ہو گیا۔بعدازاں یہ وہی عرصہ تھا کہ وہ آسٹریا اور جرمنی کے گلی کوچوں میں مارا مارا پھرتا رہا۔ لیکن اس کارپورل میں ایک اضافی اور عجیب خوبی یہ تھی کہ وہ بڑا چرب زبان تھا۔ اس کی بلی جیسی نیلی آنکھوں میں ایک خاص قسم کی کشش تھی جو جرمنی کی 1918ء کی شرمناک شکست کے بعد کچھ زیادہ ہی خوفناک ہو گئی تھی۔ اسی چرب زبانی اور نیلی آنکھوں کی کشش نے اس میں حد سے بڑھی ہوئی خود اعتمادی کا جذبہ پیدا کیا۔ اس نے جرمن قوم کی بے بسی کو کیش کروانے کا بیڑا اٹھایا اور برلن، میونخ اور فرینکفرٹ کے بازاروں میں گھوم پھر کر جرمن قوم کی عظمت کے گیت گانے لگا۔ اس نے حکومتِ وقت کے کار پردازوں کو بزدل اور ڈرپوک کہنا شروع کیا اور جرمن قوم کے نسلی تفاخر کا ڈھونڈورہ اتنے زور سے پیٹا کہ لوگ اس کی باتوں پر کان دھرنے لگے۔ رفتہ رفتہ اس نے شکست خوردہ جرمن عوام کو برسرِاقتدار اشرافیہ کے خلاف بھڑکانا شروع کیا اور جب یہ سلسلہ درازہوا تو حکومت نے اسے قید کرکے جیل میں ڈال دیا۔ اس نے جیل میں اپنی خودنوشت لکھنی شروع کی جس کا عنوان ”میری جدوجہد“ (Mein Kampf) رکھا۔ اس کے کولیگ قیدی اس کے بھاشنوں سے متاثر ہونے لگے اور حکومت نے سراسیمگی کے عالم میں اس کو جیل سے رہا کر دیا۔ اس رہائی کے بعد وہ جرمن چانسلر کیسے بنا، اس موضوع پر درجنوں بلکہ سینکڑوں کتابیں موجود ہیں۔ میں ان کے حوالے دے کر قارئین کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا۔

صرف یہ بتانا چاہوں گا کہ اس نے ستمبر 1939ء کو جو جنگ شروع کی اس کے نتیجے میں پہلے تین سال میں اس نے سارے یورپ (ماسوائے برطانیہ) کو فتح کر لیا۔ لیکن پھر اس جنگ کے مزید تین برسوں میں اس کو پے در پے شکستوں کا سامنا ہوا اور آخر کار جب رشین، امریکن اور برٹش افواج برلن میں اس کے ہیڈکوارٹر تک پہنچ گئیں تو اس نے 30اپریل 1945ء کو اپنے بنکر میں خودکشی کر لی۔ اس کی محبوبہ ایوا براؤن بھی اس کے ساتھ ہی اسی انجام کو پہنچی۔ کہتے ہیں روسی فوج کے دستے جب ہٹلر کے بنکر میں پہنچے تو ہٹلر اور ایوا براؤن کی جلی ہوئی لاشوں کے سوا وہاں کچھ اور نہ تھا۔ وہ راکھ آج بھی ماسکو میں کسی ”محفوظ“ تہہ خانے میں موجود ہے…… دیکھیں اس کی ”رونمائی“ کی خبر کب بریک کی جاتی ہے!

آج بھارت کا نریندر مودی بھی ہٹلر کے نقشِ قدم پر چل رہا ہے۔ اس کی پارٹی، ہٹلر کی نازی پارٹی کی طرح ہندو جاتی کی نسلی برتری کے فلسفے پر استوار ہے۔ اسی فلسفے نے اس کو پہلے احمد آباد (گجرات) اور پھر دہلی کے تخت پر بٹھایا۔ بی جے پی کے اسی فلسفے نے کانگریس کے اعتدال پسند فلسفے کونیچا دکھایا اور مودی کو مئی 2019ء میں دوسری ٹرم میں بھی ملک کا وزیراعظم بنا دیا۔ اس نے بھی ہٹلر کی طرح ملک کے مسلمانوں (اور عیسائیوں) کو بالعموم اور کشمیری مسلمانوں کو بالخصوص ظلم و ستم کا نشانہ بنایا، کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی اور اب بھارتی شہریت دینے میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا خطرناک کھیل، کھیل رہا ہے!

