آبی تنازعات پرعالمی بینک سے مذاکرات کیلئے پاکستانی وفد امریکہ روانہ

آبی تنازعات پرعالمی بینک سے مذاکرات کیلئے پاکستانی وفد امریکہ روانہ

  



اسلام آباد(این این آئی)بھارت سے آبی تنازعات پر عالمی بینک سے مذاکرات کیلئے پاکستانی وفد امریکا روانہ ہوگیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق انڈس واٹر کمشنر مہر علی شاہ کی قیادت میں پاکستانی وفد امریکا روانہ ہوگیا ہے، 5 روزہ دورے کے دوران پاکستانی وفد عالمی بینک کے اعلیٰ قیادت سے بھارت کے ساتھ سندھ طاس معاہدے پر مکمل عملدرآمد کے لیے مذاکرات کریگا۔ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد عالمی بینک کے ساتھ مذاکرات میں بھارت کے متنازع آبی منصوبوں کشن گنگا اور ریتلے ڈیمز کی تعمیر کا معاملہ اٹھایا جائیگا اور پاکستان وفد کورٹ آف آربٹریشن کی تشکیل پر زور دے گا۔واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دریائی پانی کی تقسیم کے حوالے سے سندھ طاس منصوبہ طے پایا تھا اور ورلڈ بینک سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد کا ضامن ہے۔

پاکستانی وفد

 متنازعہ شہریت قانون کیخلاف نئی دہلی میں احتجاج، توڑ پھوڑ درجنوں بسیں، موٹر سائیکل نذر آتش، سکول کالج، جامعہ ملیہ اسلامیہ بند بی جے پی کی بنگال میں گورنر راج کی دھمکی، یہ اختتام کی شروعات ہے: میجر جنرل آصف غفور

راولپنڈی،نئی دہلی (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی)پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے لیکر آسام اور آگے تک، اختتام کی شروعات، جھوٹی چالیں ہندوتواکے خلاف مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں ہونے والے طاقتور عوامی مظاہروں کو نہیں روک سکتیں۔ اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹویٹ میں ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں مودی سرکار کے اقدامات پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے لیکر آسام اور آگے تک، اختتام کی شروعات۔میجر جنرل آصف غفور نے مقبوضہ کشمیر اور متنازع شہریت بل کے حوالے سے چلنے والے جھوٹے بھارتی اکانٹس کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ ایسی جھوٹی چالیں ہندوتوا کے خلاف مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں ہونے والے طاقتور عوامی مظاہروں کو نہیں روک سکتیں۔آصف غفور نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا یہ یہ حقیقی سرجیکل اسٹرائیک ہے جسے دنیا جانتی ہے، جھوٹے فلیگ آپریشن اور سرجیکل اسٹرائیک پہلے ہی جھوٹ ثابت ہو چکا ہے، سچ ہمیشہ قائم رہتا ہے۔دریں اثنا بھارت کی شمالی ریاستوں اور نئی دہلی میں شہریت کے قانون میں متنازعہ ترمیم کی خلاف احتجاج تیسرے روز بھی جاری رہا مغربی بنگال، میگھالے،چھتیس گڑھ اور میزورام میں فوج تعینات کردی گئی ہے جبکہ مغربی بنگال میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند کر دی گئی ہے۔ نئی دہلی میں طلبہ نے احتجاج نے شہریت بل کیخلاف احتجاج کے دوران مزید متعدد بسوں رکشوں اور موٹر سائیکلوں کو نذر آتش کر دیا نئی دہلی کی صوبائی حکومت نے نئی دہلی میں میٹرق بس اور سرکاری سکولوں کو بند کرکے امتحانات ملتوی کر دیئے ہیں جبکی دہلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تمام کو بند کرکے طلبہ حاسٹل خسالی کرنے ہدایت جاری کر دی گئی ہے ادھر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی مشیر راہول سنہا نے متازع شہریت کے بل کے خلاف مظاہروں کو کچلنے کے لیے مغربی بنگال میں گورنر راج لگانے کی دھمکی دے دی۔راہول سنہا نے کہا ہے کہ اگر اسی طرح سے مظاہرے جاری رہے تو گورنر راج نافذ کیا جائے گا۔متنازع اور مسلم مخالف شہریت کے قانون کے خلاف مظاہرے بھارت کی مختلف ریاستوں میں مظاہرے پرتشدد واقعات میں تبدیل ہو گئے ہیں۔مظاہرین نے بسوں اور ٹرینوں کو آگ لگا دی جبکہ مختلف علاقوں میں کرفیو نافذ ہے اور انٹرنیٹ بھی بند ہے۔دوسری جانب پارلیمنٹ اور صدر سے منظوری ملنے کے بعد مغربی بنگال، پنجاب، کیرالہ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے وزرائے اعلی نے کہا ہے کہ وہ اس متنازع قانون پرعمل درآمد نہیں کریں گے۔ادھر نئی دہلی کے طلبا نے نریندر مودی کو وزیراعظم اور امیت شاہ کو وزیر داخلہ ماننے سے ہی انکار کر دیا۔ ان کا مقف ہے کہ ان دونوں نے آئین کو توڑا ہے۔عوام نے مودی کے حمایتی میڈیا کے خلاف بھی احتجاج کیا مغربی بنگال اور آسام میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ آسام میں جاری احتجاج کے دوران 17 سالہ لڑکا آسام پولیس کی فائرنگ میں گولی لگنے سے مارا گیا۔ اس کے ہم جماعت عبدل نے کہا کہ لگ بھگ 500 احتجاجی جمع تھے اور وہ اور اس کے دوست صرف نعرے بازی کررہے تھے۔ ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق عبدل نے بتایا کہ یکایک سڑکوں کی لائٹس گل ہوگئیں اور پولیس نے فائرنگ شروع کردی۔ ہم اپنی زندگی بچانے بھاگنے لگا، وہ دہشت پیدا کرنے والا ماحول تھا۔بھارت کی جانب سے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت سے متعلق آئین کا آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کر کے مقبوضہ کشمیر اور لداخ کو غیر قانونی طریقے سے بھارتی یونین میں شامل کر لیا تھا۔جبری اقدامات کے خلاف بڑے پیمانے پر عوامی ردعمل کے خوف سے بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست سے کرفیو نافذ کر رکھا ہے جسے 4 ماہ سے زائد عرصہ ہو چکا ہے لیکن لاکھوں کی تعداد میں فوج تعینات ہونے کے باوجود مقبوضہ وادی میں آئے روز مودی سرکار کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔بھارت کی ہندو انتہا پسند حکومت نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے 9 دسمبر کو لوک سبھا میں بھارتی شہریت سے متعلق متنازع بل پیش کیا جس کے تحت بنگلادیش، پاکستان اور افغانستان سے آنے والے غیر مسلم تارکین وطن کو شہریت دی جائے گی لیکن مسلمانوں کو شہریت نہیں دی جائے گی۔بھارتی شہریت کے متنازع بل کو راجیہ سبھا (بھارتی پارلیمنٹ کا ایوان بالا) نے بھی 11 دسمبر کو منظور کر لیا تھا اور پھر 14 دسمبر کو بھارتی صدر راج ناتھ کووند کی منظوری کے بعد یہ بل باقاعدہ قانون بن چکا ہے۔مودی سرکار کے اس اقدام کے خلاف بھارت میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہو رہے ہیں

بھارت احتجاج

مزید : صفحہ اول


loading...