’اگر عدالتِ عظمیٰ قانون سازی کا حکم دیتی ہے تو پارلیمان مقتدر اعلیٰ نہیں ، فیصلے میں 1956 اور 1962 کے آئین پر سیر حاصل گفتگو نہیں کی گئی‘

’اگر عدالتِ عظمیٰ قانون سازی کا حکم دیتی ہے تو پارلیمان مقتدر اعلیٰ نہیں ، ...
’اگر عدالتِ عظمیٰ قانون سازی کا حکم دیتی ہے تو پارلیمان مقتدر اعلیٰ نہیں ، فیصلے میں 1956 اور 1962 کے آئین پر سیر حاصل گفتگو نہیں کی گئی‘

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ اگر پارلیمنٹ کو کوئی مخصوص قانون بنانے کا کہہ سکتی ہے تو پھر پارلیمان سپریم ادارہ نہیں ہے۔

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر لکھا بڑا سوال یہ ہے کہ ملک میں سپریم کون ہے پارلیمان یا سپریم کورٹ؟ کیا سپریم کورٹ پارلیمنٹ کو کوئی مخصوص قانون بنانے کا کہہ سکتی ہے؟ اگر کہہ سکتی ہے تو پھر پارلیمان مقتدر اعلیٰ نہیں ہے، اسی طرح یہ کہنا کہ روایات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں درست تشریح نہیںہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ وزیر اعظم کے ایگزیگٹو اختیارات کو پارلیمان کیسے استعمال کر سکتی ہے جبکہ وہ انتظامی ادارہ نہیں ہے؟ آرمی چیف کی مدت کا تعین پارلیمان لازماً کرے سپریم کورٹ یہ حکم کیسے دے سکتی ہے؟ فیصلے میں 1956 اور 1962 کے آئین پر سیر حاصل گفتگو نہیں ہے نہ ہی ان پارلیمانی تقاریر کو دیکھا گیاجو 1973 کے آئین مین آرٹیکل 243 کی تشریح کرتی ہیں۔

فواد چوہدری نے تمام تر سوالات اٹھانے کے بعد کہا ’ بہر حال سپریم کورٹ سپریم عدالت ہے حتمی فیصلے کا اختیار تو بہرحال سپریم کورٹ کو ہی ہے۔‘

مزید : قومی