”کل میری آنکھ نے پھولوں کے جنازے دیکھے“

”کل میری آنکھ نے پھولوں کے جنازے دیکھے“

  



16دسمبر:سانحہ اے پی ایس پشاورکی پانچویں برسی پر خصوصی تحریر

دسمبر آتے ہی اے پی ایس شہدا ء کے ورثاء کے زخم پھر سے تازہ ہو جاتے ہیں۔سانحہ اے پی ایس کی 16دسمبر کوپانچویں برسی منائی جاتی ہے۔سانحہ اے پی ایس پشاور کوپانچ سال مکمل ہونے پر شہید طلباء کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ہم آج بھی نیند میں ڈرؤانے خواب سے اٹھ جاتے ہیں۔ پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملہ کسی بھی طرح سے 9/11 جیسے واقعے سے کم نہیں تھا، پشاور میں ہونے والا واقعہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جبکہ دنیا کادوسرا بڑا واقعہ تھا۔اس سانحہ میں 150سے زائد شہادتیں ہوئیں جس میں 133 سے زائدننھے، پیارے اور معصوم پھول جیسے بچے شامل تھے جبکہ اس کے علاوہ 126 طلباء زخمی بھی ہوئے تھے۔ فوج اور دہشت گردوں کے مابین آتش و آہن کا یہ خونی مقابلہ شام گئے تک جاری رہاتھا۔اس بھیانک واقعہ میں 133 طلباء اپنی زندگی کی بازی ہار گئے تھے جبکہ سٹاف کے 9ارکان بھی جام شہادت نوش کر گئے تھے جن میں ایک خاتون ٹیچر کے علاوہ سکول کی پرنسپل طاہرہ قاضی بھی شامل تھیں۔ پاک آرمی نے سات دہشتگردوں کو بھی ہلاک کر دیاتھا جبکہ فوج کے سات جوان زخمی ہوئے تھے۔ دہشت گردی کی یہ خبر دوپہر کو جونہی اس دن ٹی وی چینلز پر نشر ہوئی تھی تو پورا ملک سوگوار ہوگیا تھالیکن جن ماؤں کی گودیں اجڑیں، جن والدین کے لخت جگر ہمیشہ کیلئے جدا ہوئے جن بہنوں کے بھائی بچھڑے اور جو جو اس جانکنی کے مراحل سے گزرے اس کا دُکھ وہی جان سکتے ہیں۔ راقم چونکہ خود بھی پشاور کا باسی تھا اس لئے جب یہ دل ہلا دینے والی خبر کا پتہ چلا توراقم سانحہ آرمی پبلک سکول کی جگہ پر پہنچا تھاتو وہ رُلادینے والے مناظر اب بھی پانچ سال گزر جانے کے باوجود مجھے یاد ہیں کیونکہ میں اس ماں کی تصویر کو کبھی نہیں بھلا سکتا جو یہ روح فرساخبر سن کر اپنے بچے کی خبر گیری کیلئے دیوانہ وار سڑک پر دوڑ رہی تھی۔ میں اس بوڑھے بزرگ کو بھی کبھی فراموش نہیں کر سکتا جو اپنے خاندان کو گلے لگا کر شدید آہ و زاری کررہا تھا۔ میں ہسپتال میں رکھی اس معصوم بچے کی لاش کو نہیں بھول سکتا جو عرش کی طرف منہ کر کے فریاد کررہا تھا کہ یاللہ ہمارا قصور کیا تھا اور ہمیں کس جرم میں اتنی بڑی سزا دی گئی۔میں ان شہیدوں کو کبھی بھول نہیں سکتا۔ان کا ایک ایک نام میرے دل ودماغ پر ثبت ہے،مجھے آرمی پبلک سکول کے عملے کے وہ قابل فخر 22ارکان اور پاک فوج کے تین اہل کار بھی یاد ہیں جو ملک وقوم کی بقاء اور سا لمیت کے کام آئے۔آئیے ان سب کو یاد کرتے ہیں۔ان عظیم شہیدوں کی خوشبو اب بھی میرے اردگرد کی فضاؤں کو معطر کئے ہوئے ہے۔پاکستان کی دہشت گردی کی تاریخ میں یہ سب سے بڑا دلدوز واقعہ تھا جس میں انسانیت سے عاری وحشیوں اور درندوں نے پلک جھپکنے میں اتنی بڑی تعداد میں قوم کے نونہالوں اور پھول جیسے چہروں کو خون میں نہلا دیاتھا جو پاکستان کا مستقبل تھے جنہوں نے بڑے ہوکر اس ملک کی باگ ڈور سنبھالنا تھی۔ جو قوم کی امیدوں کا چراغ تھے مگر ظالم اور سفاکوں نے گولیوں کے طوفان سے ان روشن چراغوں کو ہمیشہ کیلئے بجھا دیاتھا۔ کیا بگاڑا تھا ان ننھے پھولوں نے جو دہشت گردی کے مفہوم سے ہی نا آشنا تھے۔ ان کی ماؤں نے صبح کتنے ارمانوں سے ان کو نیند سے بیدار کیا ہوگا۔ جلدی سے ان کی تیاری کرائی ہوگی کتنی چاہت سے بھاگم بھاگ ان کو ناشتہ دیا ہوگا اور پھر اس یخ بستہ سردی میں دل پر پتھر رکھ کر ان کو خدا حافظ کہا ہوگا مگر ان کو کیا معلوم تھاکہ آج وہ ان کو ہمیشہ کیلئے رخصت کررہی ہیں اور پھر وہ ان کو کبھی دیکھ نہیں سکیں گی۔ یہ دسمبر کیسا تھا، کتنا ظالم اور بے نیاز، کتنا سنگدل اور بے حس کہ جس نے اپنی آنکھوں سے ننھی کلیوں کو مسلتا ہوا دیکھا، پھر بھی خاموش رہا۔ ان کلیوں کو کھل کر پھول تو بننے دیتا، یہ نوخیز کلیاں زندگی کی کچھ بہاریں تو دیکھ لیتیں مگر یہ خاموش تماشائی بنا رہا۔ اس دسمبر کے سامنے، بالکل اس کی آنکھوں کے آگے ان ننھی منی کلیوں کا خون ہوا، سفاک قاتل خون اچھالتے رہے، ماؤں کی گودیں اجاڑتے رہے، کئی گھرانوں کے آنگن ویران کرتے رہے، کئی روشن چراغوں کو بجھاتے رہے مگر یہ خاموش رہا،اے دسمبر تو کبھی نہیں بھولے گا، تو تو ماؤں کے کلیجے چیر کر نکل گیا ہے۔ مڑکر بھی نہیں دیکھا کہ جو معصوم تیرے ہاتھوں میں شہید ہوئے ہیں، ان کے والدین کس کرب میں مبتلا ہیں۔دسمبر تمہیں کیا بتاؤں آرمی پبلک سکول کے ان شہید بچوں کے گھروں میں جھانک کر دیکھو گے نا تو تمہارا کلیجہ پھٹ جائے گا۔سانحہ آرمی پبلک سکول کی قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں، ضرب عضب آپریشن نے دہشت گردوں کا صفایا کر دیا ہے۔ ”اگر ہے جذبہ تعمیر زندہ تو پھر کس چیز کی ہم میں کمی ہے“۔ سابق جنرل راحیل شریف صاحب! ہم آپ کے جذبو ں، جوش اور ولولہ کو سلام پیش کرتے ہیں۔پاکستان میں رہنے والا ہر فرد اپنے قابل فخر فوجی سپوتوں کے لیے ہر لمحہ دعاگو رہتا ہے۔ پوری قوم یہ یقین رکھتی ہے کہ ہمارے موجودہ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ پاکستان میں بے گناہ لوگوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے اس ملک کوجہنم بنا دیں گے،کیونکہ مقدس ساعتوں میں معروض وجود میں آنے والے اس ملک کا ہر دشمن اور اس کے سہولت کار کا ٹھکانہ ہمیشہ کے لیے صرف اور صرف جہنم ہی ہے۔ 16دسمبر کو آرمی پبلک سکول کے واقعے کوپانچ سال ہو چکے ہیں‘اس دن شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے صوبہ بھر میں سرکاری طور پر تقریبات کا انعقاد کیا گیاہے۔ان تقریبات کے انعقاد میں پاک فوج بھی حکومت کے ساتھ شامل ہے۔ آرکائیوز لائبریری پشاورمیں آرمی پبلک سکول کے شہدا کے نام سے منسوب ایک یادگاربھی تعمیر ہو چکی ہے جس پر سانحہ پشاور میں جاں بحق ہونے والے تمام بچوں کے تصویریں لگائی گئی ہیں۔صوبے کے تقریباً 127سرکاری سکولوں کے ناموں کو شہید بچوں کے نامو ں سے منسوب کیا گیا ہے۔پشاور کی معروف شاہراہوں اور چوکوں کو ان شہید بچوں کا نام دیا گیاہے۔بعض والدین نے حق اور انصاف کیلئے غازی شہداء فورم بھی تشکیل دیا۔آرمی پبلک سکول پر حملے میں ملوث چار مجرموں کو پھانسی پر لٹکایا جا چکا ہے، چاروں مجرم پشاور میں آرمی پبلک سکول پر ہونے والے حملے میں ملوث تھے۔پاکستان آرمی اور پولیس نے بے پناہ کوششوں کے بعد ان مجرموں کو گرفتار کیا تھا، دوران تفتیش ان پر جرم ثابت ہوا تھا جس کے بعد فوجی عدالت نے انہیں موت کی سزا سنائی تھی۔

٭٭٭

مزید : ایڈیشن 2


loading...