کسانوں کے دیرینہ مسائل اور کسان ڈے میں چھپا اِن کا حل

کسانوں کے دیرینہ مسائل اور کسان ڈے میں چھپا اِن کا حل
کسانوں کے دیرینہ مسائل اور کسان ڈے میں چھپا اِن کا حل

  

لاہور(سرفراز علی)   پاکستان میں حالیہ سیلاب نے زراعت کے شعبے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔پاکستان کا زرعی شعبہ ملک کی معاشی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے اورجی ڈی پی میں اضافہ کے لحاظ سے یہ ہماری معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی مانا جاتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں نے اس شعبے پر بہت منفی اثرات ڈالے ہیں۔سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے باعث ملک کو فوڈ سیکیورٹی کا خدشہ لاحق ہے۔ مشکل کی اس گھڑی میں فاطمہ فرٹیلائیزر مسائل میں گھِرے کسانوں کی معاونت کے لئے پیش پیش ہے۔فاطمہ فرٹیلائیزر موسمیاتی تبدیلی اور زراعت پر اس کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لئے بھی بھرپور انداز میں کوشاں ہے اور ملک کے زرعی نظام میں بڑی تبدیلی لانے کے لئے پرعزم ہے۔

 اس اہم شعبے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر کسان اتحاد، خالد کھوکھر  نے کہا کہ بلاشبہ کسان ہی قوم کے لیے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے ذمہ دار ہیں ۔ ان کسانوں کی محنت کو سلام پیش کرنے کے لئے فاطمہ گروپ نے 2019میں 18 دسمبر کو کسانوں کے نام سے منسوب کیا ۔ کسان ڈے کو اس لئے بھی متعارف کرایا گیاکہ اس دن اسٹیک ہولڈرز اور پالیسی سازوں کو مکالمے میں شامل کر کے کسانوں کی اہمیت اور معاشرے میں ان کے کردارکو بلند کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم میسر آسکے۔اس طرح نہ صرف کسانوں کے مسائل سنے جاسکیں گے بلکہ ان کاحل بھی نکالا جائے گا۔ اس سال چوتھا کسان ڈے منایا جارہاہے ۔ اس موقع پر چھوٹے کسانوں کو ان کی فصلوں کی پیداوار بڑھانے، ان کی مناسب قیمت حاصل کرنے اور مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنانے میں سہولت فراہم کرنے کے اپنے عزم کو دہرانے کی ضرورت ہے۔

  زرعی شعبے کی بحالی اور معیشت اور فوڈ سیکیورٹی میں اس کے تعاون کو بڑھانے کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے خالد کھوکھر نے بیان کیا کہ حکومت کو مختلف آبپاشی اصلاحات جیسے ڈیموں اور آبی ذخائر کی تعمیر، واٹر ریگولیٹری اتھارٹیز کا قیام اور پانی کی تقسیم کے نیٹ ورک کو بہتر بنانا چاہیے۔ ان اقدامات سے زراعت کے لیے پانی کی دستیابی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو کسانوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اورکارپوریٹ کمپنیوں کو اس بات پر آمادہ کرنا چاہئے کہ وہ زرعی شعبے کی مجموعی پیداوار کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے لیے اس کے ساتھ تعاون کریں۔ اس تعاون سے پاکستان کے زرعی شعبے کو جدید بنانے میں بھی مدد ملے گی اور کسانوں کو ان کے سالانہ منافع کے تحفظ میں بھی مدد ملے گی ۔ کارپوریٹ فارمنگ پاکستان کی موجودہ زراعت کے مسائل سے موثر طریقے سے نمٹنے کے لیے سب کے لیے فائدہ مند ماڈل ثابت ہو سکتی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ”ہمیں ایک سسٹم کے تحت کام کرنے کی ضرورت ہے جہاں حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر کے اشتراک سے کام ہو۔“   خالد کھوکھر  نے مزید کہا کہ کسانوں کے مسائل کے لیے جدید تقاضوں کے مطابق حل لانا اور منافع بخش کاشتکاری کے حصول میں ان کی مدد کرنا پاکستان کے غذائی تحفظ کے چیلنجوں سے نمٹنے کا واحد آپشن ہے۔ اس کے لیے زرعی شعبے کو جدید بنانا اور اسے پاکستان کی اقتصادی ترقی کامحور بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ فاطمہ فرٹیلائزر زراعت کے شعبے میں جدت لانے کے لئے بھرپور طریقے سے سرگرم ہے۔ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان میں کسانوں کی حمایت اور حوصلہ افزائی سے متعلق حالات سازگار نہیں رہے تھے۔ فاطمہ فرٹیلائزرنے کسانوں کی اہمیت کے پیشِ نظران کو سہولیات فراہم کرنے کا بیڑا اٹھایا۔اس اقدام کا مقصد کسانوں کے معاشی حالات میں بہتری لانے کے لئے اہم مسائل اجاگر کرنا اور ان کے حل کے ذریعے ان کی فلاح وبہبود کو فروغ دینا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ” ہمارے ملک میں مشینری بھی پرانی ہے اور طریقے بھی۔جدید مشینری نہ ہونے کے برابر ہے اورحکومت کی جانب سے اس پر کبھی توجہ بھی نہیں دی گئی۔“

 کسانوں کے ملکی معیشت اور فوڈ سیکیورٹی میں کردار اور اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسان پاکستان کی معیشت میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں اور حکومت کسانوں کو سہولیات اور مراعات دے کر مزید بہتر نتائج حاصل کرسکتی ہے۔کاشتکاروں کو مزید بااعتماد بنانے اور کام کے لئے اُن کی لگن کوبڑھانے سے زراعت کا شعبہ تیزی سے ترقی کی منزلیں طے کرسکتا ہے۔ کسان ڈے منانے کا فیصلہ بھی کاشتکار طبقہ کی محنت اور قومی ترقی میں ان کے کردار کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اُن کی حوصلہ افزائی کی بھی وجہ بنے گا جس سے کاشتکاروں میں کام کے جذبے کو تقویت ملے گی۔

مزید :

کسان پاکستان -