نریندرمودی کی طرح بھارت بھی جلد منہ کے بل گرنے والا، سینیٹر ساجدمیر

نریندرمودی کی طرح بھارت بھی جلد منہ کے بل گرنے والا، سینیٹر ساجدمیر

  



لاہور (خصوصی رپورٹ) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر علامہ ساجدمیر نے کہا ہے کہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر وکلاء کے حملے سے وکلاء برادری اور پیشہ وکالت کا تقدس بری طرح مجروح ہوا ہے جس کا ازالہ اب قانون و انصاف کی عملداری سے ہی کیا جا سکتا ہے۔(بقیہ نمبر53صفحہ7پر)

مرکز راوی روڈ میں علماء کے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پی آئی سی افسوسناک واقعہ کے حوالے سے جو بھی توجیہات پیش کی جائیں اس سے ہسپتال پر حملے کا جواز نہیں نکل سکتا اس لئے اب زیادہ مناسب یہی ہے کہ وکلاء تنظیمیں‘ انکے عہدیداران اور سینئر وکلاء اس حملے کا دفاع کرنے کے بجائے اس کیس کو قطعی انجام تک پہنچانے کیلئے قانون و انصاف کے متعلقہ اداروں کی معاونت کریں اور اپنی صفوں میں تطہیر کا عمل شروع کریں تاکہ آئین و قانون کے رکھوالوں پر آئندہ ایسا کوئی داغ نہ لگ سکے اور ملک میں طاقتور اور عام آدمی کیلئے الگ الگ قانون و انصاف کا تصور زائل ہو۔ یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے کہ وکلاء تنظیموں اور سینئر وکلاء تک نے ہسپتال پر حملے کی مذمت کے بجائے اس حملے کے دفاع میں مختلف تاویلیں پیش کرنا اور جواز نکالنا شروع کر دیئے اور پھر گرفتار وکلاء کی رہائی کیلئے ملک بھر میں ہڑتالوں‘ عدالتی بائیکاٹ اور جلوس نکالنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جس سے ماحول میں پیدا ہونیوالی تلخی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھنے کا اندیشہ لاحق ہے۔دریں اثناء انہوں نے شرقپور میں ختم نبوت کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم لوک سبھا میں متنازعہ شہریت سے متعلق قانون سازی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ نریندرمودی کی طرح بھارت بھی جلد منہ کے بل گرنے والا ہے۔ بھارتی لوک سبھا میں بل پاس کیا جانا انسانی حقوق کے تمام قوانین اور پاکستان کے ساتھ دوطرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ بھارتی حکومت کا اقدام انسانی حقوق کے خلاف ورزی ہے، یہ بل فوری طور پر واپس لیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کے ایسے اقدامات نے اس کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ بھارتی لوک سبھا میں حالیہ قانون سازی جھوٹ اور دھوکے پر مبنی ہے اور یہ اقدام انسانی حقوق کے عالمی منشور اور ہر طرح کے امتیازات، مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر ہر قسم کے تعصبات کے خاتمے کیلئے بین الاقوامی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

سینیٹر ساجدمیر

مزید : ملتان صفحہ آخر