حملوں کا خدشہ، اسلام آباد پولیس نے شہریوں کے بجائے اپنی سکیورٹی میں اضافہ کر لیا

حملوں کا خدشہ، اسلام آباد پولیس نے شہریوں کے بجائے اپنی سکیورٹی میں اضافہ ...

  



اسلام آباد(آن لائن)دہشت گردوں کی طرف سے ممکنہ خود کش حملوں کا جواز بنا کر وفاقی پولیس نے شہریوں کے جان و مال  کے تحفظ کو ثانوی حیثیت دیتے ہوئے اپنی سیکیورٹی بڑھا دی، اس مقصد کے لئے تاجر برادری اور دیگر مغیر حضرات  کے تعاون سے اسلام آباد کے تمام تھانوں کے اطراف میں سات فٹ اونچی حفاظتی دیوار کھڑی کر دی، تھانہ میں آنے والے ہر شہری کو گیٹ پر روک لیا جاتا ہے  جہاں پر سنتری کو خوش کر کے یا سفارش پر ہی اندر داخل ہونے کی اجازت ملتی ہے۔ وفاقی دارلحکومت میں قائم  تھانپ لوہی بھیرجہاں اسلام آباد  کے دیگر تھانوں کی نسبت جرائم کی شرح  بھی ذیادہ ہے اور بھتہ لینے کی وارداتیں بھی ہو رہی ہیں۔مذکورہ تھانہ میں کئی عرصہ سے تعینات  سب انسپکٹرز اور اے ایس آئیز کی سپورٹ کی وجہ سے بھتہ مافیا پر کنٹرول نہیں پایا جا سکا۔ پولیس کی عدم توجہ اور جرائم پیشہ افراد کی مبینہ سر پرستی کرنے کی وجہ سے شہر میں سٹریٹ کرائم خصوصا پرس اور موبائل چھیننے کی وارداتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق تھانہ لوہی بھیر کی حدود میں ون ٹو فائیو موٹر سائیکل پر سوار گینگ پولیس کو ایک عرصے سے مطلوب ہے جو کہ سٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں ملوث ہے جو آئے روز شہریوں کو خصوصا راہگیروں سے گن پوائنٹ پر نقدی،موبائل فون وغیرہ چھین کر فرار ہو جاتے ہیں جبکہ مزاحمت کرنے والوں پر گولی مار کر زخمی کرنے کے بھی متعدد واقعات ہو چکے ہیں۔قبل ازیں وفاقی دارلحکومت کے چاروں سرکل کے ایس پیز،ڈی ایس پیز آفس اور تھانہ جات کے باہر سیکورٹی کے نام پر لگائے گئے 70فیصد کیمرے خراب نکلے۔ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق وفاقی پولیس نے کروڑوں روپے کی خطیر رقم لگا کر  اسلام آباد کے چاروں سرکل صدر،سٹی،انڈسٹریل ایریا اور رورل سرکل سمیت ایس ڈی پی اوز  آفس کے باہر سیکورٹی خطرات کے پیش نظر کیمرے لگائے تھے جن میں سے متعدد کیمرے خراب ہو چکے ہیں،وفاقی پولیس کے ذرائع کے مطابق کیمروں کی ریکارڈنگ کیلئے میموری بھی کم ہے جس کی وجہ سے صرف دو ماہ  جبکہ اکثر تھانوں میں صرف دو ہفتے تک کا ریکارڈ محفوط کیا جا سکتا ہے۔

سکیورٹی

مزید : صفحہ آخر