متنازعہ شہریت کے قانون پربھارت کے کئی علاقے میدان جنگ بن گئے،6افراد ہلاک

متنازعہ شہریت کے قانون پربھارت کے کئی علاقے میدان جنگ بن گئے،6افراد ہلاک
متنازعہ شہریت کے قانون پربھارت کے کئی علاقے میدان جنگ بن گئے،6افراد ہلاک

  



نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن)متنازعہ شہریت کے قانون پربھارت کے کئی علاقے میدان جنگ بن گئے.بھارت میں مسلمان دشمنی میں متعارف کروائے گئے شہریت ترمیمی بل کی مخالفت میں جاری مظاہروں میں مزیدشدت آگئی۔ ریاست آسام کے سب سے بڑے شہر گوہاٹی میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہوگئی ہے جہاں بھارتی سکیورٹی فورسز نے یونیورسٹیوںپر دھاوا بول کر اپنے ہی شہریوں کو بدترین تشدد کانشانہ بناڈالا۔ہنگاموں میں نصف درجن افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

حکام کے مطابق اتوار کو پرتشدد احتجاج کے دوران سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران چار مظاہرین ہلاک ہوئے۔ دو احتجاجی بارہ دسمبر کو مارے گئے تھے۔ سب سے زیادہ پرتشدد مظاہرے ریاست آسام میں جاری ہیں اور ریاست کے سب سے بڑے شہر گوہاٹی میں شدید تناو پایا جاتا ہے۔

بھارتی پولیس کی جانب سے نئی دہلی کی جامعہ ملیہ یونیورسٹی میں گرلز اور بوائز کے ہاسٹل پر بھی حملہ کیا گیا اوریونیورسٹی مسجد کے پیش امام کو بھی زدوکوب کیا گیا۔

بھارتی فورسز کے مظالم کے باجود متعددمظاہری ان کے سامنے ڈٹ گئے۔صورتحال کشیدہ ہونے پر امریکا، برطانیہ، متحدہ عرب امارات،سنگاپور اور دیگر ممالک نے اپنے شہریوں کو بھارت کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ادھربھارت میں شہریت ترمیمی بل کے نفاذ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر چینی اخبار ساوتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے لکھا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم مودی نے اس اقدام کے ذریعے خود اپنے ملک کیخلاف ہی جنگ چھیڑ دی ہے، بھارت کی معیشت مسلسل زوال پذیر ہے، اسے اس دلدل سے نکالنے کی بجائے مودی حکومت نے شہریت ترمیمی بل کے ذریعے ایسا اقدام کیا ہے جو سیکولر ازم پر مبنی بھارتی آئین کے یکسر منافی اور جرمنی میں نازی دور کی کارروائیوں سے مشابہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آسام اور متعدد شمال مشرقی ریاستوں میں عوام کے احتجاج میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، یہی نہیں بلکہ 3 ریاستوں پنجاب، بنگال اور کیرالہ نے شہریت ترمیمی بل پر عملدرآمد سے انکار کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی پارلیمنٹ نے ایک بل منظور کیا ہے جس کے تحت وہ قریبی ممالک کے غیر مسلم افراد کو شہریت دے سکتا ہے لیکن مسلمانوں کو نہیں، ساتھ ہی ریاست آسام میں کئی دہائیوں سے رہنے والے مسلمانوں کی شہریت پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔ بھارتی صدر نے پارلیمنٹ کے منظور شدہ اس متنازعہ قانونی مسودے کو بدھ کے روز دستخط کر کے قانون کی شکل دی تھی۔

مزید : بین الاقوامی