وقت آگیا تما م ادارے اپنی حدود کے بارے میں بات کریں: فواد

  وقت آگیا تما م ادارے اپنی حدود کے بارے میں بات کریں: فواد

  



اسلام آباد(آن لائن)آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے مذکورہ معاملے پر پارلیمنٹ میں قانون سازی کی بجائے عدالت میں نظرثانی درخواست دائر کرنے کا عندیہ دے دیا۔ وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اپنے ایک انٹرویو کے دوران عندیہ دیا۔واضح رہے چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا تھا کہ 20 دسمبر کو ان کی ریٹائرمنٹ سے قبل ہی تفصیلی فیصلہ جاری کیا جائے گا۔فواد چوہدری نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کا ذکر 1956 اور 1962 کے دستور میں ہوا تھا۔تاہم انہوں نے کہا ایک مکمل بحث و مباحثے کے بعد پارلیمنٹ نے 1973 کے آئین کی منظوری کے دوران آرمی چیف کی مدت ملازمت کو ختم کردیا تھا۔ان کا خیال تھا کہ اس دفعہ کو ختم کرنے کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ پارلیمنٹ وزیر اعظم کو ان کی خواہش کے مطابق آرمی چیف کے تقرر یا ان کے خاتمے کیلئے بااختیار بنانا چاہتی تھی۔فواد چوہدری نے مزید کہا 'اگر اس اصطلاح کا کوئی تذکرہ ہوگا تو ضرورت پڑنے پر وزیر اعظم وقت سے پہلے کسی آرمی چیف کو کیسے ختم کردیں گے'۔وفاقی وزیر فواد چوہدری نے 'حکومت، مسلح افواج، اپوزیشن اور عدلیہ' کے درمیان بات چیت کرنے کی ضرورت پر زور دیا کہ تمام ادارے اپنی 'حدود' کے بارے میں ایک مرتبہ فیصلہ کرلیں۔انہوں نے کہا 'اگر یہ چاروں ادارے آپس میں لڑتے رہے تو ہم افراتفری کا شکار ہوجائیں گے'۔فواد چوہدری نے کہا کہ 'اب وقت آگیا ہے کہ تمام ادارے ایک ساتھ بیٹھ کر اپنی حدود کے بارے میں بات کریں کیونکہ 'اقتدار کی ہوس' ملک کے ساتھ پارلیمنٹ کو بھی کمزور کررہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 'بدقسمتی سے پارلیمنٹ جو سب سے طاقتور اور اعلی ترین ادارہ ہونا چاہیے وہ ملک کا سب سے کمزور ادارہ بن رہا ہے'۔دوسری طرف فواد نے کہا ہے کہ ہانگ کانگ کی طرز پر پولیس ناکے پرہونے والی ہرگفتگو، رویہ اور کاروائی ریکارڈ کا حصہ بنانے کے لیے ویڈیو کیمرہ پولیس یونیفارم کا حصہ ہونے بارے میری تجویز پر موٹروے اور اسلام آباد پولیس عملدرآمد کیلئے تیار ہیں۔ ٹوئٹر بیان میں فواد نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل میں نے تجویز دی تھی کہ ہانگ کانگ کی طرز پر ویڈیو کیمرہ پولیس یونیفارم کا حصہ ہونا چاہیے تاکہ پولیس ناکے پرہونے والی ہر گفتگو، رویہ اور کارروائی ریکارڈ کا حصہ بن سکے، ان کا کہنا تھا کہ مجھے خوشی ہے کہ موٹروے پولیس اور اسلام آباد پولیس اب اس طریقہ کار پر عملدرآمد کیلئے تیار ہیں۔

فواد 

اسلام آباد(نیوزایجنسیاں) مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے فواد چوہدری کے بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ 'موجودہ حکومت ایک مزاحیہ تھیٹر ہے'۔احسن اقبال نے کہا کہ فواد چوہدری کو اس طرح کے تبصرے کرنے سے پہلے عدالت کے تفصیلی فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے تھا۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ 'وفاقی وزیر تفصیلی فیصلہ دیکھے بغیر یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ عدالتی فیصلے میں کچھ سقم موجود ہیں '۔علاوہ ازیں جب پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اپنی تازہ ترین کتاب میں انہوں نے 1973 کے آئین کے مطابق تینوں ریاستی ادارے کے اختیارات کے بارے میں بات کی ہے، جیسا کہ آئین میں دیا گیا ہے اور اس کا تعلق ایگزیکٹو، عدلیہ اور پارلیمنٹ سے ہے۔پی پی پی کے سینیٹر نے کہا کہ آئین اور کاروباری قوانین کے تحت مسلح افواج وزارت دفاع سے منسلک شعبہ ہے لہذا یہ ایگزیکٹو کے زمرے میں آتا ہے۔

ردعمل 

مزید : صفحہ اول


loading...