سانحہ اے پی ایس ، دہشتگرد کا حملے کے دوران معروف صحافی کو فون لیکن دراصل کیا بات چیت ہوئی ؟ چار سال بعد کہانی سامنے آگئی

سانحہ اے پی ایس ، دہشتگرد کا حملے کے دوران معروف صحافی کو فون لیکن دراصل کیا ...
سانحہ اے پی ایس ، دہشتگرد کا حملے کے دوران معروف صحافی کو فون لیکن دراصل کیا بات چیت ہوئی ؟ چار سال بعد کہانی سامنے آگئی

  



پشاور(ویب ڈیسک) سانحہ اے پی ایس کو پانچ سال بیت گئے ہیں اور اس حملے کے وقت دہشتگردوں کی طرف سے آنیوالے ٹیلی فون کی کال معروف صحافی نے شیئرکردی ، رفعت اللہ اورکزئی نے روزنامہ جنگ میں لکھا کہ ’’  یہ 16 دسمبر کی صبح تقریباً 9 بجے کا وقت تھا جب مجھے افغانستان کے نمبر سے ایک کال موصول ہوئی،میں نے فون اٹھایا تو دوسری طرف خلیفہ عمر منصور بات کررہا تھا۔خلیفہ عمر منصور عرف ’نرے‘ (دبلے) تحریک طالبان پاکستان کے پشاور اور درہ آدم خیل گروپ کا امیر تھا۔ وہ آرمی پبلک اسکول اور باچا خان یونیورسٹی پر ہونے والے دونوں حملوں کے ماسٹر مائنڈ بتایا جاتا تھا۔

علیک سلیک کے بعد عمر منصور نے کہا کہ ان کے کچھ حملہ آور پشاور کے کسی اسکول میں داخل ہو گئے ہیں اور میں ان کی دوسرے کال کا انتظار کروں۔میں وثوق سے نہیں کہہ سکتا لیکن فون کال آنے کے تقریباً ایک گھنٹے کے بعد مجھے اچانک ایک ٹی وی چینل پر ایک ٹِکر نظر آیا جس میں وارسک روڈ پر پولیس کے ساتھ کسی جھڑپ کی خبر تھی لیکن اس سے زیادہ اور معلومات نہیں تھیں۔

ابھی یہ خبر بریک ہورہی تھی کہ شدت پسند کمانڈر خلیفہ عمر منصور کی دوسری کال آئی اور اس کی طرف سے اطلاع دی گئی کہ حملہ آرمی پبلک اسکول پر کیا گیا ہے۔ طالبان کمانڈر نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں تو آپ کو خودکش حملہ آور کا موبائل نمبر بھی دے سکتا ہوں جو اس وقت آرمی پبلک اسکول میں موجود ہے یا آپ کا نمبر اُسے دے دوں گا، آپ کو کال کر کے اندر کی پوری صورتحال بتا دے گا۔

میں نے اس پر کوئی بات ہی نہیں کی اور فون کاٹ دیا لیکن تھوڑی دیر کے بعد مجھے ایک نامعلوم نمبر سے کال آئی۔ مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ کس کی کال ہوگی لیکن میں نے پھر بھی فون نہیں اٹھایا۔چند لمحوں کے بعد دوبارہ اسی نمبر سے کال آئی لیکن اس مرتبہ میں نے فون اٹھا لیا۔خودکش حملہ آور کا نام اب میرے ذہن سے نکل گیا ہے لیکن اس نے پشتو میں بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ’خلیفہ صیب‘ نے میرا نمبر دیا ہے۔

میں نے بغیر سوچے سمجھے سب سے پہلے ان سے یہ پوچھا کہ آپ اسکول پر کیوں حملہ کررہے ہیں، وہاں تو سارے طلبہ ہیں، وہ تو سب معصوم ہیں، ان کا کیا قصور ہے؟ حملہ آور نے کہا ’نہیں، یہاں ان کا مرکز بھی ہے‘۔ مجھے کوئی اندازہ نہیں ہورہا تھا کہ یہ اسکول کہاں پر ہے، کیا وہاں واقعی کوئی مرکز ہے یا نہیں، وغیرہ وغیرہ۔ میں نے پوچھا کہ وہاں اندر اس وقت کیا حالات ہیں، آپ کتنے حملہ آور ہو؟ اس نے پشتو میں کہا کہ ’چالیس لاشیں گرا دی ہیں‘ جب اس نے یہ بات کہی تو میرے منہ سے بےساختہ نکلا ’ کیا یہ سب طالب علم ہیں‘ جواب آیا کہ نہیں اس میں سیکورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔

میری اس سے بس اتنی ہی بات ہوئی اور فون بند کردیا، جس وقت میں اس سے بات کررہا تھا تو عین اسی لمحے میں یہ بھی سوچ رہا تھا کہ یہ سب فون تو ریکارڈ بھی ہورہے ہیں۔ حملہ آور نے ہلاکتوں کے ضمن میں جو بات کی اس پر مجھے بالکل بھی یقین نہیں آیا کیونکہ اس وقت تک کسی میڈیا پر رپورٹ تو چھوڑیے کوئی افواہ بھی ایسی نہیں تھی کہ جس میں طلبہ کی شہادتوں کا کوئی ذکر ہو۔ اس وقت تک دن کے تقریباً 11 یا 12 بج چکے تھے لیکن اسکول کے اندر سے تاحال کوئی مصدقہ اطلاع نہیں تھی‘‘۔

مزید : پشاور


loading...