100وکلاء کی نشاندہی، گرفتاریوں کیلئے خصوصی پولیس ٹیم کے گھروں پر چھاپے 

100وکلاء کی نشاندہی، گرفتاریوں کیلئے خصوصی پولیس ٹیم کے گھروں پر چھاپے 

  



لاہور(کرائم رپورٹر) پی آئی سی حملے کی ناقص تفتیش پر عدالت کی جانب سے برہمی کے بعد اور صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کی جانب سے پولیس کیخلاف انکوائری کی سفارشات پر پولیس حکام کی جانب سے وکلاء کی گرفتاریوں اور کیس کی تیاری کیلئے 7 رکنی خصوصی ٹیم تشکیل دیدی گئی ہے۔ کمیٹی کے سربراہ ایس ایس پی انویسٹی گیشن ذیشان اصغر ہونگے، ایس پی آرگنائزڈ کرائم، ایس پی انویسٹی گیشن ماڈل ٹاؤن، دو ڈی ایس پیز اور دو انسپکٹرز بھی ٹیم میں شامل کیے گئے ہیں۔ٹیم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔دوسری جانب حسان نیازی کے علاوہ دیگر 100 وکلاء کی بھی شناخت ہو گئی ہے،وزیراطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان پر تشدد کرنے والے وکیل کی بھی شناخت عبدالماجد کے نام سے ہوئی جو ہربنس پورہ کا رہائشی ہے۔ پولیس کے چھاپے کے باوجود گرفتاری عمل میں نہ آسکی، فیاض الحسن چوہان پر حملہ کرنیوالے مزید 6 وکلا کی شناخت کی کوششیں جاری ہیں۔پی آئی سی حملہ میں ملوث پولیس کا وزیراعظم کے بھانجے حسان نیازی کے گھر پر چھاپہ، حسان نیازی گھرپر موجود نہ ہونے کے باعث گرفتار نہ ہو سکے۔ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر دھاوا بولنے کی فوٹیج سامنے آنے پر پولیس کی جانب سے2 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ادھرڈی آئی جی انویسٹی گیشن ڈاکٹرانعام وحید کا کہنا ہے کہ حسان نیازی کی گرفتاری کے لیے انکے گھرپر چھاپے مارے گئے،ان کی گرفتاری کے لیے اب جدید ٹیکنالوجی کی مدد لی جا رہی ہے، جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملزم کی گرفتاری کے لیے ہم پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں ہے۔ سیف سٹیز کیمروں کی فوٹیجز پر پولیس نے تحقیقات شروع کر دیں ہیں۔پی آئی سی پر حملہ کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے وکلاء تشدد کو روکنے کے لئے پولیس کو احکامات بھی جاری کئے تھے جس پر تاخیر کی گئی۔بتایا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے احکامات کے بعد بھی سی سی پی او وقوعہ پر نہ پہنچے جبکہ ڈی آئی جی دو گھنٹے تاخیر سے پہنچے۔ ایس پی سکیورٹی نے بھی حالات کی سنگینی کونہ جانا اور کم اہلکار تعینات کئے۔ اطلاعات کے باوجود پی آئی سی کی حفاظت پر صرف 13 اہلکار تعینات تھے۔ معاملہ خراب ہونے پر مزید نفری ایک گھنٹہ تاخیر سے پہنچی۔

سانحہ پی آئی سی

مزید : صفحہ اول


loading...