”مجھے اہم لوگوں نے مشورہ دیا کہ یہ کھلا خط آپ کے نام نہ لکھا جائے کیونکہ یہ توہین عدالت تصور ہو گا“معروف قانون دان سعد رسول نے چیف جسٹس کے نام کھلا خط لکھ دیا

”مجھے اہم لوگوں نے مشورہ دیا کہ یہ کھلا خط آپ کے نام نہ لکھا جائے کیونکہ یہ ...
”مجھے اہم لوگوں نے مشورہ دیا کہ یہ کھلا خط آپ کے نام نہ لکھا جائے کیونکہ یہ توہین عدالت تصور ہو گا“معروف قانون دان سعد رسول نے چیف جسٹس کے نام کھلا خط لکھ دیا

  



لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن )چیف جسٹس صاحب، مجھے اہم لوگوں نے مشورہ دیا کہ میں یہ کھلا خط آپکے نام نہ لکھوں کیونکہ اسے توہینِ عدالت سمجھا جا سکتا ہے۔کھوسہ صاحب، آپکی عدالت کےبعد اللہ کی عدالت ہوگی۔ پاکستان کے چیف جسٹس کے طور پر آپ نمبر 1 ہیں، قیامت کے دن بھی آپ ان پہلے لوگوں میں سے ہو سکتے ہیں جن پر الزام ہوگا کہ وہ خاموشی سے ظلم ہوتا دیکھتے رہے۔چیف جسٹس صاحب، وکیلوں کے باعث پی آئی سی میں قیامت صغریٰ دیکھنے والا نوجوان سوموٹو نہ لینے، وکلا بارز میں مداخلت نہ کرنے اور آرٹیکل 184-3 کی طاقت کو استعمال نہ کرنے پر آپکا نہایت مشکور ہے۔

چیف جسٹس صاحب، اس خط کو اپنےلیے اور اپنی عقل و دانش کےلیے سیلوٹ سمجھیں، اس یقین کے ساتھ کہ آپ نے چند ہفتے قبل بالکل ٹھیک کہا تھا کہ عدالتوں کا کام انصاف دینا نہیں بلکہ قانون کے مطابق فیصلہ دینا ہے۔چیف جسٹس صاحب، نوجوان یہ بات بھی سمجھتا تھا کہ وکلا نے حملہ کیوں کیا۔ چیف صاحب، اسے یہ بھی معلوم تھا کہ 20 کروڑ لوگوں کے ملک میں چند لوگوں کا مر جانا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ سانحہ ساہیوال بھی بڑا مسئلہ نہیں تھا۔چیف جسٹس صاحب، آپ نے اپنے دور کی کسی وکلاگردی کا شاید اس لیے نوٹس نہیں لیا کہ وکلاآپکی جوڈیشری کی اصل طاقت ہیں یا پھر آپ ڈسٹرکٹ کورٹس ریفارمز میں مصروف ہیں جو وکلابارز کی ریفارمز کے بغیر ممکن ہی نہیں۔

چیف جسٹس صاحب، یہ جو پاکستانی آپ سے اختلاف کرتے ہیں، یہ ہیں ہی گمراہ اور جاہل۔ حبیب جالب نےشاید انہی کے لیے کہا تھا کہ چیف صاحب، آپ مخالفین کو توجہ ہی نہ دیں۔”چیف جسٹس صاحب، آپ سوموٹو کا اختیار ہی آئین سے ختم کروا دیں تاکہ کوءآپکی طرف دیکھے ہی ناں، لیکن، لیکن رہنے دیں، کسی وقت آرمی چیف کی ایکسٹینشن جیسے عظیم مسئلے کو حل کرنے کے لیے اسکی ضرورت پڑ سکتی ہے۔“

مزید : قومی