……شائد وہ اوراس کی پارٹی اس حربے میں بھی کامیاب ہو جائے لیکن مودی کو یاد رکھنا چاہیے کہ ہٹلر دور کی ابتدائی شاندار کامیابیاں اس کے آخری دور کی ”شاندار“ناکامیوں پر منتج ہوئی تھیں۔ اگر BJPکے یہی لچھن جاری رہے تو جو انجام ہٹلر کا ہوا تھا وہ اگرچہ ”جنگی شکست“ کی وجہ سے تھا لیکن مودی کا انجام بھی وہی ہونے والا ہے جو ”خانہ جنگی شکست“ کی وجہ سے ہو گا۔ مودی کی کوئی ایوا براؤن تو نہیں لیکن شائد اس کا بوجھ بھی اکیلے مودی کی لاش کو اٹھانا پڑے…… مودی کو اپنی ایک پیشرو اندرا گاندھی کا انجام یاد رکھنا چاہیے۔ اس ”بھاگوان“ نے تو پورا بنگلہ دیش بنا کر انڈیا کی جھولی میں ڈال دیا تھا۔ آج مودی اگر کشمیر اور اپنے دیش کے مسلمانوں پر وہی داؤ آزمانے کی راہ پر گامزن ہے تو اندرا گاندھی Episodeدہرایا بھی جا سکتا ہے…… اس Episode کے چند آثار ابھی سے دیدۂ بینا کو حقیقت کی چلمن سے جھانکتے نظر آ رہے ہیں۔ مستقبل کا مورخ جب انڈیا کے مودی دور کی تاریخ لکھے گا تو ان آثار کی تفصیل کھول کر بیان کر سکے گا…… مجھے تو فی الوقت غالب کا ایک شعر یاد آ رہا ہے:

دیکھئے پاتے ہیں عشاق،بتوں سے کیا فیض

اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

مجھے وشواس ہے کہ مودی کے کان میں بھی اس کے کسی برہمن ہمجولی نے 2019ء کے اوائل میں یہ شعر ڈال دیا تھا اور کہا تھا کہ اس برس جو الیکشن ہوں گے اس میں کامیابی تمہارے قدم چومے گی اور اگر ”چھوٹی موٹی“ ناکامیاں بھی دیکھنے کو ملیں تو غم نہ کرنا…… سو اس سال کی پہلی ناکامی مودی کو 26 فروری کو دیکھنے کو ملی جب انڈین ائر فورس نے ایل او سی کراس کی اور پاکستان کے بالاکوٹ پر حملہ کر دیا۔ اسی شب برہمن نجومی نے مودی کو فون کیا اور کہا کہ دیکھوکامیابیوں کا آغاز ہو رہا ہے لیکن آگے چل کر ”گھبرانا نہیں“…… یہ آخری دو لفظ برہمن نے زور دے کر کہے تھے…… اور پھر اگلے روز جب 27فروری کو انڈین ائر فورس کے دو طیارے مار گرائے گئے، ایک انڈین پائلٹ پاکستانی قید میں چلا آیا اور ایک ہیلی کاپٹر اپنے ہی فرینڈلی فائر سے گر گیا جس میں چھ سات سورمے مارے گئے تو مودی کو معلوم ہوا کہ اس نجومی نے ”گھبرانا نہیں“ پر کیوں زور دیا تھا۔

پھر 5اگست آ گیا اور مودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے آئین شکنی کا ارتکاب کیا۔ اس کے جواب میں ہمارے وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے جو خطاب کیا اس کی گونج اب تک دنیا کے 200سے زیادہ ملکوں میں سنائی دے رہی ہے۔ کشمیر میں کرفیو کو آج چار ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اگر کہیں یہ کرفیو اٹھایا بھی گیا ہے تو وہاں کشمیری مسلمانوں پر عرصہ ء حیات تنگ کرنے کے دوسرے حربے اتنے ہولناک ہیں کہ سارا عالمی میڈیا مودی اور اس کے انڈیا کی نندیا کر رہا ہے۔ اس کے دوررس اثرات و نتائج شائد 2020ء کا کوئی دوسرا برہمن نجومی بتا سکے گا……

پھر اسی سال ستمبر کا مہینہ آیا تو نجومی نے نوید دی کہ: ”آپ جو چاند مشن چاند پر روانہ کر رہے ہیں، وہ کامیابی سے چاند کی سطح پر لینڈ کرے گا اور بھگوان نے چاہا تو آپ کا بھارت، چاند پر اپنے لینڈر (Lander) کو اتارنے والا چوتھا ملک بن جائے گا اور دنیا امریکہ، روس اور چین کے بعد انڈیا کو بھی ایک ”شکتی شالی دیش“ تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے گی…… لیکن مودی جی! آپ نے ”گھبرانا نہیں“…… سو جب یہ چندریان جولائی میں ایک غیر ملکی راکٹ پر سوار چاند کی سطح پر اترنے کے لئے روانہ ہوا تو اس کی چاند تک رسائی بڑی کامیابی سے جاری رہی۔ یہ مشن پل پل کی تصویریں سری ہاری کوٹا میں اپنے گراؤنڈ سٹیشن کو بھیجتا رہا۔ 6ستمبر کو اس نے بالآخر چاند کی سطح پر لینڈ کرنا تھا۔اس روز مودی صاحب بڑی امیدیں لے کر گراؤنڈ سٹیشن پہنچ گئے اور لگے انتظار کرنے کہ کب چاند گاڑی چاند پر اترے اور وہ ساری دنیا کے میڈیاپر یہ خبر بریک کرے کہ دیکھو ہمارا نجومی سچ کہتا تھا۔ لیکن وائے افسوس کہ جب وہ گاڑی چاند کی سطح سے تقریباً ایک میل دور رہ گئی تو یکدم اس کا رابطہ زمینی اسٹیشن سے منقطع ہو گیا……

