میں اپنی ذات کی کائنات کا خود ہی واحد مفکر ہوں،  ذہن ایک باغ کی مانند ہے، جو کچھ بھی اس میں کاشت کریں گے اس کا ثمر اسی شکل میں ملے گا

میں اپنی ذات کی کائنات کا خود ہی واحد مفکر ہوں،  ذہن ایک باغ کی مانند ہے، جو ...
میں اپنی ذات کی کائنات کا خود ہی واحد مفکر ہوں،  ذہن ایک باغ کی مانند ہے، جو کچھ بھی اس میں کاشت کریں گے اس کا ثمر اسی شکل میں ملے گا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف: ڈاکٹر جوزف مرفی
مترجم: ریاض محمود انجم
قسط:132
اس شخص نے جس قسم کا ذہنی رویہ اپنایا، لامحالہ ہر صورت اور ہرحال میں اسے اسی قسم کے روئیے کا سامنا کرنا ہوتا تھا۔ اس سیلزمین کو یہ احساس ہو گیا تھاکہ اسکے اندرونی خیالات و احساسات اس کے لیے بہت ہی زیادہ منفی اور تباہ کن تھے کیونکہ اس کے خاموش خیالات، احساسات اورجذبات کی شدت اور قوت اور سیلزمنیجر کے متعلق ذاتی مذمت اور استرداد پر مبنی خیالات و تصورات، اس کے اپنے تحت الشعوری ذہن میں داخل ہو چکے تھے۔ سیلزمین کے اس منفی اور غیرتعمیری روئیے کے باعث ایک طرف تو اس کے افسر کے دل میں بھی سیلزمین کیلئے منفی اور تباہ کن خیالات و احساسات پیدا ہو گئے تھے، تو دوسری طرف اسے کئی قسم کے دیگر ذاتی، جسمانی اور جذباتی عوارض اور امراض لاحق ہو گئے تھے۔
اب اس سیلزمین نے اس دعا کا مسلسل ورد شروع کر دیا:
”میں اپنی ذات کی کائنات کا خود ہی واحد مفکر ہوں اور اپنی ذات کی کائنات پر غوروفکر میری عادتِ ثانیہ ہے۔ اپنے افسرکے متعلق، اپنے ذہن میں ابھرنے والے خیالات و تصورات کا میں خود ہی ذمہ دا رہوں، جو ذہنی رویہ میں اپنے سیلزمنیجر کے متعلق اپناتا ہوں، اس میں سیلزمنیجر کا کوئی قصور نہیں ہے۔ کسی شخص، مقام یا چیز میں اتنی جرأت نہیں ہے کہ وہ مجھے ناراض کرے یا میرے کام میں مداخلت کرے۔ میری دلی خواہش اور دعا ہے کہ قدرت، میرے افسر کوصحت کامیابی، ذہنی سکون اور خوشیوں سے نوازے۔ میں بہت اخلاص کے ساتھ اس کی بہتری اور بہبودی چاہتا ہوں اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ زندگی کے تمام پہلوؤں میں اسے روحانی طور پر رہنمائی اور ہدایت میسر ہے۔“
اونچی لیکن قدرے آہستہ آواز، آہستگی اور نہایت ہی جذبات و احساس بھرے لہجے میں، اس سیلزمین نے یہ جانتے ہوئے کہ اس کا ذہن ایک باغ کی مانند ہے، اور جو کچھ بھی وہ اس میں کاشت کرے گا، اس کا  ثمر بھی اسی شکل میں ملے گا، اس دعاکو دہرانا اور اس کا ورد شروع کر دیا۔
میں نے اسے یہ بھی بتایا کہ رات سونے سے قبل وہ ذہنی طو رپر یوں تخیلاتی انداز اختیار کرے: ”اس نے تخیل و تصور میں یہ محسوس کیا کہ اسکا سیلزمنیجر اسے اس کے عمدہ کام، اشتیاق اور جذبہ و شوق اور گاہکوں کی طرف سے بہترین کے باعث اسے مبارک دے رہا ہے۔ اس نے اس تمام منظر کی حقیقت اور سچائی کو بعینہٖ محسوس کیا، اس نے یہ بھی محسوس کیا کہ وہ اپنے سیلز منیجرکے ساتھ مصافحہ کر رہا ہے، اس نے اپنے سیلزمنیجر کی آواز اور اس کا لہجہ بھی محسوس کیا اور اسے مسکراتے ہوئے بھی دیکھا۔ اس نے اس تمام منظرنامے کی ایک حقیقی اور ذہنی فلم تیار کی اور اس میں بہترین صلاحیت کے مطابق کردارنگاری کی۔ اس حقیقت سے باخبر ہوتے ہوئے کہ اس کے تحت الشعوری پر جو کچھ نقش کہا جائے، وہ سب کچھ محفوظ کرلینے کی صلاحیت رکھتاہے اورپھر شعوری ذہن اسے ٹھوس شکل میں ظاہر کرتا ہے، ہر رات اس نے یہ ذہنی فلم دہرانے کا سلسلہ جاری رکھا۔
آہستہ آہستہ اس عمل اور طریقے کے ذریعے کہ جسے اصطلاحاً، ذہنی اور روحانی نفوذ اور سرایت کہتے ہیں، اسی عمل کے ذریعے اس کے تحت الشعور پر وہ نقش اور عکس ثبت ہوگیا، اور یہی نقش و عکس خودبخود ایک ٹھوس اور حقیقی صورت اختیارکر گیا۔ پھر بالآخر سیلزمنیجر نے اسے سان فرانسسکو بلا کر اسے مبارک دی اور اسے ڈویژنل سیلزمنیجر (Divisional Sales Manager) کے عہدے پر ترقی دے دی اور ساتھ ہی اس کی تنخواہ میں بھی قابل قدر اضافہ کر دیا۔ ڈویژنل سیلزمنیجر کی حیثیت سے100سے زائد افراد اس کے ماتحت تھے۔ اس نے اپنے باس کے بارے اپنا تصور اور نظریہ تبدثیل کر دیا، اور پھر موخرالذکر شخص نے اسی کے مطابق اپنا ردعمل ظاہر کیا۔(جاری ہے) 
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -