سانحہ اے پی ایس ، لیکن تحقیقات کے دوران ایک صحافی کو کیوں طلب کیا گیا تھا؟ اندر کی بات سامنے آگئی

سانحہ اے پی ایس ، لیکن تحقیقات کے دوران ایک صحافی کو کیوں طلب کیا گیا تھا؟ ...
سانحہ اے پی ایس ، لیکن تحقیقات کے دوران ایک صحافی کو کیوں طلب کیا گیا تھا؟ اندر کی بات سامنے آگئی

  



پشاور (ویب ڈیسک) سانحہ اے پی ایس کی پانچویں برسی کے موقع پر معروف صحافی رفعت اللہ اورکزئی نے دہشتگردوں کی طرف سے آنیوالے ٹیلی فون کالز اور تحقیقات کے دوران طلب کیے جانے کی تفصیلات اپنے ایک کالم میں پیش کردی ہیں، انہوں نے بتایا کہ افغانستان کے نمبر سے طالبان کے مقامی امیر کی کال آئی جس کے بعد حملہ آوروں میں سے ایک شخص نے کال کرکے صورتحال سے آگاہ کیا اور کہا کہ چالیس افراد شہید کردیئے ہیں جن میں طلبا اور سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں لیکن اس وقت تک شہادتوں کی تصدیق نہیں ہوسکی تھی ، بعد میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے شہادتوں کی تصدیق کی تھی ۔ 

انہوں نے روزنامہ جنگ میں لکھا کہ ’’ اس واقعے کے چند دنوں کے بعد مجھے ایک جگہ پر طلب بھی کیا گیا اور میری پیشی بھی ہوئی۔ مجھ سے پوچھا گیا کہ یہ کون لوگ تھے، کہاں سے فون آیا تھا، کیا کہہ رہے تھے، آپ نے کیوں فون اٹینڈ کیا، کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ حملہ آور کہاں سے آئے تھے؟ وغیرہ وغیرہ۔ میں نے کہا ’صاحب جو کچھ ہے آپ لوگوں کے سامنے ہے‘۔

وہ صاحب اچھے انسان تھے یا شاید میری گھبراہٹ نے ان کا دل نرم کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو دوبارہ بھی طلب کریں گے لیکن پھر زحمت نہیں دی۔ جب بھی آرمی پبلک اسکول کے شہدا کی برسی آتی ہے تو ان معصوم بچوں کے چہرے جیسے میرے سامنے ہوتے ہیں اور دل تھامنا مشکل ہو جاتا ہے، میں ان خون میں لت پت چہروں کو یاد کرتا ہوں تو اپنے بچے سامنے آجاتے ہیں‘‘۔

مزید : علاقائی /خیبرپختون خواہ /پشاور


loading...