سقوطِ ڈھاکہ

سقوطِ ڈھاکہ

  



16دسمبر 1971ء کا دن پاکستان کی تاریخ کے ایک بہت بڑے سانحہ کا دن ہے۔ قیام پاکستان کے صرف 24سال بعد سرزمین پاکستان دولخت ہو گئی۔ اب تک تجزیہ کار اور لکھنے والے صرف اس نکتے پر اظہار خیال کرتے چلے آئے ہیں کہ اس سانحہ کا اصل ذمہ دار کون کون تھا۔ بظاہر فوجی حکمران جنرل آغا محمد یحییٰ خان، شیخ مجیب الرحمن، ذوالفقار علی بھٹو اور انڈین پرائم منسٹر اندرا گاندھی کے الگ الگ کردار پر بحث کی جاتی رہی ہے تاہم یہ حادثہ حکومت اور سیاستدانوں کی عاقبت نااندیشی 1970ء کے انتخابات کے بعد ایک سال تک قومی اسمبلی کے اجلاس کا انعقاد پذیر نہ ہونا، انتقال اقتدار کا نہ ہونا، مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن، مکتی باہنی کا کردار اور بھارت کی طرف سے غیر قانونی طور پر اپنی افواج کا مشرقی پاکستان میں داخلہ اس سانحہ کے فوری محرکات تھے۔1948ء میں قائداعظم محمد علی جناحؒ نے ڈھاکہ میں اپنے خطاب میں کہا تھا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو اور صرف اردو ہوگی۔ اس پر مشرقی پاکستان میں بنگالی زبان کے حوالے سے تحریک شروع کی گئی کہ اردو کے ساتھ ساتھ بنگالی کو بھی قومی زبان کا درجہ دیا جائے۔مشرقی پاکستان میں یونیورسٹیوں اور کالجوں کے اساتذہ بھی اپنے نوجوان طالب علموں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے رہے کہ مغربی پاکستان کی طرف سے مشرقی پاکستان کے حقوق سلب کئے جا رہے ہیں اور مغربی پاکستان کے سیاستدان اور بیوروکریسی پاکستان کے مشرقی حصے کی فلاح و بہبود اور ترقی کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔ قیام پاکستان کے وقت مشرقی پاکستان کی آبادی ملک کا 56فیصد تھی جبکہ 1956ء میں نافذ کئے گئے پہلے دستور پاکستان میں ملک کے دونوں حصوں کے حقوق کو برابری کی بنیاد پر تقسیم کیا گیا۔ مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے وزرائے اعظم کو یکے بعد دیگرے مغربی پاکستان کی حکومت اور سیاستدانوں کے ایماء پر وزارت عظمیٰ سے سبکدوش کیا گیا جس کی وجہ سے 1954ء تک مشرقی پاکستان کے بڑے اور مقتدر سیاسی رہنما عوامی لیگ کے پلیٹ فارم سے مشرقی پاکستان کے حقوق کے لئے سرگرم عمل ہو گئے۔ مسلمانانِ برصغیر نے اپنی سیاسی جدوجہد اور ازاں بعد مکمل آزادی کے لئے 1906ء میں مسلم لیگ کے نام پر ایک بڑی سیاسی جماعت قائم کی تھی اس جماعت کا قیام ڈھاکہ میں عمل میں آیا تھا۔ اسی طرح 1940ء میں قرارداد پاکستان کے حوالے سے مسلم لیگ کے تاریخی اجلاس میں قرارداد پیش کرنے کا اعزاز بھی مولوی اے کے فضل حق کو حاصل ہوا جن کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا۔

