تلور کا شکار‘ مہمان نسل تیزی سے نایاب

تلور کا شکار‘ مہمان نسل تیزی سے نایاب

  



چوک مکول(نامہ نگار)عرب شہزادوں کی آمد اور تلور کا غیر قانونی شکار برسوں سے معمول ھے مہمان نسل تیزی سے نایاب ھونے لگی نایاب پرندوں کی تعداد 33 سے 65 ہزار آیندہ کچھ برسوں میں پچاس فیصد کمی اجاے گی 2016 میں تلور کے شکار(بقیہ نمبر50صفحہ12پر)

پر پابندی لگی لیکن اسی سال ختم کردی گئی تھی 2018 میں 10 روز میں ایک سو پرندوں کی اجازت، ملی ماضی میں بھی خیبرپختونخوا میں غیرقانونی شکار کرنے پر سعودی شہزادوں کو دو کروڑ کا جرمانہ ھوچکا ھے ریگستان کے صحرائی علاقوں کے بعد، جنوبی پنجاب کے تھل کے علاقوں دریاے سندھ کی پٹی پر وسیع صحراعرب شہزادوں کے شکار کے لیے پرکشش شکار گاہیں ہیں سائبریا کے یخ بستہ صحراؤں سے زندگی کی بقا کی خاطر ہجرت کرنے والے ایک خوبصورت اور مخصوص پرندے تلور کو وطن عزیز میں بھی زندگی کا تحفظ نہیں

نایاب

مزید : ملتان صفحہ آخر