بکری کا اردو شاعری پر بڑا احسان، آج کل صورت یہ ہے کہ بعض شعراء بازاروں میں باٹ تلاش کرتے پھرتے ہیں کہ شعروں کاوزن پورا کیا جا سکے

بکری کا اردو شاعری پر بڑا احسان، آج کل صورت یہ ہے کہ بعض شعراء بازاروں میں باٹ ...
بکری کا اردو شاعری پر بڑا احسان، آج کل صورت یہ ہے کہ بعض شعراء بازاروں میں باٹ تلاش کرتے پھرتے ہیں کہ شعروں کاوزن پورا کیا جا سکے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:سجاد النبی
قسط:4
ہیوی ویٹ شاعر
عادل صدیقی 
ابن انشاء نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ”پنجاب والے جتنا دھیان اپنی صحت کا رکھتے ہیں کاش اتنا اپنی زبان کی صحت کا بھی رکھیں اور یو پی والے جتنا دھیان زبان کی صحت کا رکھتے ہیں کاش اتنا اپنی صحت کا بھی رکھیں۔لیکن عادل صدیقی پر یہ بات صادق نہیں آتی، کیونکہ وہ جتنا خیال اپنی صحت کا رکھتے ہیں اتنا ہی زبان کی صحت کا بھی رکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری اور نثر نگاری ناپ تول کے اعشاری نظام کے عین مطابق ہوتی ہے۔ ورنہ آج کل تو صورت یہ ہے کہ بعض شعراء اشعار کہنے کے بعد بازاروں میں باٹ تلاش کرتے پھرتے ہیں کہ شعروں کاوزن پورا کیا جا سکے۔ 
اصل میں یہ سب کچھ جناب اخفش کی”بکری“ کی ناگہانی موت کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ کہتے ہیں کہ اخفش نامی بزرگ جنہوں نے شاعری کے اوزان اور بحریں مقرر کیں ایک بکری رکھتے تھے۔ اخفش صاحب سارا دن اس کے سامنے فعالن، فعالات کرتے رہتے۔ جہاں شک ہوتا بکری سے پوچھ لیتے۔ بکری اگر دائیں بائیں سر ہلاتی تو سمجھتے غلطی ہوگئی ہے البتہ اوپر نیچے سر ہلاتی تو مطلب ہاں میں ہاں ملانا ہوتا۔ اس بکری کا اردو شاعری پر بڑا احسان ہے کہ وہ اخفش صاحب کے 3 شعری مجموعے کھا گئی۔ ویسے اگر آج یہ بکری زندہ ہوتی تو کئی شاعروں کے کام آ رہی ہوتی۔
 جس قدر بھاری بھر کم عادل صدیقی خود ہیں، اسی قدر وزنی ان کی شاعری ہے۔ مجھے یقین ہے کہ عادل صدیقی اگر شاعر نہ ہوتے تو یقیناً پہلوان ہوتے۔ ویسے اگر کبھی شاعری کی درجہ بندی شاعر کے وزن کے حساب سے کی گئی تو یہ حتمی ہے کہ صدیقی صاحب ہیوی ویٹ کلاس میں سرفہرست ہوں گے۔ 
عادل صدیقی ایک مستقل مزاج شخصیت ہیں۔ ان کی مستقل مزاجی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ موصوف اب تک ساتویں گریڈ سے اٹھارہویں گریڈ میں چھلانگ لگا چکے ہیں اور اب انیسویں میں جانے کے چکر میں ہیں۔ اگرچہ اس سفر میں انہیں لاتعداد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ وقت کی پت جھڑ سے آزاد ہو کر آگے بڑھ رہے ہیں او روہ دن دور نہیں جب منزل ان کی دسترس میں ہو گی۔۔”تخلیقی“ کاموں میں عادل صدیقی کی رفتار خطرناک حد تک تیز ہے، ان کی اب تک منظر عام پر آنے والی تخلیقات میں ”پالے ٹھردے پنچھی“، ”برفان ونڈدا سورج“ اور ”پانچ بچے“ شامل ہیں۔
اس عملاً آزاد اور ذہنی اعتبار سے غلام ملک کا وطیرہ ہے کہ ”سیلف میڈ“ شخص چاہے آسمان سے تارے بھی توڑ لائے اسے کوئی نہیں پوچھے گا۔ اپنوں کی تعریف کرتے ہوئے ہم بہت ڈرتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ عادل صدیقی جیسے نابغوں کو آج تک وہ مقام نہیں مل سکا جس کے وہ حقدار ہیں۔
عادل صدیقی بہت بڑے عزیز و اقارب نواز ہیں، اس کا واضح ثبوت ان کے دوسرے شعری مجموعے میں درجنوں رشتے داروں اور احباب کے نام لکھی جانے والی نظمیں ہیں JWT والے ہمارے دوست علی گوندل نے یہ نظمیں پڑھ کر مجھ سے کہا تھا”یار! عادل صدیقی ہوراں ایدھے وچوں کی کڈھنا اے؟ ”بعد میں پتا چلا کہ صدیقی صاحب نے جب اپنے ایک عزیز کے نام لکھی جانے والی کوئی نظم اپنے شعری مجموعے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا تو ان کے جمع تفریق تک والے رشتہ داران کے ہاں آ کر براجمان ہوگئے کہ ہمارے لیے بھی ایک ایک نظم لکھ کر اپنے مجموعے میں شامل کرو ورنہ۔۔۔!!
تو جناب! یہ سب نظمیں اس ”تڑی“ کا نتیجہ ہیں۔ عادل صدیقی شاعر اور نثر نگاری نہیں زبردست قسم کے انتساب نگار بھی ہیں۔ اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو ان کی تصنیف ”برفاں ونڈدا سورج“ کا انتساب پڑھ لیں، جو انتساب کم اور مہینے کا حساب کتاب زیادہ لگتا ہے۔ تاریخ ادب کا یہ طویل ترین انتساب 10 انتہائی صحت مند اشعار پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد کتاب کا صفحہ تنگ دامانی کا شکوہ کرتا نظر آتا ہے ورنہ امید تھی کہ اس مجموعہ کلام میں شاعری کم اور انتساب زیادہ ہوتا۔ لیکن اس طویل انتساب کا ایک فائدہ ضرور ہوا ہے کہ اب یار لوگ اپنی مختصر سی کتاب کا مسودہ مکمل کرنے کے بعد اسے عادل صدیقی کے پاس بھیج دیتے ہیں کہ اس پر ایک عدد انتساب لکھ دیں۔ تاہم بعض اوقات جلدی میں صدیقی صاحب انتساب کی بجائے زکوٰۃ کا ”نصاب“ لکھ دیتے ہیں اور یہ لوگ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں۔
 صدیقی صاحب ماشائاللہ اچھے خاصے صحت مند ہیں لیکن ان کی نظر اور دل بچپن سے ہی کمزور ہے اور یہ اللہ والے بھی ایسے ہیں کہ صرف انہی دونوں کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ دل کا تو علم نہیں کہ اب کس کے پاس ہے لیکن نظر معہ چشمے کے ان کے اپنے ہی پاس ہے، دوسروں پر نظر رکھنے کے لیے! سہیل عامر بٹ کا کہنا ہے کہ دوران ملازمت جوں جوں صدیقی صاحب کے گریڈ بڑھتے گئے اسی حساب سے ان کے چشمے کا نمبر بھی بڑھتا گیا۔ اس حساب سے تو ان کا چشمہ بہت جلد ”سرچشمہ“ بن جائے گا۔
 موصوف پی ایچ ڈی کرنے کے بعد اب نہ صرف ”ڈاکٹر عادل صدیقی“ ہو چکے ہیں بلکہ مرے کالج سیالکوٹ میں لڑکیوں کو زیور تعلیم اور لڑکوں کو صرف ”تعلیم“ سے آراستہ کرنے میں مصروف ہیں۔   (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -