’حیض آنا کوئی معذوری نہیں‘ ڈرامے ’کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی‘ کی اداکارہ سمرتی ایرانی تنخواہ کیساتھ چھٹیوں کی مخالف نکلی

’حیض آنا کوئی معذوری نہیں‘ ڈرامے ’کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی‘ کی اداکارہ ...
’حیض آنا کوئی معذوری نہیں‘ ڈرامے ’کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی‘ کی اداکارہ سمرتی ایرانی تنخواہ کیساتھ چھٹیوں کی مخالف نکلی
سورس: Instagram

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

نئی دہلی (ویب ڈیسک) ماضی کی نامور بھارتی ٹی وی ڈرامے ’کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی‘ کی اداکارہ اور سیاست دان سمرتی ایرانی نے ماہواری کے دنوں میں تنخواہ کے ساتھ چھٹیوں کے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’حیض کوئی معذوری نہیں، ہمیں ایسے مسائل نہیں اٹھانے چاہییں جن میں خواتین کے لیے برابری کے مواقع کی نفی ہو۔‘

"ڈان نیوز" نے ہندوستان ٹائمز کے حوالے سے بتایا کہ   گزشتہ دنوں بھارت کے ایوان بالا راجیہ سبھا میں ایک مرد رکن اسمبلی کی جانب سے ماہواری کے دنوں میں خواتین کے لیے اضافی تنخواہ کے ساتھ چھٹیوں کا بل پیش کیا گیا۔ بھارت کی رکن پارلیمان اور بچوں اور خواتین کی بہبود کی وزیر سمرتی ایرانی نے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ حیض کوئی معذوری نہیں ہے، یہ خواتین کی زندگی کے سفر کا ایک قدرتی حصہ ہے۔

سابق اداکارہ نے کہا کہ ’ہمیں ایسے مسائل کی تجویز نہیں کرنی چاہیے جہاں خواتین کے لیے برابری کے مواقع کم پڑجائیں۔خواتین اور لڑکیوں کی بہت کم تعداد حیض کے دوران شدید تکلیف کی شکایت کرتی ہیں اور اس میں زیادہ تر کیسز ادویات کے ذریعے حل ہوجاتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ حیض اور اس سے متعلق دیگر موضوعات پر عام طور پر بات کرنے سے گریز کیا جاتا ہے، لوگ شرمندگی محسوس کرتے ہیں یا اسے ’سوشل ٹابو‘ سے منسلک کیا جاتا ہے، جو خواتین اپنی ماہواری کے دوران آزادانہ طور سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہیں انہیں معاشرتی اور سماجی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ماہواری کی چھٹی سے متعلق متنازع بیان پر سمرتی ایرانی کو بھارتی ایوان کی دیگر خواتین اراکین کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔قانون ساز کویتا نے کہا کہ انہیں وزیر سمرتی ایرانی کے بیان پر ’مایوسی‘ ہوئی ہے۔ایک عورت ہوکر خواتین کے مسائل پر لاعلمی اور غیر ذمہ دارای کا مظاہرہ کرنا افسوس اور مایوس کن ہے، ماہواری ہم نے خود نہیں مانگی بلکہ یہ ایک بائیلوجیکل حقیقت ہے، اور ماہواری کی چھٹی سے انکار کرنا حیض کے دوران درد کو نظر انداز کرنا ہے اور کئی خواتین اس درد سے گزرتی ہیں۔ ایک عورت ہونے کے ناطے خواتین کو جن حقیقی مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے ان کے بارے میں لاعلمی افسوس ناک ہے ، آج کے دور میں یہ بہت ضروری ہے کہ ہم پالیسی سازی اور حقیقت کے درمیان فرق کریں۔‘

بعدازاں متنازع بھارتی اداکارہ کنگنا رناوت نے انسٹاگرام سٹوری پر سمرتی ایرانی کے مذکورہ بیان کی حمایت کی۔اداکارہ نے کہا کہ ماضی میں ہم نے دیکھا کہ خواتین نے دلیری سے اپنے خاندان، برادری اور قوم کے لیے مسلسل کام کیا ہے، ماہواری اس عزم میں رکاوٹ نہیں بنی۔انہوں نے انسٹاگرام پر سمرتی ایرانی کا بیان شئیر کرتےہوئے کہا کہ ’کام کرنے والی عورت‘ کا تصور ایک افسانہ سمجھا جاتا ہے، بنی نوع انسان کی تاریخ میں کبھی کوئی ایسی عورت نہیں رہی جو کام نہ کرتی ہو۔

کنگنا نے لکھا کہ ’کھیتی باڑی سے لے کر گھر کے کاموں اور بچوں کی پرورش تک خواتین ہمیشہ کام کرتی رہی ہیں اور ان کا خاندان یا برادری ان کے کام میں کبھی رکاوٹ کا سبب نہیں بنے، البتہ جب تک کوئی مخصوص طبی بیماری نہ ہو خواتین کو ماہواری کے لیے اضافی تنخواہ اور چھٹی دینے کی ضرورت نہیں ہوتی ہمیں سمجھنا ہوگا کہ یہ ماہواری ہے، کوئی بیماری یا معذوری نہیں۔‘