سانحہ مشرقی پاکستان کے ذمہ داروں کا انجام! (1)

سانحہ مشرقی پاکستان کے ذمہ داروں کا انجام! (1)
سانحہ مشرقی پاکستان کے ذمہ داروں کا انجام! (1)

  

آج 16دسمبر ہے اور 16دسمبر ہر سال آتا ہے…… یہ 1971ء میں بھی آیا تھا جبکہ میں تازہ تازہ پروموٹ ہو کر لیفٹین سے کیپٹن بناتھا۔ اور اس رینک میں میری پوسٹنگ ہیڈکوارٹر 20بریگیڈ جیری کَس (نزد میرپور آزاد کشمیر) سے قلات سکاؤٹس خضدار میں ہوئی تھی۔ وہیں 3 دسمبر 1971ء کو اس وقت کے صدر پاکستان اور آرمی چیف جنرل یحییٰ خان نے ہندوستان کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا تھا اور 4دسمبر کو میری پوسٹنگ قلات سکاؤٹس سے ہیڈکوارٹر ایسٹرن کمانڈ ڈھاکہ میں ایک ارجنٹ Message کے ذریعے کی گئی تھی۔ میرے ساتھ میرے ایک اور کورس میٹ کیپٹن نواب عالم بارہوی کی پوسٹنگ بھی ہوئی تھی۔ ان کا تعلق بھی میری طرح ایجوکیشن کور سے تھا۔

میں نے پاک پتن میں اپنے برادرِ نسبتی مقبول الٰہی چشتی صاحب کو فون کرکے خضدار بلوایا اور بچوں کو ان کے ہمراہ پاک پتن بھجوایا۔ اس کے بعد ضابطے کی کارروائی کی تکمیل کرتے کرتے شاید 4،5 روز لگ گئے کیونکہ DIG سادرن کور کوئٹہ سے کلیرنس وغیرہ بھی لینی تھی۔ اس طرح موومنٹ آرڈرز لے کر جب ایمبارکیشن ہیڈکوارٹر کراچی پہنچا تو معلوم ہوا کہ ڈھاکہ جانے کے لئے فلائٹ کا انتظار کرنا پڑے گا۔مشرقی پاکستان جانے کے لئے براستہ کولمبو (اس زمانے میں سیلون اور اب سری لنکا کا دارالحکومت) جانا پڑتا تھا کیونکہ ہندوستان نے تو ایک عرصے سے اپنی فضائیں PIA کے لئے بند کر دی تھیں۔ 

25مارچ 1971ء کو مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کے خلاف آرمی ایکشن لانچ کیا گیا تھا۔ اس ایکشن کے بعد انڈیا کی طرف سے فی الفور مشرقی پاکستان پر حملہ متوقع تھا لیکن اس وقت کے انڈین آرمی چیف، جنرل مانک شا نے اپنی وزیراعظم اندرا گاندھی کو یہ کہہ کر حملہ کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ اگر انڈین آرمی کو اب (اپریل میں) مشرقی پاکستان کے خلاف لانچ کیا گیا تو مون سون کی وجہ سے اس آرمی کی شکست، نوشتہء دیوار ہو گی۔ جنرل مانک شا نے اندرا گاندھی کو تجویز پیش کی کہ اگر اس حملے کو اپریل کی بجائے نومبر/ دسمبر تک ملتوی کر دیا جائے تو بھارتی فتح نوشتہ ء دیوار ہو گی۔ اندرا گاندھی یہ تجویز سن کر بہت سٹپٹائیں لیکن مانک شا نے بتا دیا تھا کہ اگر اندرا کو ان کی تجویز منظور نہیں تو وہ ان کی جگہ بے شک کسی اور کو آرمی چیف بنا دیں۔

اس کے بعد جو ہوا وہ تاریخ ہے…… ہم کراچی میں بیٹھے PIA کے اگلے جہاز کا انتظار کرتے رہے جو نہ آنا تھا اور نہ آیا تاآنکہ 16 اکتوبر کو ڈھاکہ فال ہو گیا!…… مشرقی پاکستان میں پاکستان آرمی کی 1971ء کی شکست اور مغربی پاکستان میں کسی خاطر خواہ کامیابی کے فقدان پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ دونوں محاذوں پر پاک آرمی کی شکستیں اب قصہء پارینہ ہو چکیں۔ اب اس شکست / ناکامی کو نصف صدی گزر چکی۔ اس کے بعد پاکستان نے گویا ایک دوسرا جنم لیا اور آج خداوند کریم کے فضل و کرم سے پاکستان ایک جوہری اور میزائلی قوت ہے۔ اگرچہ آج بھی ہمیں بہت سے اندرونی اور بیرونی چیلنجوں کا سامنا ہے لیکن مستقبل میں کامیابی اور کامرانی کی کرنیں ناکامیوں کی کالی گھٹاؤں کو چیر کر ارضِ پاک پر ایک نیا سویرا اجال رہی ہیں …… سقوطِ ڈھاکہ بہت پیچھے رہ گیا ہے اور عروجِ اسلام آباد سامنے ہے…… گویا شکستِ اُحد کے بعد فتحِ مکہ راہ میں ہے!

کئی دوستوں نے یاد دلایا کہ 16دسمبر (آج) کے سانحے پر ضرور تبصرہ کروں۔ ایک دوست (جاوید پاشا صاحب) نے ای میل کی: ”جیسا کہ آپ کو معلوم ہے 16دسمبر سقوطِ ڈھاکہ کا دن  ہے۔ مجھے امید ہے آپ اس دن کی مناسبت سے ایک سیر حاصل کالم لکھیں گے کیونکہ آپ ہی وہ شخص ہیں جو اس موضوع پر پاک آرمی کی کارکردگی پر سویلین اور ملٹری تناظر میں لکھ سکتے اور اس سلسلے میں پائی جانے والی بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ کر سکتے ہیں“…… میں نے پاشا صاحب کو جواب دیا: ”گزشتہ 50برسوں میں اس موضوع پر بہت سی کتابیں، مقالات اور مضامین اردو اور انگریزی میں لکھے جا چکے ہیں۔ میں ان کی جگالی کیوں کروں؟…… ہاں اگر آپ سمجھتے ہیں کہ 1971ء کی اس جنگ کے کسی ایسے پہلو پر لکھوں جو اچھوتا ہو اور جس پر آج تک زیادہ نہ لکھا گیا ہو تو مجھے بتایئے۔ میں اس پر لکھنے کو تیار ہوں“…… جاوید پاشا صاحب نے اس کے جواب میں لکھا:

Agreed.

Thanks for your mail.

ای میل پر ان کا یہ جواب دیکھنے کے بعد مَیں نے سوچا کہ مشرقی پاکستان کا سانحہ اتنا بڑا تھا کہ اگر کوئی اور قوم ہوتی تو شائد برسوں تک اسی غم میں ڈوبی رہتی۔ لیکن پاکستانی قوم کو اللہ کریم نے وہ لچک (Resilence) عطا کی ہے کہ اس نے اس گرداب سے باہر نکلنے میں زیادہ دیر نہیں لگائی اور دس پندرہ برسوں ہی میں اپنے آپ کو سنبھالا اور 1980ء کے عشرے کے اوائل میں جوہری اہلیت حاصل کرکے انڈیا کے خلاف اپنی عسکری کمزوری کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا۔ راقم السطور نے اس موضوع پر کئی مضامین اور کالم لکھے اور اس دوران پاکستان کے دوستوں (اور دشمنوں) کی طرف سے جو کتابیں اس سانحہء مشرقی پاکستان پر لکھی گئیں ان میں سے بیشتر کا مطالعہ کیا۔ میری نظر میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی طرف سے شائع شدہ جنرل حکیم ارشد قریشی کی کتاب ”1971ء کی انڈو پاک وار“ ایک نہائت متوازن اور معلومات افزاء تصنیف تھی۔

جنرل مرحوم 1971ء میں مشرقی پاکستان میں فرنٹیئر فورس کی ایک انفنٹری بٹالین کی کمانڈ کر رہے تھے۔

اڑھائی برس تک بھارت کی قید کاٹنے کے بعد جب وہ واپس آئے تو ان کے دل پر شکست کا داغ بہت گہرا تھا۔ لیکن انہوں نے اس اندوہناک کیفیت کو گلے کا ہار نہ بنایا اور ایک نئی امنگ اور نئے ولولے سے نئی عسکری زندگی کا آغاز کیا۔ ایس ایس جی کے کمانڈر مقرر کئے گئے،ایک انفنٹری ڈویژن (18ڈویژن) کی کمانڈ کی اور پھر پنجاب رینجرز کی کمانڈ بھی سنبھالی۔ اسی دوران انہوں نے اس کتاب لکھنے کا ڈول ڈالا۔ ازراہِ قربِ مکانی ان سے میری بہت سی ملاقاتیں تھیں۔ یہ کتاب چھپی اور ہاتھوں ہاتھ لی گئی۔ انہوں نے ایک بار مجھ سے ذکر کیا کہ اس کا اردو ترجمہ کر دوں جو میں نے کر دیا۔یہ کتاب دیکھنے اور پڑھنے کے بعد میرا تجزیہ یہ تھا کہ اس سے بہتر اور متوازن تحریر اس موضوع پر کوئی دوسری نہیں ہو سکتی۔ پھر اس کے چند ہفتوں کے بعد جنرل صاحب کا انتقال ہو گیا۔ یہ کتاب ابھی تک منتظرِ اشاعت ہے اور اس کی ایک کاپی (CDپر) میرے  پاس محفوظ ہے۔

یہ باتیں اس لئے لکھ رہا ہوں کہ 1971ء کی پاک بھارت جنگ پر اگر مجھے کچھ کہنا یا لکھنا پڑے تو چنداں دشواری نہیں ہوگی۔ لیکن باایں ہمہ 16دسمبر جب بھی آتا ہے اور دوست یہ توقع رکھتے ہیں کہ میں اس موضوع پر ان کی معلومات میں کوئی اضافہ کروں تو سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ کیا لکھوں اور کس نئے پہلو پر تبصرہ کروں کہ قارئین اس کو پڑھ کر یہ محسوس کریں کہ اس سانحے کا یہ پہلو ہنوز تشنہء اظہار تھا…… اسی فکر میں تھا کہ اچانک ایک نیا پہلو خیال کی سکرین پر ابھرنا شروع ہوا۔ وہ پہلو یہ تھا کہ اس جنگ میں دو نہیں، تین فریق تھے۔ عام طور پر تو جنگ دو فریقوں کے درمیان لڑی جاتی ہے۔ لیکن 1971ء کی یہ جنگ دو کی بجائے تین فریقوں کے درمیان لڑی گئی۔ اگر روائت کے مطابق دو فریق ہوتے تو پاکستان کو شاید 16دسمبر 1971ء کا دن نہ دیکھنا پڑتا۔ لیکن اس جنگ میں انڈیا اور پاکستان کے علاوہ ایک تیسرا فریق بھی تھا جو مشرقی پاکستان کے عوام کی صورت میں پاکستان (مغربی پاکستان) کا ایسا دشمن تھا جس نے 16دسمبر کو ممکن بنا دیا۔ کسی شاعر نے جو یہ کہا ہے تو غلط نہیں کہا:

دل کے پھپھولے جل اُٹھے سینے کے داغ سے

اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے 

لیکن یہ خیال بھی میرے لئے کوئی نیا یا اجنبی نہیں تھا۔ مکتی باہنی، اس دور کی ایسٹ بنگال رجمنٹ اور ایسٹ پاکستان رائفلز کی پوری تاریخ میرے سامنے تھی۔ اس تاریخ کی تشکیل میں پاکستان کا کوئی کردار تھا یا نہیں، یہ امر شاید متنازعہ اور بحث طلب ہو۔ میں اس جھمیلے میں الجھنا نہیں چاہتا۔ صرف ایک خیال جو میرے ذہن میں آیا اور بجلی کی طرح کوند کر اس جنگ کے ایک نئے پہلو پر قلم اٹھانے پر مجبور کر گیا وہ یہ تھا کہ سانحہء مشرقی پاکستان کے ان تینوں فریقین کا انجام کیا ہوا جو پاکستان کو دو نیم کرنے کا سبب بنے۔ سطورِ ذیل میں کوشش کروں گا کہ نہائت مختصر طور پر ان تینوں فریقوں (انڈیا، بنگلہ دیش اور پاکستان) کے ان بڑے بڑے کرداروں کے انجام کا ایک مجمل سا خاکہ قارئین کے سامنے رکھوں جو پاکستان کو دسمبر 1971ء میں دو لخت کرنے کا باعث ہوئے۔(جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -