اب ہمارا معیار؟ اور بھٹو کی یاد!

      اب ہمارا معیار؟ اور بھٹو کی یاد!
      اب ہمارا معیار؟ اور بھٹو کی یاد!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 آج خلافِ معمول اصل موضوع سے قبل گذارش کرنے پر مجبور ہوں، میرے لکھے پر تنقید و توصیف ہوتی ہے اور یہ ایک معمول ہے جو ہر لکھنے والے کو پیش آتا ہے، میں نے کبھی ان باتوں کو کالم کا حصہ نہیں بنایا کہ بعض دوست تو سوشل میڈیا پر میری پوسٹ کے حوالے سے اپنی رائے دے دیتے ہیں، تاہم اکثر ذاتی طور پر بات کرتے ہیں،جن کو میری بات درست یا اچھی لگتی ہے اس سے حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور جو لوگ تنقید کرتے ہیں،ان کی بات کو بھی وزن دینا ہوتا ہے، ہر دو طبقات کا شکر گذار ہوں اور اُن سے ہمیشہ کی طرح رہنمائی کا طلبگار ہوں کہ قبر میں جانے تک انسان سیکھتا ہے اور ہم خاکی انسان تو غلطیوں کے پتلے ہیں۔ یہ عرض یوں کرنا پڑی کہ ایک تنقید نگار نے اپنا تعارف کرانے سے گریز کیا اور مسلسل بولتے چلے گئے،ان کا فرمان تھا کہ ہر وہ فرد جو قبر کے قریب ہو جاتا ہے اُسے آخرت یاد آ جاتی ہے،قریباً سبھی بوڑھے اللہ کو یاد کرنے لگتے ہیں۔یہ حضرت بے تکان بول رہے تھے اور انہوں نے طعنہ دیا کہ ’نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی‘ والا معاملہ ہے کہ اب میں وعظ کرنے لگ گیا۔ان صاحب کی ساری گفتگو تو تحریر نہیں کی جا سکتی تاہم یہ عرض کر دوں،ان کو میرے ایک دو ایسے کالموں سے الرجی ہوئی تھی جن میں غزہ کے مسئلے پر مسلم ممالک کے حکمرانوں کی بے بس پالیسی کا ذکر تھا۔اس کے علاوہ یہ بات بھی بُری لگی تھی کہ میں نے اِس جدید سائنسی دور میں مصنوعی بارش سے انکار کیا اور نمازِ استسقاء کی تلقین کی،ان کا سوال تھا کہ کیا نماز ہوئی اور بارش ہو گئی۔

میں وضاحت کرنا چاہتا تھا،لیکن وہ صاحب اپنا غصہ نکال کر فون بند کر گئے،افسوس صرف یہ ہے کہ اپنی کہے گئے اور میری بات نہ سنی اِس لئے مجبوراً آج اس کالم کا سہارا لیا ہے،تو عرض یہ ہے کہ نہ میں کوئی پارسا، نہ واعظ اور نہ ہی عالم و معلم ہوں،میں خود ایک گناہ گار انسان ہوں اور اللہ سے معافی مانگتا رہتا ہوں تاہم ایک بات پر مجھے فخر ہے کہ نہ تو میں نے حرام کمایا اور نہ ہی کبھی فرض سے کوتاہی کی،حالانکہ مجھے محنت کے عوض کم معاوضہ ملتا رہا،اب رہ گئی دین و مذہب والی بات تو یہ میری گھٹی میں ہے کہ والدین نے بھی اللہ بولنا سکھایا  اور ابتدائی تعلیم کا آغاز بھی مسجد سے ہوا،اِس لئے تمام تر برائیوں کے باوجد یہ رمق موجود ہے اور اِسی کے تحت نمازِ استسقاء کی گذارش کی، دُکھ یہ ہے کہ اس کی پذیرائی نہ ہوئی اور ایک بڑی شخصیت نے صوبائی حکومت کو متوجہ کر کے پورے صوبے میں بیک وقت نماز کی تجویز دی اور مجھے تسلی ہوئی،لیکن یہ مزید دُکھ والی بات ہے کہ ابھی تک ادھر سے کسی توجہ کا علم نہیں ہوا اور ہم چودھویں صدی کے مسلمانوں کا یہ عالم ہے کہ دبک کر بیٹھے ہیں، جیسے امریکہ قہر کا دیوتا ہے ہمیں نیست و نابود کر دے گا اور نمازِ استسقاء کس لئے کہ ہم اس طرف رجوع ہی نہیں کرنا چاہتے کہ یہ عمل سائنسی فکر کے مطابق  نہیں ”اللہ ہم پر رحم کرے“۔

قارئین!اِس بات کو یہیں تک چھوڑتے ہیں اور آج کے اُس موضوع کی طرف آتے ہیں جو سوچ کر آیا تھا اور وہ یہ ہے کہ دسمبر کا مہینہ ہم پاکستانیوں کے لئے کئی المناک یادوں کا سلسلہ لئے آتا ہے۔اِسی مہینے میں ملک دو لخت ہوا اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا،بہت رویا، پیٹا گیا، بیان بازی بھی ہوئی لیکن مکمل حقائق سامنے نہ آ سکے۔اِسی مہینے میں آرمی پبلک سکول کا سانحہ پیش آیا اور اِسی ماہ میں دختر مشرق، محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا۔میں آج ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے سے یاد تازہ کرنا چاہتا تھا کہ فون نے توجہ بٹا دی۔ بہرحال گذارش یہ ہے کہ اب جو ریفرنس جنوری میں پھر سے سنا جائے گا اس سے بھٹو واپس تو نہیں آئیں گے،لیکن انصاف کا تقاضہ تو یہ ہے کہ بعداز مرگ ہی سہی،ان کو انصاف تو مل جائے اور روح کو چین نصیب ہو۔ میرے نزدیک ذوالفقار علی بھٹو کوئی ماورائی مخلوق نہیں تھے وہ بھی گوشت پوست کے انسان ہی تھے اور انسان کتنا بھی زیرک ہو،اس سے غلطیوں کا احتمال لازم ہے اِس لئے یہ تو نہیں کہ بھٹو فرشتہ تھے اور خطاء سے بالا تھے۔انسان کی حیثیت سے وہ کئی غلطیاں کر گئے حتیٰ کہ خود کو ایک ایسے مقام پر بٹھا لیا جہاں وہ اپنی بات کو حرفِ آخر سمجھنے لگ گئے تھے اور یہ بھی میرے ذاتی تجربے میں ہے کہ وہ ایک مرحلے پر ایسے تھے کہ کام کرنا نہ کرنا تو اپنی جگہ، شناخت سے بھی گریز کرتے تھے۔اس کے باوجود میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ وہ بہت اچھے سیاستدان تھے،انہوں نے دنیا سے خود کو منوایا، لیکن دنیاوی بڑی طاقت اور حالیہ دجال اول کی حکومت کو فراموش کر گئے اور خود اپنے ساتھ شاہ فیصل،  جمال ناصر اور قذافی کو بھی لے گئے۔میرا خیال ہے کہ عالم ارواح میں اگر یہ سب اور یاسر عرفات ملتے ہوں گے تو سوچتے اور تجزیہ کرتے ہوں گے کہ غلطی کہاں ہوئی۔میرے خیال میں تو یہ غلطی چوتھی دنیا بنانے والی تھی کہ بھٹو نے ان سب کو نہ صرف ایٹمی صلاحیت کے اخراجات پر راضی کیا،بلکہ یہ بھی منا لیا تھا کہ پاکستان کے افراد کی مہارت اور ان کی دولت مل کر اسلامی دنیا میں انقلاب برپا کر سکتی، لیکن آسمان تو ان پر مسکراتا رہا اور سب باری باری شکار ہو گئے۔

یادِ ماضی کا ورق الٹوں تو جسٹس صمدانی کی عدالت سے ضمانت ملنے اور رہائی کے بعد وہ پشاور جا رہے تھے ان کے ساتھ لاہور کے ہوائی اڈے پر آخری ملاقات ہوئی،اس کے بعد تو ان کو دور ہی دور سے دیکھا گیا تھا۔ بیٹ رپورٹر کی حیثیت سے معلوم ہوا کہ بھٹو ضمانت حاصل کرنے کے بعد پشاور جا رہے ہیں بھاگم بھاگ ایئر پورٹ پہنچے اور معمول کے مطابق وی آئی پی لاؤنج کے باہر ڈیرہ لگا لیا، تھوڑی دیر بعد بھٹو صاحب آ تو گئے لیکن انہوں نے ایگزیکٹو(وی آئی پی) لاؤنج پر پیسنجر لاؤنج کو ترجیح دی اور سیدھے ادھر چلے گئے۔ میں نے خطرہ مول لیا اور ایگزیکٹو لاؤنج کے پیچھے سے ہوتا ہوا اندر پہنچ گیا تو بھٹو صاحب کرسی پر بیٹھے تھے،ان کے ساتھ غلام مصطفی کھر اور محمد حنیف رامے(مرحوم) بھی تھے۔علیک سلیک ہوئی۔ میں بات کرنے لگا توملک غلام مصطفی کھر نے کہا ”چودھری خادم حسین آج رہنے دو“ اس کے باوجود میں نے بات کرنا چاہی تو بھٹو صاحب نے مختصر بات کی اور کہا: ”میرے خلاف یہ کیس بالکل جھوٹا ہے اور بے بنیاد ہے اور میں گبھراتا نہیں،انتخابات ہونے دیں سب واضح ہو جائے گا۔اس وقت تک جنرل ضیاء الحق(مرحوم) نے عام انتخابات اور جمہوریت بحال کرنے کا وعدہ اور اعلان کیا تھا جو نوے روز میں ہونا تھے۔ بعد ازاں یہ نوے روز گیارہ سال پر محیط ہو گئے تھے میرے ہوتے ہوئے ڈاکٹر جہانگیر بدر(مرحوم) کے بڑے بھائی یعقوب صاحب(مرحوم) بھی آ گئے تھے۔ ان دنوں ڈاکٹر جہانگیر بدر گرفتار اور سنٹرل جیل کوٹ لکھپت میں تھے۔ان کے خلاف مولانا شاہ احمد نورانی مدظلہ کی توہین کا ا لزام لگایا گیا تھا۔ میں نے بھٹو صاحب کی توجہ دلائی اور یعقوب صاحب نے بھی ذکر کیا تو بھٹو نے کہا مجھے یاد ہے میرا وفادار ورکر ہے۔ ہمارا مقصد تھا کہ90روز والے انتخابات میں بدر کا ٹکٹ پکا ہو اور وہ ہو گیا۔جہانگیر بدر کا مقابلہ مولانا عبید اللہ انور سے تھا اور اس مہم میں ہم نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔جہانگیر تو جیل میں تھے ہم دوستوں اور ان کے بھائیوں نے مل کر انتخابی مہم چلائی لیکن یہ انتخابات نہ ہو سکے،حالانکہ سخت مقابلے کی فضاء کے باوجود جہانگیر بدر کی پوزیشن بہت مضبوط تھی،لیکن یہ انتخابات ہی نہ ہو سکا۔بہرحال اس مہم کا نتیجہ1988ء میں نکلا اور جہانگیر بدر اسی نشست سے جیت کر وزیر بنے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے بعدازاں یہ بھی کہا ”خدا گواہ ہے میرا اس قتل میں کوئی ہاتھ نہیں،اگر میں نے یہ قتل کرایا ہوتا تو مجھ میں اتنی اخلاقی جرأت ہے کہ میں تسلیم بھی کر لیتا“ اُن کی یہ بات جیل میں لکھی گئی ان کی کتاب ”میرا پاکستان“ کے بیک ٹائٹل پر موجود ہے۔جو محترم بشیر ریاض نے بھٹو لیگسی فاؤنڈیشن کے اہتمام میں انگزیری اور اردو میں شائع کی۔ اب منتظر ہیں کہ جنوری میں ریفرنس پر سماعت شروع ہو کر کیا نتیجہ دیتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -