انتخابات کی تاریخ پر سپریم کورٹ کا پہرہ

 انتخابات کی تاریخ پر سپریم کورٹ کا پہرہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بینچ کی طرف سے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز (ڈی آر اوز) اور ریٹرننگ آفیسرز (آر اوز) اور دیگر عملے کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن معطلی کا فیصلہ معطل کر دیا ہے۔ عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درخواست گزار کے خلاف سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف درخواست دائر کرنے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کو یہ کیس مزید نہ سننے کی ہدایت بھی جاری کر دی۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو انتخابات کا شیڈول مقررہ وقت پر جاری کرنے کی اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرنے کی ہدایت کی۔ چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم جسٹس سردار طارق  مسعود اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے یہ فیصلہ ای سی پی کی اپیل پر دیا۔ واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درخواست گزار نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسر حکومت سے لیے ہیں  جن سے شفاف اور غیر جانبدار الیکشن کی توقع نہیں ہے اِس لئے کمیشن کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیا جائے جبکہ ای سی پی کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ وہ اِس درخواست کو ناقابل ِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دے۔اُنہوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ کمیشن نے عدلیہ کو خط لکھے تھے کہ وہ ڈی آر اوز، آر اوز اور اسسٹنٹ ریٹرننگ آفسروں کے تقرر کے لئے جوڈیشل افسروں کی خدمات فراہم کر دے لیکن عدلیہ نے افسروں کی کمی کے پیش ِ نظر انکار کر دیا تھا۔ اِس لئے الیکشن کمیشن کو بر وقت صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنانے کے لئے نگران حکومت سے رابطہ کرنا پڑا، اِسی لئے اِس نے بیوروکریسی سے ڈی آر اوز، آر اوز اور اسسٹنٹ ریٹرننگ آفسر مانگے اور نوٹیفکیشن جاری کیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے  پی ٹی آئی کے وکیل کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے الیکن کمیشن کا  نوٹیفکیشن معطل کر دیا تھا اور معاملہ لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو لارجر بینچ کے ذریعے مزید سماعت کے لئے بھجوا دیا تھا۔ لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے درخواست گزار کی سیاسی جماعت کے لئے بظاہر مساوی مواقع کی عدم موجودگی سب کو نظر آ رہی ہے اور بہت سے آزاد گروپوں نے اِس بات کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے، اعلیٰ سیاسی قیادت کے جیل میں بند ہونے یا اْن کی سیاسی جماعت کا انتخابی مہم نہ چلا پانے سے انتخابات پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگ جائے گا۔ درخواست گزار کا  الیکشن کمیشن کی جانب سے منصفانہ اور آزادانہ انتخابات سے گریز کا خدشہ درست معلوم ہوتا ہے کیونکہ جن ڈی آر اوز، آر اوز اور اسسٹنٹ ریٹرننگ افسروں کا تقرر کیا گیا ہے اْن پر درخواست گزار کی سیاسی جماعت بھروسہ نہیں کرتی، اِس لئے درخواست منظور کرتے ہوئے نوٹیفکیشن معطل کیا جاتا ہے۔ بعدازاں لاہور ہائیکورٹ نے علی باقر نجفی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ بھی تشکیل دے دیا، جس نے پیر 18 دسمبر کو سماعت کرنا تھی۔

الیکشن کمیشن نے جمعرات کو لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز (ڈی آر اوز) اور ریٹرننگ آفیسرز (آر اوز) کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن معطل کردیا جبکہ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے الیکشن کمشنروں کو ہنگامی مراسلے بھیج کر ریٹرننگ افسران اور دیگر عملے کی تربیت بھی روک دی تھی۔ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت ایک اہم مشاورتی اجلاس بھی ہوا جس میں واضح کیا گیا کہ ادارہ 8 فروری کو انتخابات کرانے کے فیصلے پرقائم ہے، انتخابی شیڈول کے اعلان سے پہلے کی تمام تیاریاں مکمل ہیں اور باقی ماندہ اہداف بھی مکمل کیے جا رہے ہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی کی پریس کانفرنس میں انتخابات کے التواء  سے متعلق کمیشن پر عائد کیے گئے الزامات کو الیکشن کمیشن نے مسترد کرتے ہوئے اِسے عوام کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش قرار دیا۔ جمعتہ المبارک کو چیف جسٹس آف پاکستان، چیف الیکشن کمشنر اور اٹارنی جنرل کے درمیان ملاقات کی خبر آئی جس کے بعد الیکشن کمیشن کی طرف سے  لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ میں اپیل دائر کی گئی۔ ای سی پی نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائرکی گئی اپیل میں استدعا کی تھی کہ 8 فروری کو انتخابات کرانے کے عدالت عظمیٰ کے حکم پر عملدرآمد  یقینی بنایا جائے۔

یہاں یہ بات قابل ِ ذکر ہے کہ آئین کے تحت انتخابات سے 54 روز قبل الیکشن شیڈول کا جاری ہونا ضروری ہے، ایسا نہ ہونے کی صورت میں انتخابات کا انعقاد تعطل کا شکار ہو سکتا ہے، وقت کم اور مقابلہ سخت ہے کی سی صورتحال تھی، اسی لئے الیکشن کمیشن نے بغیر کسی تاخیر کے سپریم کورٹ سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد جو انتخابات میں تاخیر کی چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں اْن میں اضافہ ہو گیا، شک و شبے کے بادل ایک بار پھر منڈلانے لگے۔ تاہم سپریم کورٹ نے اب یہ فیصلہ رات گئے سماعت کر کے معطل کر دیا ہے۔ 

پی ٹی آئی کے سوا دیگر تمام سیاسی جماعتیں اِس صورتحال سے خوش نہیں تھیں اور انتخابات مقررہ تاریخ کو کرانے کا مطالبہ کرتی نظر آتی تھیں۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے مطابق پی ٹی آئی عام انتخابات ملتوی کرانے کی سازش کر رہی ہے اور اگر تاخیر ہوئی تو وہی ذمہ دار ہو گی، پی ٹی آئی کی درخواست نہ صرف عوام کی ترجمانی سبوتاژ کرنے کی سازش ہے بلکہ انتخابات سے فرار کی منصوبہ بندی ہے۔ اْن کا کہنا تھا کہ 2018ء  کے انتخابات میں بھی بیورو کریسی نے ہی ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران کی ذمہ داری نبھائی تھی، اْس وقت تو پی ٹی آئی نے اعتراض نہیں کیا تھا۔ ترجمان پیپلز پارٹی فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ انتخابات مقررہ تاریخ ہی کو ہونے چاہئیں، الیکشن ملتوی کرنے کا کوئی بہانہ نہیں سنیں گے۔ استحکام پاکستان پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ہائیکورٹ کی درخواست نے خوفزدہ پی ٹی آئی کا پول کھول دیا ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما علی ظفر نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اْن کا پٹیشن دائر کرنے کا مقصد ہرگز یہ نہیں تھا کہ الیکشن میں تاخیر ہو، الیکشن وقت پر ہوں گے اور ہونے چاہیے، اْن کے خیال میں لاہور ہائیکورٹ کے سٹے آرڈر کو ختم کرنا چاہیے، درخواست واپس لے لینی چاہئے لیکن اِن سطور کی تحریر تک پی ٹی آئی کی طرف ایسی کوئی کوشش سامنے نہیں آئی تھی۔ 

پاکستان میں سیاسی استحکام بر وقت انتخابات سے مشروط ہے اور معاشی استحکام سیاسی استحکام سے جڑا ہوا ہے۔ الیکشن کمیشن کا موقف درست ہے کہ اْس نے عدلیہ سے ڈی آر اوز اور دیگر عملہ مانگا لیکن اْسے عملہ فراہم نہیں کیا گیا، الیکشن کمیشن کے اپنے پاس اتنا عملہ نہیں ہے کہ وہ انتخابات کرا سکے، اْس کے پاس اور کوئی چارہ ہی نہیں تھا ماسوائے اِس کے کہ وہ انتظامیہ سے افراد لے کر انتخابات کرائے۔ گزشتہ انتخابات میں بھی بیوروکریسی کے افراد نے انتخابات کی ذمہ داری نبھائی تھی، اْس وقت پی ٹی آئی فاتح قرار پائی تھی شاید اِس لیے اْس نے اِن افراد پر کسی قسم کی انگلی نہیں اٹھائی تھی۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ زیادہ تر سیاسی معاملات جو سیاست دانوں کو مل بیٹھ کر طے کر لینے چاہئیں وہ بھی آخر کار عدالتوں ہی کو طے کرنا پڑتے ہیں۔ انتخابات کی تاریخ طے کرنے کے بعد اِن کے مقررہ تاریخ پر انعقاد کے لئے بھی سپریم کورٹ ہی کو سردیوں کی چھٹیوں سے پہلے آخری ورکنگ ڈے رات گئے تک بیٹھ کر انتخابات کی تاریخ پر پہرہ دینا پڑا۔ پی ٹی آئی کے بعض رہنما اگرچہ یہ دعویٰ کرتے رہے کہ لاہور ہائیکورٹ میں درخواست کا مقصد انتخابات میں تاخیر نہیں تھا تاہم اْنہوں نے اِس فیصلے کے بعد کوئی ایسا عملی قدم بھی نہیں اٹھایا جس سے نظر آئے کہ وہ انتخابات میں تاخیر نہیں چاہتے۔ یہاں کوئی بھی کام کرنے سے پہلے اْس کے نتائج پر توجہ نہیں دی جاتی، اہل ِ سیاست بعض اوقات ایسے کام کرتے ہیں جن سے اْن کے ذاتی مفاد کی بُو آتی ہے۔ اِنہیں مل بیٹھ کر مسائل حل کرنے چاہئیں، جب ایک دفعہ انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ ہو چکا ہے تو اِس عمل کو بخیر و خوبی اپنے انجام تک پہنچانے کی کوشش کرنی چاہئے نہ کہ اِس میں طرح طرح کے رخنے ڈال کر معاملات کو الجھانا چاہئے۔ قومی مفاد کو ہر حال میں ذاتی مفاد سے بالاتر ہونا چاہئے۔ 

مزید :

رائے -اداریہ -