ابھی گزشتہ ہفتے NASA والوں نے بتایا ہے کہ انڈیا کی چاند گاڑی، چاند کی سطح سے ٹکرائی ہی نہ تھی اور انڈیا جو 6ستمبر سے اب تک یہ شور کرتا آ رہا ہے کہ اس کی گاڑی ذرا زور سے سطحِ قمر سے ٹکرا گئی تھی اور وہ اب بھی صحیح سلامت وہاں پڑی ہے تو اس کا پول کھل چکا ہے۔ ناسا کے ایک امریکی آلے (Orbiter) نے جو چاند کے گرد ایک عشرے سے گھوم کر اس کی تصاویر زمین پر بھیج رہا ہے اس نے یہ اعلان کیا ہے کہ انڈیا کی چاند گاڑی جب سطحِ قمر سے دو کلومیٹر دور رہ گئی تھی تو ایک دھماکے سے پھٹ کر ریزہ ریزہ ہو گئی تھی اور اس کے ٹکڑے چاند کی سطح پر دیکھے گئے ہیں۔ NASA نے چاند کی اس سطح کی تصاویر میڈیا کو جاری کر دی ہیں اور انڈیا کے خلائی سائنس دان اپنا سا منہ لے کر رہ گئے ہیں …… اور نجومی نے جو ”گھبرانا نہیں“ کی وارننگ مودی کو دی تھی وہ سارے ہندو خلائی سائنس دانوں کا مقسوم بن گئی ہے…… مزید تفصیل انشاء اللہ اگلے کالم میں ……

البتہ مودی حکومت کو سب سے بڑا دھچکا 28نومبر کو اس وقت لگا جب مہاراشٹر میں ان کی پارٹی کے وزیراعلیٰ کی جگہ شیوسینا کے اودے ٹھاکرے نے بھارت کے اس دوسرے سب سے بڑے صوبے میں بطور وزیراعلیٰ حلف اٹھایا۔ یہ وزیراعلیٰ بال ٹھاکرے کے بیٹے ہیں جن کے نام سے ہر لکھا پڑھا پاکستانی آگاہ ہے۔

ممبئی، مہاراشٹر کا دارالحکومت ہے اور کراچی کی طرح انڈیا کا تجارتی گڑھ بھی ہے۔ آج سے چند برس پہلے کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مودی کی بی جے پی اس صوبے میں ہار جائے گی۔ اس شکست کی وجوہات کیا ہیں، آیا ان کا کوئی تعلق کشمیری مسلمانوں کی حالت زار سے بھی ہے یا نہیں، آیا مودی کی پارٹی نے جس ہندوتوا کا سہارا لیا اور بابری مسجد کا جو واقعہ پیش آیا اور سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا اس کا کوئی تعلق حکومت کی اس تبدیلی سے بھی ہے یا نہیں، اس موضوع پر بھی ایک الگ کالم کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے خلاف اسی صوبے (مہاراشٹر) میں یہاں کی ہندو اکثریت کے افکار و احساسات تقریباً ایک عشرہ پہلے کیا تھے اور آج کیا ہیں اور ان خیالات کو تبدیل کرنے میں ایک ہندو سکالر مسز منیشا (Maneesha) ٹائکی کار کی کتاب ”واہگہ کے اس پار“ (Across the Wahga) نے کیا رول ادا کیا، وہ ایک چشم کشا حقیقت ہے۔ مہاراشٹر کی شرحِ خواندگی انڈیا کے دوسرے صوبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔

منیشا (Maneesha) کو 2001ء میں اسلام آباد میں 5ماہ کا ایک وظیفہ (فیلوشپ) ملا تھا۔ انہوں نے یہاں آکر جو کچھ دیکھا اسے واپس ممبئی جا کر وہاں کی زبان (مراٹھی) میں جو کتاب لکھی اس نے صوبے کی لکھی پڑھی جنتا کے فکر و نظر میں پاکستان کے بارے میں جو انقلابی تبدیلی پیدا کی، اور جس کے نتیجے میں بی جے پی کو شکست ہوئی وہ ایک چشم کشا واقعہ ہے۔

اور اب چند روز پہلے مودی حکومت نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں مسلمانوں کے خلاف جو شریعت بل منظور کروایا ہے، اس کے مابعدی اثرات بھی بھارتی سیاست پر مرتب ہوں گے یا نہیں اور کیا انڈیا کے طول و عرض میں بھی مہاراشٹر کی طرح ایک آہستہ خرام انقلابی فکر پیدا ہو گی یا نہیں، اس کے لئے انڈیا کے اگلے عام انتخابات تک (2024ء تک) ہمیں انتظار کرنا پڑے گا…… میرا اندازہ ہے اس کے نتائج بھی مہاراشٹر کے حالیہ نتائج سے مختلف نہیں ہوں گے۔

مزید : رائے /کالم


loading...