صدر چیمبر کا آٹے کے بحران اور مہنگے داموں فروخت پر اظہار افسوس

صدر چیمبر کا آٹے کے بحران اور مہنگے داموں فروخت پر اظہار افسوس

  



حیدرآباد(بیورورپورٹ)حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر دولت رام لوہانہ نے حیدرآباد میں آٹے کے بحران اور مہنگے داموں آٹا فروخت کرنے پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا ہے، گذشتہ دِنوں فی کلو آٹا 40 روپے سے 42 روپے کے درمیان دستیاب تھا لیکن اَب اِس کی قیمت 55/56 روپے فی کلو ہوگئی ہے اور عام آدمی سے روٹی کا نوالہ بھی چھینا جارہا ہے، ایک بیان میں دولت رام لوہانہ نے کہا کہ محکمہ خوراک چکیوں کو کوٹے سے بہت کم گندم فراہم کرتا ہے جو حیدرآباد کے شہریوں کی مانگ سے کہیں کم ہونے کی وجہ سے مطلوبہ تعداد میں گندم مارکیٹ سے مہنگے داموں خرید کر مانگ پورا کرنے کی کوشش کررہے ہیں یہی وجہ ہے کہ آٹے کی قیمت 55 روپے سے 56 روپے فی کلو ہوگئی ہے جو عوام سے سراسر زیادتی ہے، اُنہوں نے کہا کہ حیدرآباد، لطیف آباد اور قاسم آباد میں محلوں کی آٹا چکیوں کے لیے 2400 کلو گندم منظور شدہ ہے اُن کی ضرورت کے مطابق دی جائے لیکن اِس وقت جو کوٹہ فراہم کیا جارہا ہے وہ 140 کلو ہے اِس کمی کو پورا کرنے کے لیے چکی مالکان مارکیٹ سے گندم خریدنے پر مجبور ہیں اور عوام کو مہنگے داموں آٹا میسّر آرہا ہے اگر حکومت سنجیدہ ہے اور چاہتی ہے کہ آٹے کی قیمتیں کم ہوں تو آٹا چکیوں کو اُن کا پورا کوٹہ فراہم کیا جائے اور جو اِن چکیوں کی گندم کٹوتی کرکے بند چکیوں کو من مانے طریقے سے جاری کی جارہی ہے یہ سلسلہ بند کرایا جائے تاکہ قیمتیں کمی کی طرف آسکیں، اُنہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر خوراک سندھ ہری رام اور ڈائریکٹر فوڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اِس گھمبیر صورتحال کا فوری نوٹس لیں وہ ایسے غیر قانونی اقدام اور عوام کو پریشان کرکے من مانے طریقے سے گندم کا بحران پیدا کرنے والے محکمہ خوراک کے افسران اور اہلکاروں کے خلاف باقاعدہ انکوائری کرائیں اور ملوث پائے جانے والوں کے خلاف سخت انضباطی کارروائی کی جائے تاکہ معمول پر آٹے کی قیمتوں کو لایا جاسکے۔

اظہار افسوس

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...