جنید حفیظ کسی رعایت کا مستحق نہیں، غیر ملکی دباؤنا منظور، علماء

جنید حفیظ کسی رعایت کا مستحق نہیں، غیر ملکی دباؤنا منظور، علماء

  



ملتان (سٹی رپورٹر)جماعت اہلسنت پنجاب کے صوبائی ناظم اعلی علامہ حافظ محمد فاروق خان سعیدی، جمیعت علماء پاکستان جنوبی پنجاب کے صدر محمد ایوب مغل،جماعت اہلسنت کے ضلعی آرگنائزر قاضی بشیر گولڑوی، ضلعی ناظم اعلی قاری مطیع الرسول سعیدی، مدرسہ ہدایت القرآن ممتاز آباد کے مہتمم مفتی محمد عثمان پسروری اور ضلعی ناظم اطلاعات ڈاکٹر ارشد بلوچ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ اگر ملعون جنید حفیظ کیس میں غیر ملکی دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو اسے برداشت نہیں کیاجائے گا اور ہم اس پر(بقیہ نمبر45صفحہ12پر)

 شدید ردعمل کا اظہار کریں گے کیونکہ مقدمے کی سماعت کے دوران جنید حفیظ پر گستاخی رسولؐ کا الزام ثابت ہو چکا ہے جن 20افراد نے جنید حفیظ کے حق میں سپریم کورٹ کوخط لکھا ہے ان میں عاطف قادیانی کے دستخط بھی شامل ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اسے قادیانی کی سرپرستی بھی حاصل ہے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے علامہ حافظ محمد فاروق خان سعیدی نے کہا کہ جب مشرقی پاکستان الگ ہوا تو صیہونی طاقتوں کیایجنٹوں نے تعلیمی اداروں میں گھس کر نسل نو کے ذہنوں کو بگاڑا جس سے ہمارا ملک دو ٹکڑے ہوا جنید حفیظ جس نے زکریا یونیورسٹی میں کھلم کھلا نبی کریم ؐ کی شان میں گستاخی کی کے خلاف 295سی کا مقدمہ درج ہوا اس کے خلاف شہادتیں مکمل ہو چکی ہیں اس دوران بیس افراد نے سپریم کو رٹ کو جو خط لکھا ہے وہ یہودیت اور قادیانیت کے گٹھ جوڑ کا منہ بولتا ثبوت ہے ملتان میں ایک نمائندہ وفد نے گذشتہ دنوں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود حسین قریشی سے ملاقات میں یہ واضح کردیا تھا کہ ہم غیر ملکی دباؤ برداشت نہیں کریں گے کیونکہ یہ معاملہ نہ تو سیاسی ہے اور نہ ہی فرقہ وارانہ بلکہ یہ ہمارے دین اور ایمان کا مسئلہ ہے جنید حفیظ کسی بھی رعائیت کا مستحق نہیں ہے اس وقت تمام مکاتب فکر کا متفقہ مطالبہ ہے کہ اسے کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور نشان عبرت بنایا جائے اسی طرح ملتان کے دورے کے دوران ہم نے وفاقی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر پیر نورالحق قادری کو بھی تمام صورتحال سے آگاہ کردیا تھا پریس کانفرنس میں جماعت اہلسنت کے تمام علماء نے اس بات پرسخت تشویش کا اظہار کیا کہ دینی مدارس کی تنظیموں کو ایک بار پھر ایسا فارم پر کرنے کے لئے دباؤ ڈالا جارہا ہے جس میں ان کے خاندان تک کے کوائف کو طلب کیا گیا ہے حالانکہ اعلی حکومتی عہدیداروں سے مزاکرات کے بعد یہ بات طے ہوگئی تھی کہ دینی مدارس کو وزرات تعلیم کے ماتحت کیاجائے گا اور اب اس قسم کی کوئی پوچھ گچھ نہیں ہو گی یہ اصل میں نیا پنڈورا بکس کھولنے کی ساز ش ہے وزیراعظم اس کا سختی سے نوٹس لیں اور یہ فارم واپس لیاجائے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی نیت پر ہمیں کوئی شک نہیں ان کے ایک خطاب کے بعد یہ بات سامنے آرہی ہے کہ ان کی کچھ گفتگو ناموس رسالت ؐ کے حوالے سے نامنا سب تھی جس پر انہیں قوم سے معافی مانگنی چاہیئے جے یوپی کے رہنما محمدایوب مغل نے کہا کہ تحفظ ناموس رسالت ؐ کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کو تیار ہیں حکومت کو چاہیئے کہ وہ قادیانیوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں کیونکہ اب ان کی سرگرمیاں کافی تیز ہورہی ہیں اگر نوٹس نہ لیا گیا تو صورتحال بگڑ سکتی ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...