زراعت کی ترقی کیلئے  سبسڈی کا نظام ختم کر دیاجائے،ڈاکٹر غضنفرعلی

    زراعت کی ترقی کیلئے  سبسڈی کا نظام ختم کر دیاجائے،ڈاکٹر غضنفرعلی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) پاکستان میں زراعت کی حقیقی ترقی اور اس کے فوائد براہ راست کاشتکاروں تک پہنچانے کیلئے ضروری ہے سبسڈی کا نظام سرے سے ختم کر دیاجائے اور آب و ہوا کے خطوں کے لحاظ سے اجناس کی ”سپورٹ پرائس“ مقرر کی جائے۔ عالمی شہرت یافتہ زرعی محقق اور سائنسدان اوربائیو ٹیکنالوجی کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر غضنفر علی خان نے لاہور میں نیاز بیگ ٹھوکر کے قریب اپنے دفتر میں ایک خصوصی نشست کے دوران یہ تجویز پیش کی۔ انہوں نے پاکستانی اور خصوصاً پنجاب میں جاری زرعی پالیسی پر عدم اطمینان کااظہار کرتے ہوئے کہا جدید تقاضوں کے مطابق اسے از سر نو مرتب کیا جائے تاکہ شوگر مافیا، یوریا مافیا سمیت ہر طرح کے مافیا کی لوٹ کھسوٹ بند ہو، سرکاریفنڈ اور وسائل کا ضیاع روکا جائے اور کرپشن کاخاتمہ ہو۔ ڈاکٹر غضنفر نے واضح کیا زراعت کے شعبے میں کاشتکاروں کی امداد کو Rationalize کرنے کیلئے سبسڈی کو ختم کرکے اس بچت کو ”سپورٹ پرائس“ مقرر کرنے کے منصوبے کی وجہ سے ہونیوالے خسارے کو پورا کرنے کیلئے استعمال میں لایا جاسکتاہے۔ اس وقت پنجاب میں آب و ہوا کے اعتبار سے گندم کی کاشت کے خطوں میں اوکاڑہ، ساہیوال، فیصل آباد، گوجرانوالہ، شیخوپورہ اور سیالکوٹ وغیرہ شامل ہیں، اسلئے گندم کی سرکاری خریداری کی جو ”سپورٹ پرائس“ تقریباً چار ہزار روپے من ہے وہ صرف ان خطوں کیلئے ہونی چاہئے۔ لیکن یہ سپورٹ پرائس پورے صوبے کو غلط طور پر دی جارہی ہے جس میں پوٹھوار، لیہ، خوشاب، میانوالی اوربھکر وغیرہ شامل  ہیں اسی طرح ملتان،بہاولپور، رحیم یار خان اور بوریوالا جیسے خشک خطے ہیں جو کپاس کی کاشت کیلئے  موزوں ہیں اسلئے صرف اس خطے کیلئے کپاس کی ”سپورٹ پرائس“  دی جانی چاہئے۔ یہ خطے گنے کی کاشت کیلئے موزوں نہیں ہیں لیکن رحیم یار خان میں غیرفطری بنیاد پر شوگر مل لگانے کی اجازت دی گئی ہے اور غیر موزوں خطوں میں بھی گنے پر 280روپے فی من سپورٹ پرائس دی جارہی ے یہ اصل میں کپاس کا خطہ ہے جہاں کاٹن مل لگنی چاہئے۔ ڈاکٹر غضنفر نے بتایا  اس وقت ملک میں چینی کی پیداوار ہماری ضروریات سے بہت زیادہ ہے جس کے نتیجے میں شوگر مافیا سرگرم ہو کر اسے افغانستان کے راستے سمگل کرنے میں مصروف ہے۔ ملک میں چینی سستی ہونی چاہئے لیکن مافیا کے باعث غیر قانونی بجارت ہو رہی ہے  اور ایک طرف ملکی خزانے کو نقصان پہنچ رہا ہے اور دوسری طرف صارفین کوبھی مہنگی چینی مل رہی ہے۔ انہوں نے آبیانہ پر سبسڈی کاذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کاشتکار نہری پانی کیلئے صرف 350روپے فی ایکڑ ادا کر رہے ہیں جسے وہ بے دریغ ضائع کرتے ہیں۔ کاشتکاروں کو اچھا نہیں لگے گا لیکن انہیں بچت کی عادت ڈالنے کیلئے موگوں پر میٹر لگا کر صحیح قیمت ادا کرنی چاہئے۔ حکومت یہ سبسڈی دوسرے حصوں میں استعمال کرسکتی ہے۔ ملک کے آبی وسائل کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر غضنفر نے بتایا  اس وقت بارشوں اور گلیشیئر پگھلنے سے دریاؤں میں آنیوالا سالانہ پانی اوسطاً 138 ملین ایکڑ فٹ ہے جس میں سے موجودہ ڈیموں میں 104 ملین ایکڑ فٹ کی گنجائش ہے جو محفوظ کرکے دریاؤں اور نہروں کے ذریعے کاشتکاروں کو استعمال کیلئے ملتا ہے۔ اس وقت دیامربھاشا سمیت گیارہ ڈیم زیر تعمیر ہیں جو دس سے پندرہ سال میں 8سے 10 ملین ایکڑ فٹ پانی سٹور کرسکیں گے۔ بقایا ضائع ہونیوالے 24 ملین ایکڑ فٹ کو محفوظ کرنے کیلئے کالاباغ ڈیم جیسے بڑے ڈیم کی بہت ضرورت ہے۔  انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اگر کالاباغ ڈیم کا منصوبہ بروقت شروع ہو جاتا تو بین چار سالوں میں مکمل ہوکر خاصا پانی بچاسکتا تھا۔ اس وقت ٹیوب ویلوں کے ذریعے 50ملین ایکڑ فٹ پانی مکمل استعمال ہو رہاہے جسے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اس قابل بنایا جاسکتاہے کہ کم پانی سے زیادہ پیداوار حاصل ہو۔ بدقسمتی سے 46ملین ایکڑ فٹ نہریں اور کھالے پکے نہ ہونے کے باعث زمین میں جذب ہوکر ضائع ہو جاتا ہے اس لئے نہری نظام کو مکمل طورپر پکا کرنے کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر غضنفر 

مزید :

صفحہ آخر -