16دسمبر پھر آیا مگر صبر کیوں نہ آیا؟

16دسمبر پھر آیا مگر صبر کیوں نہ آیا؟

  



یہ 16دسمبر کی صبح تھی۔ہلکی دھند کی وجہ سے سورج نکل کر بھی اپنی روشنی کی کرنیں زمین تک نہیں پھینک پا رہا تھا۔ سردی کی شدت میں اضافہ شروع ہو چکا تھا۔ہر گھر میں صبح بچے اور بڑے سکول، کالجز اور دفترجانے کی تیاریاں کررہے تھے۔ اسی دوران ایک ماں اپنے لخت جگر کو آوا ز دیتی ہے کہ بیٹا اٹھو سکول کا ٹائم ہو رہا ہے اور وہ معصوم ننھا پھول بڑے آرام، نخرے سے اٹھتا ہے اور سکول جانے کی تیاری اور ساتھ ہی ساتھ وہ معصوم اپنی ماں سے ناشتے کی فرمائشیں کرنا شروع کرتا ہے اسی دوران باپ کی آواز آتی ہے جلد کرو بیٹا دیر ہو رہی ہے۔

''مگر اس باپ کو نہیں پتہ کہ آج وہ اپنے بچے، اپنے شہزادے کو کہاں جانے کی دیر کے بارے میں بتا رہا ہے اور نہ ہی اْس بچے کو پتہ ہے کہ آج اس کو کونسا رتبہ ملنے جا رہا ہے اور نہ ہی اس ماں کو پتہ ہے جس کی گود آج اجڑنے والی ہے کہ آج ان کے گھر کونسی قیامت برپا ہوگی اور صف ماتم بچھ جائے گا''…… ماں بھی اپنے شوہر کی بات کوتوڑے بغیر جلد ی سے کمرے میں آتی ہے اور کہتی ہے کہ چلو بیٹا ناشتہ تیار ہے ٹائم بہت ہو گیا ہے جلدی کرو جلدی اوربچہ بھی جلدی جلدی ناشتے کیلئے آجاتا ہے اور ناشتہ کرنا شروع کرتا ہے۔ آج یہ جلدی آخر کس چیز کی ہے؟ اس جلدی میں آج کچھ عجیب سی بات ہے……آج سورج کی کرنیں بھی شاید اسی وجہ سے نہیں نکل رہیں۔ موسم بھی سرد بہت ہے، فضا میں عجیب سی خاموشی ہے۔

اس دوران گاڑی کے ہارن کی آواز آتی ہے اور ماں باپ دونوں اپنے چاند سے بچے، اپنے لخت جگر کو بیک زبان ہوکر کہتے ہیں کہ چلو چلو گاڑی آگئی چلو جلدی جلدی……جلدی……مگر انہیں کیاپتہ کہ آج کے دن…… اس وقت ان کا بچے ہمیشہ کیلئے ان سے دور جا رہاہے۔ تو شاید وہ اسے روک لیتے…… تو……شاید وہ اسے اورزیادہ سینے سے لگا کر پیار کر لیتے……تو شاید اس دن وہ والدین اسے اپنی آغوش میں چھپا لیتے۔مگریہ شاید…… بس اب رہ گئی اور……شاید ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ہی رہ گئی……آج وہ مرد مجاہد، وہ شیر، وہ شہید اپنی شہادت کے جذبے سے سرشاراپنے والدین کو آخری سلام کرتے ہوئے اپنے گھر سے نکل گیا۔ اور باپ بھی بیٹے کو رخصت کرنے کے بعد اپنے دفتر کی طرف روانہ ہو گیا۔

بچے کے سکول جانے کے بعد ماں گھر کے کاموں میں مصروف ہوگئی اور ساتھ ہی اپنے شیر بیٹے کے اتارے گئے کپڑے اور اس کا بستر کو ٹھیک کرنا شروع ہو گئی۔ اسی اثناء میں فون کی گھنٹی بجتی ہے جب وہ فون دیکھتی ہے تو یہ فون اس کے شوہر کا ہوتا ہے وہ فون اٹھا کر سلام کرنے ہی لگتی ہے کہ آگے سے ٹوٹے ٹوٹے لفظوں میں،غم سے چور اورانتہائی تیز سانسوں سے آواز آتی کہ ہمارے بچے کے سکول پر دہشتگردوں نے حملہ کر دیا ہے میں سکول کی طرف جا رہاہوں ……یہ سنتے ہی ماں کی سانس روک جاتی ہے اور فون ہاتھ سے گرجاتا ہے اور وہ بساختہ چیخ اٹھتی ہے کیونکہ اس پر آج قیامت برپا ہوگئی ہے 'کیونکہ اس کی گود سوہنی ہو رہی ہے۔ وہ پھر اپنے شوہر کو فون کرتی ہے اور پوچھتی ہے کہ ہمارا بچے کیسا ہے؟ وہ ٹھیک ہے آپ کے ساتھ ہے میری بات کروائیں؟اور شوہر انتہائی آہستہ اور درد بھری آواز میں کہتا ہے کہ……پتہ نہیں ……بس دعا کرو…… اور فون بند کر دیتاہے۔

کچھ دیگر گزرنے کے بعد پھر ماں کے فون کی گھنٹی بجتی ہے اور ماں فورا فون اٹھاتی ہے اور میاں کے بولنے سے پہلے بولتی ہے کہ کہاں ہے میرا بیٹا بات کروائیں؟کیسا ہے وہ؟ٹھیک ہے؟پتہ چلااس کا؟۔۔۔۔۔۔ مگر آگے سے آواز نہیں آتی صرف ہچکیوں، آہوں سے لبریز ایک دل دلہلا دینے والی آواز آتی ہے کہ ہمارابیٹا شہیدہو گیا۔۔۔وہ ہمیں چھوڑ گیا ہے۔۔۔۔ہم برباد ہو گئے۔۔۔۔

بس یہ سننا تھا کہ ماں پرسکتہ طاری ہو گیا اور اس کی آواز بند ہو گئی۔آنکھ سے آنسوں کا ایک سمندر سا نکلا پڑا۔۔ ساتھ کھڑی دیگر عورتوں نے سہارا دیا……کیوں کے آج اس کا پھول دہشگردوں نے توڑ دیا تھا۔۔۔۔

کچھ ہی دیر بعد سائرن کی آواز آتی جس کو صبح تیار کرکے گھر سے سکول وین میں بھیجا تھا اب اس کا شہزادہ سفید کفن میں لپٹا،شہادت کے رتبہ کو پاکر ایمبولینس کی چیختی اور دل پر وار کرتی ہوئی تیز آواز کے سائرن میں نہایت میٹھی نیند سوئے واپس گھر آرہاہے جہاں پر شاید کربلا کے منظر کی ایک جھلک کہوں تو شاید غلط نہ ہونگا۔

مگر اسی دوران ماں کی چیخ نے نہ صرف سائرن کی آواز کو بھی جیسے دبا دیا اور وہاں کھڑے تمام لوگوں کے دلوں کو ہلا دیا اورپھر شہید کی میت کو ماں کے سامنے لایا گیا اور ماں نوح کناں کرتے ہوئے اپنے اجڑی ہوئی گود کا ماتم کرنے لگی۔

قارئین کرام 16دسمبر کے دن شہید ہونیوالے بچوں کے والدین پر جوقیامت ٹوٹی وہ بیان نہیں کی جا سکتی۔ آج کا دن پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن سقوط ڈھاکہ کی وجہ سے تو تھاہی مگر ان بچوں کی شہادت نے پاکستان کی تاریخ کا سب سے گہرا زخم دیا۔ جو پاکستان کے ہر شہری چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب، فرقہ، قومیت یا جماعت سے ہو سب کے دلوں کو ہلا گیا۔ اس دن ہر پاکستانی کی آنکھ نم تھی ہر بندہ ایسا تھا جیسے یہ قیامت اس کے گھر ٹوٹی ہو۔ ہر گلی، ہر محلہ، ہر چوک، ہر شہر،الغرض پوراملک سوگ میں تھا۔ کیونکہ اس دن سماج دشمن عناصر نے ہر پاکستان کے دل پر حملہ کیا تھا۔ ان سماج دشمن عناصرنے کئی ماؤں کی گودیں اجاڑ دیں۔ وہ والدین جنہوں نے اپنے بچوں کو سکول کی یونیفارم میں بھیجاتھا مگر آج وہ واپس سفید کفن میں لپٹے آئے۔

16دسمبر کا دن آتے ہی ان والدین کے زخم نہ صرف تازہ ہوتے ہیں بلکہ ان کے سامنے وہ سارا واقعہ دوربارہ لمحہ بہ لمحہ سامنے آتا ہے۔ شہید بچوں کے والدین چاہتے ہوں گے کہ دسمبر کی 16تاریخ کلینڈرسے نکال دی جائے اور یہ 16دسمبر کبھی نہ آئے۔ کیونکہ یہ دن ان پر ہر سال قیامت توڑ جاتا ہے۔ان والدین کو اس دن یہ تمام منظر پھریادآتا ہے۔ یہ تاریخ کا سیاہ ترین دن ان والدین کو بار بار یہ احساس دلاتا ہے کہ آج کے دن ہم اپنے بچے کو سکول ہی نہ بھیجتے۔

16دسمبر کو ان ننھوں پھولوں کی شہادت نے علم کا پرچم بلند کر دیا اور میں سلام پیش کرتا ہوں آرمی پبلک سکول کی اس شہید پرنسپل، اساتذہ اور سٹاف کو جنہوں نے بچوں کو بچانے کیلئے اپنی جانیں بھی گنوائی اور شہادت کا رتبہ پایا۔ کیونکہ آج ان کی شہادت نے یہ ثابت کر دیا کہ حصول علم کیلئے اور قوم کے معماروں کو بچانے کیلئے آرمی پبلک سکول میں بچوں، اساتذہ، پرنسپل نے اپنی جان تک قربان کر دی۔ آج کے دن ان بچوں نے کئی بچوں کیلئے مثالیں قائم کر دیں کہ ان شہداء نے اپنے لہو سے علم کی شمع کو روشن کر دیا۔

ان شہدائے آرمی پبلک سکول نے پوری قوم، انسانیت کو بتا دیا کہ یہ سماج دشمن عناصر صرف جہالت کے پیروکار ہیں وہ علم کی کرن کسی کے دل میں روشن نہیں ہونے دینا چاہتے۔ ان شر پسند عناصر کا کسی دین مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ کیونکہ کوئی بھی مذہب یا دین بچوں پر اس طرح کے ظلم کا درس نہیں دیتا۔

آج کے دن حکومت پاکستان کوچاہئے ان شہداء کی قربانی کو مدنظر رکھتے ہوئے 16دسمبر کو قومی دن کے طور پر منانے کا اعلان کریں اور اس کیلئے تمام سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی اداروں کوان شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے احترام سے منائیں۔ تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کو انکی قربانیوں کے بار ے میں بتایا جاتا رہے اور یہ شہداء ہمیشہ اس دن کے ساتھ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں تاکہ ہمارا ملک میں صرف ایک قوم پاکستان ہوں۔

٭٭٭

مزید : ایڈیشن 2


loading...