دسمبر سقوط ڈھاکہ اور سانحہ اے پی ایس کی یاد دلاتا ہے،دونوں میں ہمارے لئے سبق ہے،چیف جسٹس

دسمبر سقوط ڈھاکہ اور سانحہ اے پی ایس کی یاد دلاتا ہے،دونوں میں ہمارے لئے سبق ...
دسمبر سقوط ڈھاکہ اور سانحہ اے پی ایس کی یاد دلاتا ہے،دونوں میں ہمارے لئے سبق ہے،چیف جسٹس

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ آج کا دن 2 سانحات کی یاد دلاتاہے،دسمبر ہمیں سقوط ڈھاکا اورسانحہ اے پی ایس کی یاد دلاتاہے اوران دونوں حادثات میں ہمارے لیے سبق ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا ہے سقوط ڈھاکا سے سبق ملتا ہے کہ ریاست اور شہریوں میں سوشل کنٹریکٹ کمزور تھا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کے اعزاز میں اسلام آبادپولیس اکیڈمی میں ظہرانہ دیا گیاجس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مختلف موضوعات پر گفتگو کی۔

انہوں نے سقطوط ڈھاکہ اور سانحہ اے پی ایس پر بات کرتے ہوئے کہا دسمبر ہمیں سقوط ڈھاکا اورسانحہ اے پی ایس کی یاد دلاتاہے اوران دونوں حادثات میں ہمارے لیے سبق ہے۔انہوں نے کہا سانحہ اے پی ایس کے بعدقوم نے فیصلہ کیاکہ اب کچھ کرناہے۔قوم نے دہشت گردی کےخلاف نیشنل ایکشن پلان کی حمایت کی،نیشنل ایکشن پلان کے تحت دیکھنا ہوگا کہ ہم نے اب تک کیا کیا؟آئین اور قانون کی حکمرانی شہریوں کے بنیادی حقوق کی ضامن ہوتی ہے

انہوں نے کہا پولیس کا کردار ہمارے معاشرے میں اہم ہے،پولیس کے ساتھ اظہاریکجہتی کیلئے آئے ہیں۔ریاست کو عوام کے حقوق کا خیال رکھنا پڑتاہے،

انہوں نے کہااکیڈمی میں میرے بھائی طارق کھوسہ کورس کمانڈر تھے ،وہ بھی پولیس میں خدمات انجام دے چکے ہیں،پولیس کا کام عوام کا تحفظ ہے،پراسیکیوشن نہیں،بدقسمتی سے پولیس کایہ تاثر رہا ہے کہ وہ بنیادی حقوق سلب کرلیتی ہے۔ انہوں نے کہا تہیہ کرلیں کسی سیاسی سفارش کوقبول نہیں کریں گے،سفارشی کال کوریکارڈکاحصہ بناکراحتساب عدالت کوبھیجیں۔ایسے اقدامات سے معاشرے میں تبدیلی آئےگی۔آپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ کسی سیاسی سفارش کوقبول نہیں کرنا۔اپنے حقوق کیلئے لڑیں۔انہوں نے کہا پولیس اصلاحات کا مقصد پولیس کو غیر سیاسی بنانا تھا۔

مزید : اہم خبریں /قومی


loading...