255غیر قانونی بلند عمارتوں کا انکشاف، خزانے کو اربوں کا نقصان 

255غیر قانونی بلند عمارتوں کا انکشاف، خزانے کو اربوں کا نقصان 

  



اسلام آباد(آن لائن) سی ڈی اے کی ملی بھگت سے وفاقی دارالحکومت میں 255سے زیادہ عمارتیں غیر قانونی طور پر بلندیوں کی سطح پرپہنچ چکی ہیں جبکہ وفاقی دارلحکومت کے کمرشل پلازوں کے بل بورڈ زکی عدم ریکوری کی مد میں قومی خزانے کوسالانہ 1ارب سے زیادہ کا نقصان پہنچائے جانے کا انکشاف ہوا ہے  بلیو ایریا میں 140عمارتوں کے خلاف 80سے زیادہ شکایات سی ڈی اے کو موصول ہوئیں لیکن ایکشن لینے کے بجائے ان عمارتوں کے مالکان کے ساتھ مک مکا شروع کر دیا گیا اربوں روپے کے سکینڈل سی ڈی اے کے شعبہ بی سی ایس اور پلاننگ ونگ افسران کے خلاف موجود ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ سی ڈی اے میں کئی ایسے افسران موجود ہیں اور متعدد ریٹائر ہو چکے ہیں جن کی وساطت سے  اسلام آباد میں تقریبا 750ایکٹر اراضی بڑے بڑے محلوں کوبیوٹفکیشن کی مد میں غیر قانونی طور پردی جا چکی ہے اگر یہی اراضی الاٹ کی جاتی تو سی ڈی اے کا اس رقم سے کم از کم 2سیکٹر ڈویلپ کئے جا سکتے تھے کیونکہ مہنگے ترین سیکٹروں میں 750ایکٹر پر مشتمل اراضی کی قیمت 100ارب روپے بنتی ہے  ادھر سی ڈی اے کے افسران کو جب کسی عدالت کی طرف سے غیر قانونی بلڈنگز کو گرانے یا انکروچمنٹ ختم کرنے کے احکامات جاری ہوتے ہیں تو یہ لوگ کچی بستیوں یا کم آمدنی والے گھرانوں کی اکھاڑ بچھاڑ کا سلسلہ شروع کر کے خانہ پر ڈال لیتے ہیں۔ادھر ایم سی آئی کے زیر کنٹرول ڈی ایم اے کے افسران نے وفاقی دارالحکومت کے کمرشل پلازوں پر نصب کئے گئے بل بورڈز کے ٹیکس لینے کے بجائے ان سے منتھلیاں لگا رکھی ہیں جس سے قومی خزانے کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے ڈی ایم اے ذرائع نے بتایا کہ ڈائریکٹر ڈی ایم اے ظفر اعوان میئر شیخ انصر کا چہتا ہے اور جو مرضی آئے کر تا جس پر کوئی چیک اینڈ بیلینس نہیں مذکورہ افیسر جہاں سے منہ مانگی رشوت نہ ملے وہاں اپریشن کر دیتے ہیں اور جہاں رشوت ملے وہاں اربوؓ روپے کی قابض اراضی کو واگزار نہیں کیا جاتا۔

سی ڈی اے 

مزید : علاقائی


loading...