بچوں کو تعلیم کی فراہمی یقینی بنائے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا، سعید غنی

  بچوں کو تعلیم کی فراہمی یقینی بنائے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا، سعید ...

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر) صوبائی وزیر اطلاعات و محنت سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کو تعلیم کے شعبے میں میں کام کرنے والی مستند غیر سرکاری تنظیموں کے تعاون کی ضرورت ہے تاکہ صوبے میں موجود تمام مزدوروں کے بچوں کو خواندہ بنایا جا سکے۔صوبائی وزیراطلاعات و محنت ہفتے کی شب آرٹس کونسل کراچی میں منعقدہ بچوں کے میلے اور انٹرسکول مقابلوں کی کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب کا اہتمام گرین کریسنٹ ٹرسٹ کے قیام کی سلور جوبلی کے سلسلے میں کیا گیا تھا۔سعید غنی نے اس موقع پر کہا کہ حکومت سندھ سوشل سکیورٹی کے نظام کو صوبے بھر میں عام کرنا چاہ رہی ہے جس کے تحت تمام مزدوروں کے بچوں کو تعلیم کی فراہمی لازمی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا جس کے لیے صوبائی حکومت کو گرین کریسنٹ ٹرسٹ جیسی تعلیم کے شعبے میں کام کرنے والی مستند غیر سرکاری تنظیموں کا بھرپور تعاون چاہئے ہوگا۔ مزدوروں کے بچوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے حکومت تمام وسائل اور سرمایہ فراہم کرے گی اور غیر سرکاری تنظیموں کو حکومت کے ساتھ مل کر اس مشن کو مکمل کرنا ہوگا۔ سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت کو غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ اشتراک عمل کرکے اس انداز میں کام کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر سے جو لوگ اپنا وقت، سرمایہ، اور وسائل نکال کر تعلیم کے شعبے میں کام کرتے ہیں وہ درحقیقت ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری نبھا رہے ہوتے ہیں۔ حکومت وقت کا فرض ہے کہ ان کی بھرپور مدد کی جائے۔ اس حوالے سے گرین کریسنٹ ٹرسٹ کو سندھ میں خواندگی کے مشن کو بڑھانے میں جس قسم کے تعاون کی ضرورت ہوگی حکومت سندھ اس سے بڑھ چڑھ کر مدد فراہم کرے گی۔ انہوں نے گرین کریسنٹ ٹرسٹ کے تعلیم کے شعبے میں خدمات کو سراہا اور کہا کہ حکومت کو ایسی غیر سرکاری تنظیموں کے کام کی ہر وقت ضرورت رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو تعلیم کی فراہمی یقینی بنائے بغیر کوئی بھی ملک ترقی نہیں کرسکتا اور اس حوالے سے جتنی بھی کوششیں کی جائے کم ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گرین کریسنٹ ٹرسٹ کے سی ای او زاہد سعید نے موجودہ حکومت پر زور دیا کہ کہ ملک میں ناخواندہ بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان جیسے دوسرے مسائل سے نمٹنے کے لیے تعلیمی امرجنسی کا نفاذ عمل میں لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعد تعلیم کا شعبہ دہ وفاق سے صوبوں کو منتقل ہوگیا ہے مگر وفاقی حکومت ملک میں موجود تعلیمی مسائل کو حل کرنے کی ذمہ داری سے خود کو عہدہ برا نہیں کرسکتی۔انہوں نے ارادہ ظاہر کیا کہ سندھ میں تعلیمی نظام کے حوالے سے کام کرنے والے غیر سرکاری تنظیموں کی مشترکہ کنسوشیم کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ صوبے کی تعلیمی پسماندگی کو مشترکہ کاوشوں سے دور کیا جاسکے۔تقریب سے سے کمشنر کراچی کراچی افتخار شلوانی، وائس ایڈمرل ریٹائرڈ ورلڈ عارف اللہ حسینی آرٹس کونسل کراچی کے صدر محمد احمد شاہ نے بھی خطاب کیا اور گرین کریسنٹ ٹرسٹ کی 25 سالہ تعلیمی خدمات کو سراہا۔

سعید غنی

مزید : صفحہ اول