1958ء سے 1969ء تک فیلڈ مارشل ایوب خان کی آمریت رہی جس کی وجہ سے سیاسی اداروں کو ناقابلِ تلافی نقصان ہوا اور ملک میں ایک گھٹن کی فضا رہی۔ 1969ء میں جنرل یحییٰ خان نے ایوب خان سے اقتدار چھین کر ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔ خدا خدا کرکے ملک میں 1970ء کے انتخابات کا انعقاد عمل میں آیا تو مشرقی پاکستان میں 98فیصد نشستیں شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ نے حاصل کیں جبکہ مغربی پاکستان میں اکثریت پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو حاصل ہوئی۔ شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات کے پیش نظر ذوالفقار علی بھٹو اس خیال کے حامی تھے کہ انہیں متحدہ پاکستان کا وزیراعظم نہیں ہونا چاہیے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا اثر و رسوخ جنرل یحییٰ خان پر زیادہ تھا اس لئے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کئے جانے کے باوجود ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی پارٹی کے اراکین کو ڈھاکہ جانے سے روک دیا اس موقع پر کسی اخبار کی یہ شہ سرخی بہت مشہور ہوئی کہ بھٹو نے ”اِدھر ہم، اُدھر تم“ کا نعرہ دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ جو اراکین اجلاس میں شرکت کریں گے، ان کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی۔ اسی دوران 25مارچ 1971ء کو مشرقی پاکستان میں ”آپریشن سرچ لائٹ“ کے نام سے فوجی آپریشن شروع کیا گیا۔ اس آپریشن کی نگرانی جنرل ٹکا خان کے سپرد کی گئی۔ اس دوران مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان کے خلاف تعصب اور نفرت کی ایک مہم شروع کی گئی اور مشرقی پاکستان کے ہزاروں لاکھوں افراد نے بھارت کی طرف مہاجرت شروع کر دی۔ بھارتی ذرائع کے مطابق ان مہاجرین کی تعداد 30لاکھ سے زائد تھی۔ وزیراعظم بھارت اندرا گاندھی مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کے لئے ہتھکنڈے اور سازشیں شروع کر چکی تھیں اور اس ضمن میں بھارتی فوج کو بھی مشرقی پاکستان میں آپریشن کے لئے تیار کیا جا رہا تھا۔

جہاں تک1971ء کے زمانے اور واقعات کا تعلق ہے پاکستان میں اب تک سوائے اس بحث کے کسی نے آج تک کوئی اور سبق نہیں سیکھا کہ سقوطِ ڈھاکہ کی ذمہ داری کس کس پر عائد ہوتی ہے۔ مشرقی پاکستان ہمارا وہ بازو تھا جس کی وجہ سے قیام پاکستان ممکن ہو سکا۔ اگر ہم نے اپنے اس بھائی سے حسن سلوک نہیں کرنا تھا تو ہمارا وجود کیسے برقرار رہ سکتا تھا۔ گزشتہ کچھ عرصے سے سیاسی میدان میں جو گہما گہمی نظر آ رہی ہے اور جس طرح سیاست دان ایک دوسرے پر ہر قسم کی الزام تراشی کر رہے ہیں تقریباً تمام اداروں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ احتسابی عمل جس کے بے شمار تقاضے تھے، اُس کی شفافیت پر حرف آ رہا ہے۔ سیاست دانوں نے نہ صرف یہ کہ ماضی سے کچھ نہیں سیکھا، بلکہ سقوط ڈھاکہ جیسے عظیم قومی سانحے سے بھی کچھ سیکھنے کی کوشش نہیں کی۔یہ قائداعظمؒ کا پاکستان تھا۔ قائداعظمؒ نے اپنے حسُن ِ تدبیر سے ہندو بنئے کی عیاری اور انگریز حکمرانوں کی مکاری کو شکست ِ فاش دی تھی،ہمارے سیاسی رہنما اپنے آپ کو قائداعظم ثانی تو کہلانا چاہتے ہیں،حالانکہ ان کا کوئی ثانی آج تک پیدا نہیں ہوا، لیکن اُن کے درخشاں اصولوں اتحاد، ایمان اور تنظیم پر یقین نہیں رکھتے۔ گزشتہ چالیس برسوں میں مختلف حکمرانوں نے قوم اور قومی خزانے کے علاوہ ملکی سالمیت اور اتحاد کے ساتھ جو سلوک کیا وہ اظہر من الشمس ہے اُس کے باوجود بیشتر سیاست دان اپنے تحفظ اور بقا کے لئے اپنے جیسے دوسرے سیاست دانوں کی حمایت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اگر بالفرضِ محال اس ملک میں قانون اور انصاف کی حکمرانی نہیں ہو سکی تو ہم سب بحیثیت قوم اس کے ذمہ دار ہیں۔

الیکٹرانک میڈیا اور قومی پریس کو جتنی آزادی آج حاصل ہے،بلکہ پرویز مشرف جیسے آمر کے دور میں بھی تھی۔ وہ1971ء میں ہر گز نہ تھی۔ اُس دور میں یحییٰ خان اور بعدازاں جنرل محمد ضیاء الحق کے دور میں بھی پریس پر بے پناہ پابندیاں تھیں، ہمارے اخبار نویس ہر دور میں آزادیئ صحافت کا پرچم تھامے رہے ہیں۔1971ء میں جنرل محمد یحییٰ خان نے صحافت کو پابند ِ سلاسل کر رکھا تھا۔ قوم کو تمام معاملات کی غلط تصویر پیش کی جا رہی تھی اس صورت حال سے بی بی سی(برٹش براڈ کاسٹنگ سروس) اور دیگر غیر ملکی صحافتی ذرائع اور بالخصوص پاکستان دشمن بھارتی پریس نے بے پناہ ناجائز فائدہ اٹھایا۔ مکتی باہنی کی ظالمانہ کارروائیوں کو تحریک آزادیئ بنگلہ دیش کا نام دیا۔ پاکستان کے خلاف مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ اور مکنی باہنی کی طرف سے نفرت کا ایک طوفان بپا کیا گیا اور بنگالی عوام کو ہر طریقے سے مغربی پاکستان کے خلاف اشتعال دلایا گیا۔ یہاں تک کہ جب دشمن کی منزل قریب آ گئی اور پاکستانی فوج کو یہ بتا دیا گیا کہ وہ ہر طرف سے گھیرے میں آ چکے ہیں، تو مشتعل ہجوم نے ریڈیو پاکستان اور دیگر حساس اداروں اور تنصیبات پر حملے شروع کر دیئے۔ بلوہ کرنے والوں نے سرکاری ملازمین پر بھی تشدد کیا اور جو شخص بھی مجیب الرحمن کے حق میں نعرہ نہیں لگاتا تھا، اُس کو زدو کوب کرتے اور اس کے خاندان تک کی زندگی کو اجیرن کر کے رکھ دیتے، چونکہ اگرتلہ سازش کیس (1968ء) کے پس منظر میں پاکستان کی بیورو کریسی شیخ مجیب الرحمن کے حق میں نہ تھی، اِس لئے حکومتی سطح پر جتنی بھی بے تدبیری ہو سکتی تھی، اُس کا ارتکاب کیا گیا اور پاکستان کے تشخص اور اتحاد کو برقرار رکھنے کی کوشش نہ کی گئی۔

سقوط ڈھاکہ پر بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں نہ صرف سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ”عظیم المیہ“ کے عنوان سے تمام حالات و واقعات پر اپنا موقف پیش کیا ہے، بلکہ مکتی باہنی میں شامل بعض بھگوڑے فوجی افسروں اور بھارت نواز راہ زنوں نے پاکستان کے خلاف جی بھر کر زہر اُگلا ہے۔ جب سقوطِ پاکستان پر جسٹس حمود الرحمن کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا گیا تو اس کی رپورٹ تین دہائیوں تک پاکستانی عوام کے لئے منظر عام پر نہیں لائی گئی اور پہلی دفعہ بھارتی میڈیا نے اس کو طشت ازبام کیا۔ اگرچہ پاکستان میں بھی بعدازاں اس کے بیشتر حصوں کو منظر عام پر لایا گیا، لیکن بعض حصوں کو پردہئ اخفا میں رکھا گیا اور اس رپورٹ کی روشنی میں حکومت پاکستان نے نہ تو کسی کے خلاف کوئی کارروائی کی اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی اقدام کیا گیا۔ پروفیسر ڈاکٹر سید عبداللہ مرحوم نے راقم الحروف کے نام ایک خط میں اس رائے کا اظہار کیا تھا کہ1857ء کی ناکام جنگ آزادی کے بعد سقوطِ ڈھاکہ سقوطِ بغداد کے بعد تاریخِ اسلام کا سب سے بڑا سانحہ تھا۔ بریگیڈیئر صدیق سالک نے بھی سقوطِ ڈھاکہ پر انگریزی میں ایک مستند کتاب ”WITNESS TO SURRENDER“ لکھی، جس کا ترجمہ اُردو زبان میں ”مَیں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا“ کے عنوان سے کیا گیا ہے اور جس میں قومی اور عسکری نقطہ نظر سے تمام تلخ حقائق بیان کئے گئے ہیں۔ یہ ترجمہ ماہنامہ ”قومی ڈائجسٹ“ کی ایک خصوصی اشاعت میں کتابی شکل میں پیش کیا گیا۔ پاکستان آرمی کے اعلیٰ افسروں اور پاکستان کے بہت سے سینئر اور معروف لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں نے قومی تاریخ کے اس المناک سانحے کو قرطاس و قلم پر منتقل کیا ہے۔ اِسی طرح بہت سے دوسرے ممالک میں بھی اس سانحے پر کتابیں شائع ہوئی ہیں۔

پاکستانی فوج کے بعض بہادر اور جری افسروں اور پاک فضائیہ کے افسروں نے16دسمبر کو ہتھیار ڈالنے کی بجائے مشرقی پاکستان سے برما کو روانگی اختیار کی اور وہاں اُنہیں سرکاری مہمان کا درجہ دیا گیا۔

یہ امر بھی قابل ِ ذکر ہے کہ اس امر کے بہت سے شواہد ملتے ہیں کہ پاکستانی فوج کو ہتھیار ڈالنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا، بلکہ جنگ بندی کا حکم دیا تھا، لیکن سرزمین بنگال کی تاریخی روایات میں غداری اور بے وفاقی کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔ نواب سراج الدولہ کو اگر میر جعفر جیسے غدار نہ ملتے تو تاریخ مختلف ہوتی۔ اگر اوائل دسمبر میں بھارتی فوج غیر اخلاقی اور غیر قانونی طور پر بین الاقوامی ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مشرقی پاکستان میں داخل نہ ہوتی تو بنگلہ دیش کا فوری قیام ناممکن ہوتا، لیکن بھارتی بنئے کی مکاری نے یہ سارا جال بُنا تھا۔ اگرچہ سقوط ڈھاکہ کی سازش کے تمام کردار بشمول اندرا گاندھی اور شیخ مجیب الرحمن کیفر کردار تک پہنچ کر رہتی دُنیا کے لئے عبرت کی مثالیں بن گئے۔ مشرقی پاکستان سے ہمارے تعلق اور محبت کا تذکرہ فیض احمد فیض نے اپنی نظم میں اِن الفاظ میں کیا ہے:

ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی ملاقاتوں کے بعد

خون کے دھبے دُھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

اسی طرح ناصر کاظمی نے بھی مشرقی پاکستان کے حوالے سے اپنی شاعری میں گہرے قلبی دُکھ اور تکلیف کا اظہار کیا ہے۔

حسینہ واجد نے اپنے دورِ حکومت میں پروفیسر غلام اعظم اور دیگر بزرگ رہنماؤں کو قیام بنگلہ دیش کے ایک طویل عرصے کے بعد سزائے موت دی اور حکومت پاکستان نے اس پر کوئی اقدام نہیں کیا۔ اسلام کے یہ فرزند ِ پاکستان سے جرم وفا کی پاداش میں مسکراتے ہوئے تختہئ دار تک پہنچے۔ اسی طرح لاکھوں پاکستانی جو بنگالیوں کو قابل ِ قبول نہ تھے، بنگلہ دیش میں ایک تکلیف دہ زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ روزنامہ ”نوائے وقت“ کے چیف ایڈیٹر ڈاکٹر مجید نظامی مرحوم نے ان مسلمان بھائیوں کے لئے ایک فنڈ بھی قائم کیا تھا اور وہ اپنی زندگی میں ان کی بہبود کے لئے کوشاں بھی رہے، مرحوم غلام حیدر وائیں نے ان مسلمان بھائیوں کے لئے میاں چنوں میں ایک بستی بسانے کا پروگرام بنایا تھا،لیکن بہاری مسلمان اپنے مخصوص طرز بود و باش کے باعث وہاں پر قیام پذیر نہ ہو سکے۔

جنرل یحییٰ خان کے دورِ حکومت میں وزیر اطلاعات روداد خاں نے حامد میر کے ساتھ اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں اس امر پر دُکھ کا اظہار کیا کہ اصل حقائق سے اُنہیں بھی بے خبر رکھا جاتا تھا اور آمریت کے باعث ہم مشرقی پاکستان میں ایک ایسی شکست سے دوچار ہوئے جسے حکمت اور تدبر کے ذریعے ختم کیا جا سکتا تھا۔درحقیقت ملک کے دونوں حصوں میں ایک ایسی فضا قائم ہو چکی تھی،جس میں سقوطِ ڈھاکہ جیسے واقعات کے سوا کسی بہتر صورت حال کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔پاکستانی سیاست میں سقوطِ ڈھاکہ کے ایک اہم کردار سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو جنرل محمد ضیا الحق کے دور میں ایک عدالتی فیصلے کے مطابق پھانسی دے دی گئی جس کے بعد پاکستان میں شہادتوں کی سیاست شروع ہو گئی، جو بعد میں موروثی سیاست میں تبدیل ہو گئی۔ بدقسمتی سے پاکستان کے حصے میں حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ اور نوابزادہ لیاقت علی خان کے بعد ایسے سیاست دان نہیں آ سکے، جو ملکی مسائل کو تدبر اور حکمت کے ساتھ حل کر سکیں۔ صدر جنرل محمد ایوب خان کے طویل دورِ حکومت میں قومی مسائل کو مثبت طریقے سے حل کرنے کی طرف توجہ نہیں دی گئی اور سیاست دانوں کو ”ایبڈو“ جیسے قوانین کے ذریعے ملکی سیاست سے الگ کر دیا گیا۔اس دور میں سید احمد سعید کرمانی جیسے سیاست دانوں نے فوجی صدر کو اپنی مکمل حمایت سے نوازا، لیکن مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح ؒ ان اندھیروں میں جمہوریت کا چراغ روشن کرتی رہیں۔ 1965ء کے نام نہاد انتخابات میں شیخ مجیب الرحمن مشرقی پاکستان میں مادرِ ملت کے چیف پولنگ ایجنٹ تھے اگر اس انتخاب میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کو دھاندلی کے ذریعے ناکام نہ کروایا جاتا تو شاید آج پاکستان کی تاریخِ سقوط ڈھاکہ جیسے واقعات سے عبارت نہ ہوتی۔ اگر پاکستان پر جنرل یحییٰ خان جیسے حکمران مسلط نہ ہوتے تو معاملات کو بہتر طریقے سے آگے بڑھایا جا سکتا تھا۔

ہمارے سیاست دانوں اور دیگر طبقات کے لئے اب بھی سنہری وقت ہے کہ وہ موجودہ پاکستان کی سلامتی اور تحفظ کے لئے اپنی اَنا کو قربان کریں اور باہم اتحاد و یگانگت کی فضا قائم کریں، اس کے لئے ہمیں مذہب اسلام کی رسی کو مضبوطی سے تھامنا ہو گا اور رسول اکرمؐ کے اسوہئ حسنہ پر اس وقت پاکستان عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت ہے،لیکن حصول کامیابی کے لئے ہمیں دولت ِ ایمانی سے آگے بڑھانا ہو گا، ہمیں جس عیار ہمسائے بھارت کا سامنا ہے دُنیا بھر کی طاغوتی اور اسلام دشمن طاقتیں اس کے ساتھ ہیں۔ یہود و نصاریٰ اور ہنود کا باہم اتحاد پاکستان کے لئے ایک چیلنج ہے، جس کا مقابلہ ہم جذبہ ئ ایمانی سے ہی کر سکتے ہیں۔ اگر ہم صراط مستقیم پر چلنا شروع ہو جائیں تو دُنیا کی کوئی طاقت ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ اگر ہم اتحاد، یقین اور تنظیم سے اپنی قوم کو اُس راستے پر چلا سکیں، جو علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ کا راستہ تھا، تو دُنیا کی کوئی طاقت ہماری کامیابی کا راستہ نہیں روک سکتی۔

٭٭٭

مزید : ایڈیشن 2


loading...