ایف بی آر ساڑھے 8لاکھ آڈٹ کیسوں کی حدود کا تعین کرے: پاکستان ٹیکس بار

  ایف بی آر ساڑھے 8لاکھ آڈٹ کیسوں کی حدود کا تعین کرے: پاکستان ٹیکس بار

  



لاہور(این این آئی)پاکستان ٹیکس بارایسوسی ایشن کے سینئر نائب صدر قاری حبیب الرحمان زبیری نے کہا ہے کہ ساڑھے 8لاکھ آڈٹ کے کیسزکے فیصلے ابھی تک التوا ء کا شکار ہیں، ٹیکس دہندگان کے ایڈریسزکے مطابق کیسز لگائے جائیں، ایف بی آر کی کارکردگی پہلے ہی متنازعہ بن چکی ہے،ٹیکس آمدن کو بہترکر نے کے لیے 214ڈی  کے کیسز جلد حل کیے جائیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور ٹیکس بارکے نائب صدر عاشق علی رانا، چیئر مین کوا ڈی نیشن کمیٹی آئی کیپ لاہور ٹیکس بار سید حسن علی قادری، سابق جنرل سیکرٹری ایل ٹی بی عبدالوحید،سیکرری اطلاعات پاکستان ٹیکس بار شہباز صدیق او ر دیگر سیگفتگوکرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ 2014کے آڈٹ کیسز ابھی تک التوا ء کا شکار ہیں،214ڈیء کے خاتمے کے بعدابھی تک ساڑھے 8لاکھ کیسز کا فیصلہ نہیں ہو،ایف بی آر کے افسران ٹیکس دہندگان کے ایڈریسزکے مطابق کیسز کا تعین نہیں کر رہے،لاہور کے کیسزگوجرانوالہ، ملتان کے کیسز سیالکوٹ اور سیالکوٹ کے کیسز راولپنڈی میں کھولے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے ٹیکس دہندگان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی کارکردگی پہلے ہی متنازعہ بن چکی ہے اور اس طرح کے اقدامات کے بعد مزید متنازعہ بن جائے گی۔ آڈٹ کیسز پر لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے،214ڈ ی کے آڈٹ کیسز کے فیصلوں پر ٹیکس آمدن بہتر ہو سکتی ہے اور خسارے کو بھی پورا کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ ٹیکس بارز اور اسٹیک ہولڈرز ہمیشہ اقتصادی استحکام کے لیے حکومت کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔

مزید : کامرس