مقبوضہ کشمیر میں نفسیاتی مریضوں کامولانا روم کی شاعری سے علاج

مقبوضہ کشمیر میں نفسیاتی مریضوں کامولانا روم کی شاعری سے علاج

  



سرینگر(آئی این پی) مقبوضہ کشمیر میں ذہنی عارضے میں مبتلا افراد تسکین کے لئے مولانا روم کی صوفی شاعری کا رخ کرتے ہیں۔ ڈاکٹروں کی ایک تنظیم ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے چند سال قبل کیے گئے سروے کے مطابق، مقبوضہ کشمیر میں تقریبا 1. 18 لاکھ افراد ذہنی مسائل کا شکار ہیں۔چنانچہ جب 55 سالہ فاطمہ، کے اکلوتے بیٹے ہندوستانی سیکیورٹی فورسز کی تحویل میں غائب ہوگئے تو وہ شدید ذہنی انتشارکا شکار ہوگئیں توایک نفسیاتی اسپتال کے ڈاکٹروں نے انہیں مولانا جلال الدین رومی کے مزار کی زیارت کرنے اور صوفی موسیقی سننے کو کہا۔ سری نگر میں وادی کشمیر کے واحد دماغی اسپتال کے ایک ڈاکٹر نے کہا۔کہ ہمارے پاس ان کو دینے کے لئے کچھ نہیں، سوائے افسردگی کی دوائیں۔ انہیں ذہنی سکون کی ضرورت ہے۔ لہذا ہم ان سے اپنے اعصاب کو پرسکون کرنے کے لئے صوفی موسیقی سننے کو کہتے ہیں۔نیوز ویب سائٹ القمرآن لائن کے مطابق سیکیورٹی کے باعث اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پرایک ڈاکٹر نے میڈیا کو بتایا کہ صوفیانہ موسیقی سننے بہت سارے مریضوں کی جزوی بحالی کی اطلاع ملی ہے۔صدیوں سے، کشمیر کے صوفی میوزک استادوں نے 13 ویں صدی کے ترکی کے شاعر اور اسلامی اسکالر جلال الدین رومی کی شاعری کے ذریعہ سامعین کومحظوظ کیا ہے۔ دو دیگر فارسی شاعر، جنہوں نے لوگوں کو کشمیر میں باقاعدہ گرویدہ بنایا ہے، ان میں نورالدین عبد الرحمن جامی، اور خواجہ شمس الدین حافظ شیرازی شامل ہیں۔

مزید : عالمی منظر