متنازعہ اسناد فیس‘تعلیمی بورڈ حکام اور سکولزسربراہان میں کشیدگی برقرار

  متنازعہ اسناد فیس‘تعلیمی بورڈ حکام اور سکولزسربراہان میں کشیدگی برقرار

  



ملتان (سٹاف رپورٹر) تعلیمی بورڈ ملتان کے حکام کی طرف سے9سال پرانی متنازع اسناد فیس وصولی کے معاملے پر ایک ہزار سے زائد سرکاری اور پرائیویٹ سکولز کے میٹرک کے ایک لاکھ سے زائد طلبا وطالبات کے داخلے روکے جانے اور سرکاری سکولز سربراہان‘اساتذہ‘ ساؤتھ پنجاب پرائیویٹ سکولز گرینڈ الائنس‘ فیڈریشن آف رجسٹرڈ پرائیویٹ سکولز پنجاب اور پنجاب ٹیچرز یونین کے شدید احتجاج اور ردعمل پر کمشنر ملتان ڈویژن کے سخت نوٹس لینے پر آخری تاریخ پر داخلہ فارمز جمع کرنے کے باوجو تاحال کشیدگی (بقیہ نمبر49صفحہ12پر)

جاری ہے۔ سرکاری اور پرائیویٹ سکولز سربراہان کی جانب سے تعلیمی بورڈ کی طرف سے بے قصور بچوں اور بچیوں کے داخلہ فارمز روکے جانے کو سخت ناپسندیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔سکولز سربراہان اور پنجاب ٹیچرز یونین نے جواب کے طور پر سکولز میں میٹرک کے امتحانی سنٹرز قائم نہ ہونے دینے اور امتحانی ڈیوٹی کے لئے اساتذہ فراہم نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے جبکہ ساؤتھ پنجاب پرائیویٹ سکولز گرینڈ الائنس‘ فیڈریشن آف رجسٹرڈ پرائیویٹ سکولز پنجاب نے اس سلسلے میں عدلیہ سے رجوع کرنے کا عندیہ دے دیا ہے او رہائیکورٹ میں رٹ کے لئے قانونی ماہرین سے مشاورت شروع کر دی ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر