"پیپر کے بعد پارکنگ میں ملنے کا وعدہ تھا لیکن وہ شہید ہوگیا" اے پی ایس کے طالبعلم عاکف عظیم نے آپ بیتی سنادی

"پیپر کے بعد پارکنگ میں ملنے کا وعدہ تھا لیکن وہ شہید ہوگیا" اے پی ایس کے ...

  



پشاور  (ویب ڈیسک) سانحہ اے پی ایس میں زندہ بچنے والے طالب علم عاکف عظیم کا کہنا ہے کہ اس حادثے نے ان کی زندگی بدل دی ،  شہید ہونے والے اپنے ایک دوست زین کے بارے میں بتایا کہ پیپر شروع ہونے سے قبل اُن دونوں کی ملاقات ہوئی تھی اور پیپر کے بعد پارکنگ میں ملنے کا وعدہ لیا تھا تاہم دہشت گردوں کے حملے کے بعد وہ شہید ہوگیا ۔

روزنامہ جنگ کے مطابق عاکف عظیم نے بتایا کہ 2014 میں وہ آرمی پبلک اسکول پشاور میں بارہویں جماعت میں پری میڈیکل میں زیر تعلیم تھے۔انہوں نے بتایا کہ اس تاریک دن اُن کا کیمسٹری کا پرچہ تھا۔ وہ ہال سے نکل کر واش روم گئے تو پیچھے سے دہشت گردوں نے حملہ کردیا۔جب انہیں گولیوں کی آوازیں آنا شروع ہوئیں تو وہ کلاس روم کی جانب بھاگے اور وہاں تین بجے تک چھپے رہے۔

رپورٹ کے مطابق عاکف اسلام آباد کی ایک نجی یونیورسٹی سے کچھ ہی دنوں میں کلینیکل سائیکولوجی میں گریجویٹ ہونے والے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ان مضامین کا انتخاب انہوں نے اے پی ایس سانحے کے رونما ہونے کے بعد ہی کیا۔عاکف نے بتایا کہ انہوں نے صدمے، ذہنی دباؤ اور ڈپریشن سے نکلنے کے لیے ایک کتاب لکھی ہے ، وہ موٹیوشنل سپیکر بھی بن گئے ۔

مزید : علاقائی /خیبرپختون خواہ /پشاور