وکلاء گردی کی ذمہ دار، پنجاب پو لیس

وکلاء گردی کی ذمہ دار، پنجاب پو لیس
وکلاء گردی کی ذمہ دار، پنجاب پو لیس

  



پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی تاریخ ہنگاموں سے بھری پڑی ہے۔ تشدد، قتل و غارت، ڈکیتی، اغوا برائے تاوان، ملزمان کی عدم گرفتاری پر احتجاج اور ہنگامہ آرائی تومعمول کے واقعات ہیں۔ 11دسمبر کو لاہور میں ایک ایسا سانحہ پیش آیا جسے سنتے ہی دل کانپ جاتا ہے وکلاء کی جانب سے پاکستان کے سب سے بڑھے دل کے امراض پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کا رڈیا لو جی ہسپتال میں گھس کر توڑ پھوڑ اور غیرانسانی سلوک کی معاشرے کے ہر طبقے نے مذمت کی ہے۔ ہر زی شعور انسان نے ایک ہی بات کی ہے کہ وکلاء نے جو کیا ہے اس طرح تو حالت جنگ میں بھی نہیں ہوتا، وکلاء کا ایک بہت بڑا جلوس جس میں 500 سے زائد وکلاء موجودتھے۔سیشن کورٹ اور ہائیکورٹ سے ہوتا ہوا وکیلوں کا پیدل جتھا پی آئی سی پہنچ جاتا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پی آئی سی پر حملے کیلئے وکلاء کی صف بندی کی رپورٹ انٹیلی جنس ایجنسی کی جانب سے حکومت کو پیش کردی گئی تھی۔ اسکے باوجود وکلاء کو جلوس نکالنے اور پھر انہیں اسمبلی ہال سے گورنر ہاؤس جانے اور وہاں سے جیل روڈ کا رخ کرنے کی بھی اجازت دیدی گئی جہاں سروسز ہسپتال اور پی آئی سی کی سکیورٹی کے مناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث وکلاء کو پوری دیدہ دلیری کے ساتھ اپنا مشن پایہ تکمیل کو پہنچانے کا موقع مل گیا جبکہ بعض نوجوان وکلاء جلوس کے دوران اور حملہ کے وقت اپنی کارروائیوں کی سوشل میڈیا پر لائیو کوریج بھی کرتے رہے

اور ڈاکٹروں کو سبق سکھانے کی دھمکیاں دیتے رہے۔ اگر اسکے باوجود ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کیلئے پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے کسی قسم کا تردد نہیں کیا گیا تو اس سے حکومتی گورننس کا سوال اٹھنا بھی فطری امر تھا اور عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اس افسوسناک واقعہ میں ہونیوالی ہلاکتوں اور دوسرے نقصانات کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ فوٹیج دیکھ کر ایسے دکھائی دیتا ہے جیسے جنگل کا قانون ہے کوئی پو چھنے والا نہیں،آج تک کسی فلم میں بھی ہسپتال پر اس طرح کے سین نہیں دکھائے گئے جنہوں نے قانون پر عملدرآمد کروانا تھا وہ کہاں سو رہے تھے سی سی پی ذوالفقار حمید اور ڈی آئی جی آپریشنز آخر کس بات کے منتظر تھے۔

دونوں افسران نے پہلے تو بروقت کارروائی کرکے انھیں روکنا بھی مناسب نہیں سمجھا پتہ چلا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب جو اسلام آباد میں موجود تھے انھوں نے ٹی وی پر نشریات دیکھ کر وکلاء کے خلاف کا رروائی کا فی الفور حکم دیا، سی سی پی او لاہور خاموش تماشائی بنے یہ سارا منظر دیکھتے رہے اور موقع پر نہ پہنچے۔ ڈی آئی جی آپریشن بھی دو گھنٹے تک کوئی فیصلہ نہ کرپائے۔ ہسپتال پر وکلاء گردی سے حکومت کی جو بدنامی ہو رہی ہے ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے کہ ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں۔حکومت کے پاس اپنی عزت بچانے کا ایک ہی راستہ ہے کہ انتہا درجے کی غفلت، لاپرواہی اور نااہلی کے مرتکب سی سی پی او لاہور اور ڈی آئی جی آپریشنز کو فارغ کرنے کے بعد ان کی فائلوں میں لکھ دیا جائے کہ آئندہ سے انھیں کہیں بھی فیلڈ میں پو سٹنگ نہ دی جا ئے۔آئی جی پولیس کا کمال دیکھیں پولیس کی جانب سے آئیڈیل کوآرڈی نیشن نظر آنے کی بجائے پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار کسی سویلین حکومت میں آئی جی پولس کے دفتر کی حفاظت کے لئے رینجرز منگوائی گئی جس کا پورے معاشرے میں مذاق اڑایا گیا۔ سابق سی سی پی او اور ڈی آئی جی نے مولانا فضل الرحمن کے لانگ مارچ سے نمٹنے کے لئے کیبنٹ کمیٹی کے 50 سے زائد اجلاس کئے اس غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ایک بھی اجلاس نہیں بلوایا گیا۔

ڈی آئی جی آپریشنزرائے بابر سعید کی فیلڈ میں اس سے قبل ایک ہی پوسٹنگ بطور ڈی پی اور قصور کام کرنے کی ہے وہاں سے بھی یہ ناکام لوٹے تھے اور ان کی تعیناتی کے دوران وہاں بڑا سکینڈل اڑھائی سو کمسن بچوں کے ساتھ بدفعلی کا پیش آیااور انہیں سزا کے طورپر وہاں سے تبدیل کردیا گیا۔ سی سی پی او ذوالفقار حمید کو عبوری حکومت نے الیکشن کے دنوں میں بطور آر پی او گوجرانوالہ تعینات کیا گیا تھا، انہیں بھی الیکشن میں ناکام کارکردگی کی وجہ سے وہاں سے تبدیل کرنا پڑا۔ چیف سیکرٹری پنجاب میجر (ر) اعظم سلیمان جنہیں پنجاب کی پولیس اور بیورو کریسی کا قبلہ درست کرنے کے لئے لایا گیا ہے فی الحال تو وہ اس مقصد میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتے ہیں اور اب تک پنجاب پولیس اور بیوروکریسی کی کارکردگی اس قدر مایوس کن ہے کہ ان اداروں کی مسلسل ناکامی کی وجہ سے پی ٹی آئی کی حکومت پر کئی ایک سوالیہ نشان ہیں اور عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت مکمل طور پر ناتجربہ کار اور نااہل ہے۔ چیف سیکرٹری جنہیں صوبے کے تمام مسائل اور ان کے حل کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور اس حوالے سے وہ براہ راست وزیراعظم کو جواب دہ ہیں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ پنجاب کی سول بیورو کریسی کے ہیڈ کوارٹر سول سیکرٹریٹ کی حفاظت کے لئے بھی پولیس کی مطلوبہ نفری کا موجود نہ ہونا اور پنجاب حکومت کا میگافون پر تمام سول سیکرٹریٹ ملازمین کو باہر نکل جانے کو کہنا اور وکلاء کو سیکرٹریٹ میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے باقاعدہ اعلان کروانا جو تاریخ میں کبھی بھی نہیں ہوا یہ بھی کسی لمحہ فکریہ سے کم نہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...