مظفر گڑھ‘ ٹیچر کا 7ویں کلاس کی طالبہ پر وحشیانہ تشدد‘ انتظامیہ خاموش

  مظفر گڑھ‘ ٹیچر کا 7ویں کلاس کی طالبہ پر وحشیانہ تشدد‘ انتظامیہ خاموش

  



مظفرگڑھ (نامہ نگار) خودساختہ ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے پر نجی تعلیمی ادارے کے ٹیچر نے ساتویں کلاس کی طالبہ پر ڈنڈے برسا دیے تفصیل کے مطابق نیشنل ماڈل سکول پیف دائے والی ماڑی خانگڑھ میں محنت کش غلام فرید بھٹی سکنہ کھوہ دولت والا کے رہائشی کی ساتویں کلاس میں زیر تعلیم طالبہ بیٹی انیلہ فرید کو ٹیچر سلیم نے صرف خودساختہ ڈسپلن توڑنے پر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے ڈنڈے برسا دیے طالبہ اپنی ساتھی کلاس فیلوز سے سکول کے ایک کونے میں تعلیمی گفتگو کر رہی تھی کہ ٹیچر سلیم نے دیکھ لیا اور (بقیہ نمبر29صفحہ12پر)

اسے بلا کر ڈنڈے مارنے شروع کردیے جس سے اسکا دایاں بازو پر چوٹیں آئیں جبکہ نشان بھی پڑ گئے وحشیانہ تشدد پر طالبہ چیختی چلاتی رہی مگر کسی دوسرے ٹیچر نے بھی دخل اندازی نہ کی اس وحشیانہ تشدد کے خلاف جب والد غلام فرید بھٹی نے سکول کے پرنسپل محمد ندیم کو شکایت کی تو پرنسپل الٹا ناراض ہو گیا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے اسے بھگا دیا جس پر والد نے قانون کاروائی کا آغاز کرتے ہوئے پیف حکام اور محکمہ تعلیم مظفرگڑھ کے سی او ایجوکیشن سمیت پولیس کو درخواست دے دی ہے متاثرہ کے والد نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت پنجاب کی طرف سے مار نہیں پیار کی پالیسی کے باوجود مذکورہ تعلیمی ادارے میں ڈنڈوں کا آزادانہ استعمال کیا جا رہا ہے جو کہ حکومتی پالیسی کے کھلم کھلا خلاف ورزی ہے انہوں نے ارباب اختیار سے سکول کو فوری بند کرتے ہوئے کاروائی کی اپیل کی ہے جبکہ طالبہ نے مار پڑنے پر تعلیم کو خیرباد کہہ دیا ہے جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر