مقبوضہ کشمیر بارے بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ جوتے کی نوک پررکھتے ہیں: وزیراعظم کاکڑ

        مقبوضہ کشمیر بارے بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ جوتے کی نوک پررکھتے ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

                                                                         مظفرآباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نگران وزیراعظم پاکستان انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے سے لوگوں کو مایوس اور نا امید نہیں ہونا چاہیے، کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ تھا نہ ہو گا۔وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے حوالے سے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں، کوئی عدالت کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کر سکتی۔انوار الحق کاکڑ کا کشمیریوں کی تحریک آزادی کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہنا تھا مقبوضہ کشمیر سے متعلق کوئی یکطرفہ اقدام پاکستان کو قابل قبول نہیں ہے، بھارتی سپریم کورٹ نے زمینی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے کشمیر پر سیاسی عزائم پر مبنی غیر قانونی اور غیر منصفانہ فیصلہ دیا۔گزشتہ روز آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا جو کچھ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہو رہا ہے پاکستان اس سے لاتعلق نہیں رہ سکتا، کشمیریوں کو طاقت کے زور پر زیر کرنے کا بھارتی خواب کبھی پورا نہیں ہو گا۔نگران وزیراعظم کا کہنا تھا دنیا کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہم اپنے مفاد اور سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، پاکستان پر کشمیر کی وجہ سے تین بار جنگ مسلط کی گئی، اگر 300 مرتبہ بھی جنگ مسلط کی گئی تو ہم یہ جنگ لڑیں گے، کسی کے ذہن میں کسی قسم کا کوئی خدشہ ہے تو وہ دور کر لے۔ نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ بھارت اپنی حد میں رہے اپنی حد کراس نہ کرے، کشمیر بھارت کا حصہ تھا نہ ہی کبھی ہوگا، مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کو اپنا شہری سمجھتے ہیں اور اپنے شہریوں کی کسی صورت پامالی نہیں ہونے دیں گے، جہاں کارروائی کی ضرورت ہوگی کارروائی کریں گے۔علاوہ ازیں نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ ہماری دفاعی صلاحیت کی وجہ سے کسی میں جرات نہیں کہ پاکستان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھے، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق استصواب رائے کے سوا مسئلہ کشمیر کا کوئی حل قبول نہیں، مودی نے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا دیا، اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے، اصل توجہ اس بات پر مرکوز رہنی چاہئے کہ اسرائیلی بھیڑیے نیتن یاہو کے ہاتھ کیسے روکے جائیں، وہاں جنگ بندی ہو اور انسانی کورویڈو کھلے۔پاکستان میں قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کوواپس نہیں بھجوایا جا رہا، اپنے وسائل غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں پر نہیں اپنے شہریوں پر خرچ کرنے ہیں، معیشت بہتر ہو رہی ہے، امید ہے شرح سود میں بھی کمی آئے گی، یونیورسٹیوں کو درپیش مسائل کے حل کے لئے کوشاں ہیں،داخلوں کے لئے کوٹے کامسئلہ باہمی مشاورت سے حل کیاجائیگا، وفاقی حکومت آزاد جموں و کشمیر کے طلبا کے مسائل کے حل کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔   آزادجموں و کشمیر کی جامعات کے طلباوطالبات کے ساتھ گفتگوکرتے ہوئے نگران وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی آبادی 24 کروڑ ہے اور 60 سے 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے،بیرون ملک مقیم کشمیری تحریک آزادی کا اہم حصہ ہیں، معاشی مواقع پیداکرنے کیلئے مربوط لائحہ عمل کی ضرورت ہے،حصول روز گار کیلئے بیرون ملک جانے والوں کو منفی انداز میں نہیں لینا چاہیے، نوجوانوں کو علم ہونا چاہئے کہ وہ جس شعبے کی تعلیم حاصل کررہے ہیں اس کی عملی میدان میں کتنی اہمیت ہے، معیاری تعلیم پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، یونیورسٹیوں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے کوشاں ہیں،ایچ ای سی کے ساتھ میڈیکل اور دیگر شعبوں میں تعلیم کے فروغ کیلئے ہماری تفصیلی بات ہوئی ہے، اس کیلئے ایک مربوط منصوبہ مرتب کیاجارہا ہے۔ امید ہے کہ اس کے بہتر اثرات مرتب ہوں گے،داخلوں کے لئے کوٹہ کامسئلہ باہمی مشاورت سے حل کیاجائیگا۔ وزیراعظم نے کہاکہ نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کو دنیاکی سب سے بڑی جیل بنادیا ہے۔ لوگوں کی نقل و حرکت اور ایک دوسرے کے ساتھ ملنے پر پابندی ہے۔ یہ تمام مسائل اس وقت حل ہوں گے جس وقت مسئلہ کشمیر کاحتمی حل نکلے گا،اس حتمی حل کے بعد سب کے لئے آسانیاں پیدا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ کوریڈور ز کی اپنی اہمیت ہے لیکن ا س میں بھارت ایک بڑا اور ظالم فریق ہے۔ کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان کوریڈور کے قیام کیلئے ہم یک طرفہ طورپر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کاحتمی حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے ہے،کشمیری عوام،پاکستان اور بھارت اس مسئلے کے سب سے بڑے فریق ہیں، استصواب رائے کے سوا کوئی حل قابل قبول نہیں ہوگا۔ تحریک آزادی کشمیر میں ہزاروں کشمیریوں نے اپنا خون بہایا ہے، پاکستان اس مسئلے پر تین جنگیں لڑ چکا ہے اور آئندہ بھی ہر قسم کی جنگ لڑنے کے لئے تیار ہے۔ مسئلہ کشمیر کاصرف ایک ہی حل ہے اور وہ ہے استصواب رائے، ہم بھارت کے جس اقدام کے خلاف بین الاقوامی سطح پر آواز اٹھارہے ہیں وہی قدم خودکیوں اٹھائیں گے، کشمیری اپنا فیصلہ اپنی مرضی سے کریں گے، مسئلہ کشمیر پر اپنے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے اوراسے ہر فورم پر اجاگر بھی کرتے رہیں گے، پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی،سیاسی و سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے وسائل اپنے شہریوں پر صرف کرنے ہیں، غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں پر نہیں۔  وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں کسی سے جنگ لڑنے کا شو ق نہیں ہے تاہم اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ہم کمزوری دکھائیں گے یا جھکیں گے تو وہ اپنی غلط فہمی دور کر لے، وہ 30 جنگیں لڑیں گے تو ہم 300 جنگیں لڑنے کیلئے تیار ہیں، پاکستان کی دفاعی صلاحیت کی وجہ سے کسی میں جرات نہیں کہ پاکستان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھے۔جو نعمت ہمیں ریاست کی صورت میں ملی ہے اس کی قدر کرنی چاہئے۔ 

انوار الحق کاکڑ

مزید :

صفحہ اول -