بھارت، احتجاج میں شدت، مزید 4ہلاک، مقبوضہ کشمیر سے لیکر آسام اور آگے تک۔۔اختتام کی شروعات ہے: میجر جنرل آصف غفور

    بھارت، احتجاج میں شدت، مزید 4ہلاک، مقبوضہ کشمیر سے لیکر آسام اور آگے ...

  



راولپنڈی،نئی دہلی  (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی)پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ   مقبوضہ کشمیر سے لیکر آسام اور آگے تک، اختتام کی شروعات، جھوٹی چالیں ہندوتواکے خلاف مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں ہونے والے طاقتور عوامی مظاہروں کو نہیں روک سکتیں۔ اتوار کو  سماجی رابطے کی ویب سائٹ  ٹوئٹر پر اپنے  ٹویٹ میں  ترجمان  پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں مودی سرکار کے اقدامات پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے  کہا ہے کہ  مقبوضہ کشمیر سے لیکر آسام اور آگے تک، اختتام کی شروعات۔میجر جنرل آصف غفور نے مقبوضہ کشمیر اور متنازع شہریت بل کے حوالے سے چلنے والے جھوٹے بھارتی اکانٹس کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ ایسی جھوٹی چالیں ہندوتوا کے خلاف مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں ہونے والے طاقتور عوامی مظاہروں کو نہیں روک سکتیں۔آصف غفور نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا یہ یہ حقیقی سرجیکل اسٹرائیک ہے جسے دنیا جانتی ہے، جھوٹے فلیگ آپریشن اور سرجیکل اسٹرائیک پہلے ہی جھوٹ ثابت ہو چکا ہے، سچ ہمیشہ قائم رہتا ہے۔دریں اثنا بھارت کی  شمالی ریاستوں اور نئی دہلی میں  شہریت کے قانون میں متنازعہ ترمیم کی خلاف احتجاج تیسرے روز بھی جاری رہا  مغربی بنگال، میگھالے،چھتیس گڑھ  اور میزورام میں فوج تعینات کردی گئی ہے جبکہ مغربی بنگال  میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند کر دی گئی ہے۔ نئی دہلی میں طلبہ نے احتجاج  نے شہریت بل کیخلاف  احتجاج کے دوران  مزید متعدد بسوں  رکشوں اور موٹر سائیکلوں کو نذر آتش کر دیا نئی دہلی کی صوبائی حکومت نے نئی دہلی میں میٹرق بس اور سرکاری سکولوں کو بند کرکے  امتحانات ملتوی کر دیئے ہیں  ادھر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی مشیر راہول سنہا نے متازع شہریت کے بل کے خلاف مظاہروں کو کچلنے کے لیے مغربی بنگال میں گورنر راج لگانے کی دھمکی دے دی۔راہول سنہا  نے کہا  ہے کہ اگر اسی طرح سے مظاہرے جاری رہے تو گورنر راج نافذ کیا جائے گا۔متنازع اور مسلم مخالف شہریت کے قانون کے خلاف مظاہرے بھارت کی مختلف ریاستوں میں مظاہرے پرتشدد واقعات میں تبدیل ہو گئے ہیں۔مظاہرین نے بسوں اور ٹرینوں کو آگ لگا دی جبکہ مختلف علاقوں میں کرفیو نافذ ہے اور انٹرنیٹ بھی بند ہے۔دوسری جانب پارلیمنٹ اور صدر سے منظوری ملنے کے بعد مغربی بنگال، پنجاب، کیرالہ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے وزرائے اعلی نے کہا ہے کہ وہ اس متنازع قانون پرعمل درآمد نہیں کریں گے۔خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ریاست آسام کے سب سے بڑے شہر گوہاٹی میں  تیسرے روز بھی شدید مظاہرے ہوئے جہاں سیکیورٹی کے معاملات فوج کے ہاتھ میں ہیں جو مسلسل سڑکوں پر گشت کررہی ہے۔مقامی انتظامی عہدیدار کا کہنا تھا کہ کرفیو کی وجہ سے ریاست میں تیل اور گیس کی پیدوار متاثر ہوئی ہے۔مغربی بنگال کی ریاست میں ہزاروں مظاہرین نے مرکزی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف احتجاج شروع  ہو گیا جہاں پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں مزید 4  افراد ہلاک ہو گئے جس کے بعد حکومت نے ریاست میں کرفیو نافذ کرکے کئی اضلاع میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی نئی دہلی مظاہرین نے ٹائر نذر آتش کیے اور ریلوے پٹڑی اور مرکزی شاہراہوں پر دھرنا دیا اس کے علاوہ ر تین بسوں بسوں کو بھی آگ لگا دی تاہم پولیس نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں تصادم ہوا  جس سے 6پولیس اہلکار اور متعد مظاہرین زخمی ہو گئے اور ریل سروس بھی معطل کردی گئی ادھر نئی دہلی کے طلبا نے نریندر مودی کو وزیراعظم اور امیت شاہ کو وزیر داخلہ ماننے سے ہی انکار کر دیا۔ ان کا مقف ہے کہ ان دونوں نے آئین کو توڑا ہے۔عوام نے مودی کے حمایتی میڈیا کے خلاف بھی احتجاج کیا مغربی بنگال اور آسام میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ آسام میں جاری احتجاج کے دوران 17 سالہ لڑکا آسام پولیس کی فائرنگ میں گولی لگنے سے مارا گیا۔ اس کے ہم جماعت عبدل نے کہا کہ لگ بھگ 500 احتجاجی جمع تھے اور وہ اور اس کے دوست صرف نعرے بازی کررہے تھے۔ ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق عبدل نے بتایا کہ یکایک سڑکوں کی لائٹس گل ہوگئیں اور پولیس نے فائرنگ شروع کردی۔ ہم اپنی زندگی بچانے بھاگنے لگا، وہ دہشت پیدا کرنے والا ماحول تھا۔بھارت میں شہریت بل کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جس کی آڑ لے کر پولیس نے دہلی میں قائم جامعہ ملیہ اسلامیہ پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں سینکڑوں طلبہ زخمی ہوگئے۔ جامعہ پر پولیس کے حملے کے بعد بھارت کی مسلمان کمیونٹی سراپا احتجاج بن گئی ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق دلی پولیس کی جانب سے جامعہ ملیہ اسلامیہ پر اس طرح حملہ کیا گیا جیسے دشمن فوج کا قلع فتح کرنا ہو۔ پولیس نے یونیورسٹی میں گھس کر طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا اور ان پر آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا۔ پولیس کی جانب سے لائبریری میں بیٹھے ہوئے طلبہ پر بھی تشدد کیا گیا۔ پولیس تشدد سے زخمی ہونے والے ایک طالبعلم نے قطر کے ٹی وی چینل الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ شہریت بل کے خلاف احتجاج میں شریک نہیں تھا بلکہ لائبریری میں مطالعہ کر رہا تھا لیکن پولیس نے اسے بھی بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔پولیس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر موجود لوگوں پر بھی تشدد کیا۔ پولیس تشدد کا نشانہ بننے والے ایک نوجوان نے بتایا کہ وہ دوسرے شہر سے دلی آیا ہے جہاں وہ خاکروب کی نوکری کرتا ہے تاکہ اپنی بہن کی شادی کیلئے پیسے جمع کرسکے لیکن پولیس نے اسے بھی شناخت پوچھے بغیر ہی تشدد کا نشانہ بنایا جس کے باعث اس کا سر پھٹ گیا اور جسم کے دوسرے حصوں پر بھی چوٹیں آئی ہیں۔ پولیس کی جانب سے اپنائے جانے والے انسانیت سوز رویے کے باعث سینکڑوں طلبہ زخمی ہوگئے ہیں جو مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔جامعہ ملیہ اسلامیہ پر ہونے والے حملے کے بعد طلبہ نے دلی پولیس کے ہیڈ کوارٹر کا گھیراؤ کرلیا اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کی۔ رات گئے تک طلبہ کی جانب سے دلی پولیس ہیڈ کوارٹر کا محاصرہ جاری ہے اور طلبہ پولیس کمشنر کو سامنے لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔دوسری جانب جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ پر ہونے والے انسانیت سوز ظلم کے خلاف لکھنؤ کی اسلامی درسگاہ جامعہ ندوۃ العلما کے ہزاروں طلبہ نے احتجاجی مارچ کیا اور مودی سرکار کے مظالم کے خلاف آواز بلند کی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ نے بھی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ریلی نکالی۔ ریاست اتر پردیش کی انتظامیہ نے علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبہ کے احتجاج کے باعث اتوار کی شب 10 بجے سے شہر بھر میں انٹرنیٹ سروسز معطل کردی ہیں، یہ پابندی پیر کی شب 10 بجے تک جاری رہے گی۔بھارت کی جانب سے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت سے متعلق آئین کا آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کر کے مقبوضہ کشمیر اور لداخ کو غیر قانونی طریقے سے بھارتی یونین میں شامل کر لیا تھا۔جبری اقدامات کے خلاف بڑے پیمانے پر عوامی ردعمل کے خوف سے بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست سے کرفیو نافذ کر رکھا ہے جسے 4 ماہ سے زائد عرصہ ہو چکا ہے لیکن لاکھوں کی تعداد میں فوج تعینات ہونے کے باوجود مقبوضہ وادی میں آئے روز مودی سرکار کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔بھارت کی ہندو انتہا پسند حکومت نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے 9 دسمبر کو لوک سبھا میں بھارتی شہریت سے متعلق متنازع بل پیش کیا جس کے تحت بنگلادیش، پاکستان اور افغانستان سے آنے والے غیر مسلم تارکین وطن کو شہریت دی جائے گی لیکن مسلمانوں کو شہریت نہیں دی جائے گی۔بھارتی شہریت کے متنازع بل کو راجیہ سبھا (بھارتی پارلیمنٹ کا ایوان بالا) نے بھی 11 دسمبر کو منظور کر لیا تھا اور پھر 14 دسمبر کو بھارتی صدر راج ناتھ کووند کی منظوری کے بعد یہ بل باقاعدہ قانون بن چکا ہے۔مودی سرکار کے اس اقدام کے خلاف بھارت میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہو رہے ہیں 

بھارت احتجاج

مزید : صفحہ اول


loading...