لنڈی کوتل اور طورخم دیکھنے کا پروگرام بنا، گھرسے نکلے چپلی کباب والے کے پاس جا بیٹھے جی بھر کے لذیذکباب کھائے، کھاتے ہی غنودگی طاری ہو گئی

 لنڈی کوتل اور طورخم دیکھنے کا پروگرام بنا، گھرسے نکلے چپلی کباب والے کے پاس ...
 لنڈی کوتل اور طورخم دیکھنے کا پروگرام بنا، گھرسے نکلے چپلی کباب والے کے پاس جا بیٹھے جی بھر کے لذیذکباب کھائے، کھاتے ہی غنودگی طاری ہو گئی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:127
 ہمایوں نے نہ صرف مجھے پشاور کا چپہ چپہ دکھایا، بلکہ ارد گرد کا علاقہ غیر دکھانے کا بندوبست بھی کیا۔ اگلے دن ہمارا لنڈی کوتل اور طورخم دیکھنے کا پروگرام بنا، گھرسے نکلے تو قریب ہی ایک چپلی کباب والے کے پاس جا بیٹھے اور جی بھر کے وہاں کے لذیذکباب کھائے، ان میں پتہ نہیں ایسا کیا ڈالا ہوا تھا کہ کھاتے ہی غنودگی طاری ہو گئی، فوراً گھر واپس آئے اور ایسا ٹوٹ کے سوئے کہ جب اٹھے تو مغرب کی اذانیں ہو رہی تھیں اور ہمارا سارا پروگرام چوپٹ ہو گیا تاہم اگلا سارا دن ہم نے خیبر ایجنسی کے سنگلاخ پہاڑوں میں گزارا، لنڈی کوتل کے اکلوتے بازار میں خریداری کی، نمکین کڑھائی گوشت کھایا اورپھر طورخم کی پاک افغان سرحد پر گئے اور وہ سب کچھ دیکھا جس کے بارے میں صرف سنا تھا اور دیکھنے کی شدت سے تمنا تھی۔
 ایک ہفتہ وہاں رہ کر واپس آیا اور ابھی آئے ہوئے چند روز ہی ہوئے تھے کہ ہمایوں کا فون آگیا کہ والد کا انتقال ہو گیا ہے۔ پُرسہ دینے کے لیے میں دوبارہ وہاں گیا تو دیکھا کہ اسی اجاڑ حویلی میں اب بڑی چہل پہل تھی اور درجنوں کمرے گپ شپ کرتے ہوئے مہمانوں سے بھرے پڑے تھے، باہر دیگیں کھڑک رہی تھیں اور کھانے کے ٹرے بھر بھر کے کمروں میں بھیجے جارہے تھے،قہوے کے دوربھی مسلسل چل رہے تھے۔ ہمایوں اس دن بڑا اداس تھا اور ان سب لوگوں سے بہت خفا بھی، کہتا تھا کہ یہ سب لوگ ہمارے”خویش“ ہیں اور اب یہ مہینہ بھر اسی طرح بیٹھے ہمارے خرچے پر عیاشی کریں گے۔میں اسکا دکھ اور تشویش سمجھ سکتا تھا۔لیکن یہ ان کی قبائلی روایات تھیں،جن سے وہ اختلاف نہیں کر سکتا تھا، اس لئے چپ چاپ بیٹھا یہ سب کچھ ہوتا دیکھتا رہا۔
چھوٹا بھائی شفیق ان دنوں اپنی جوانی کے ایک انتہا ئی جذباتی دور سے گزر رہا تھا اور ظاہر ہے اسکی مستی عروج پر تھی۔ وہ اپنے اس وقت کے بڑ ے بڑے اور گھنے مگر اب کے ”مرحوم“ بالوں کے ساتھ بڑا ہی پیارا لگتا تھا۔ اس کے بال تھوڑی تھوڑی دیر بعد خود ہی یا اس کی کسی مستی بھری ادا سے ڈھلک کر ماتھے اور آنکھوں پر آن گرتے تھے، جنہیں وہ کچھ وقفے سے ایک خاص ادائے بے نیازی سے اپنے سر کو جھٹک کر پیچھے پھینکتا رہتا تھا۔ میرے بال اس کے مقابلے میں قدرے کم تھے،میں نے بھی اس کی دیکھا دیکھی بالوں کو ماتھے پر پھینکنے کی کوشش کی لیکن افسوس جہاں سے میرا ماتھا شروع ہوتا تھا ٹھیک اسی جگہ آ کر میرے بال ختم ہو جاتے تھے۔
اس کو ایک سائیکل لے دیا گیا تھا، جسے وہ خوب دھو چمکا کر رکھتا تھا، سارا دن اس کی آنیاں جانیاں دیکھنے لائق ہوتی تھیں، سائیکل کی گھنٹی کے ساتھ اس کی اپنی سریلی سیٹی ایک سماں باندھ دیتی تھی، خصوصاً جہاں کہیں سے بھی کسی صنف نازک کا گزر ہوتا تھا، وہاں وہ بہت مستعد ہو جاتا اور کبھی ہاتھ چھوڑ کر اور کبھی دائرے میں سائیکل چلانے اور یکدم بریک مار کر پچھلے پہیئے کو ہوا میں کھڑا کرنے کا مظاہرہ کیا کرتا تھا۔ اس رومانوی ماحول کو مزید متاثر کن بنانے کے لیے وہ کسی ٹھیلے والے سے ایک ست رنگا ریشمی رومال خرید لایا تھا، جسے وہ بڑے اہتمام سے سائیکل کے ہینڈل پر باندھے رکھتا۔ سائیکل چلاتے وقت یہ رومال خوب پھڑپھڑایا کرتا اور خوامخواہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بن جاتا۔ اس کی یہ محنت اکارت گئی جب کسی حاسد سے یہ سب کچھ برداشت نہ ہوا (وہ میں نہیں تھا) اور یہ خبر اعلیٰ عدالت تک پہنچا دی۔کچھ ڈانٹ ڈپٹ ہوئی اور شفیق کو قدرے ٹھنڈ پڑ گئی۔ رومال تو ہینڈل سے اتر گیا مگر سائیکل کی رفتار اور کرتبوں میں کمی واقع نہ ہوئی۔ ہاں اب ایسی کوئی بازی گری کرنے سے پہلے وہ جائزہ لے لیتا کہ آس پاس کوئی محبت کا دشمن یا مخبر تو موجود نہیں ہے۔میرے لیے تو یہ سب کچھ اب ایک ثانوی سا تھا کیونکہ ٹھیک اسی عمر میں، مَیں خود بھی ایسی ہی یا اس زمانے کے حالات کے مطابق اس سے ملتی جلتی فضول اور واہیات حرکتیں کیا کرتا تھا۔یہ اور بات ہے کہ اپنی ہوشیاری کی وجہ سے میں کسی کی نظر میں نہیں آیا تھا، سو کبھی پکڑا بھی نہیں گیا تھا۔   (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -