اسرائیل کی غزہ ، خان یونس میں گھروں ، سکول پر بمباری ، مزید 180فلسطینی شہید

    اسرائیل کی غزہ ، خان یونس میں گھروں ، سکول پر بمباری ، مزید 180فلسطینی شہید

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

                                                             غزہ(آئی این پی)اسرائیل نے غزہ میں خان یونس اور رفح سمیت پوری غزہ پٹی پر بم برسا کر گھروں میں موجود کئی خاندانوں کو نشانہ بنا ڈالا، اسرائیلی حملوں میں مزید 180فلسطینی شہید ہو گئے،فلسطینی وزارت تعلیم کے مطابق غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اب تک 3ہزار 714طالب علم شہید جبکہ 5ہزار 700سے زائد زخمی ہوچکے ہیں،فلسطینی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ غزہ پر 7اکتوبر سے جاری اسرائیلی جارحیت میں 18ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور 50897افراد زخمی ہیں،ادھر فلسطینی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی (Paltel)نے جمعرات کو غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی حملے کی وجہ سے مواصلاتی اور انٹرنیٹ خدمات مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کیا،فلسطینی ہلال احمر نے کہا کہ غزہ میں آپریشن روم اور وہاں کام کرنے والے اس کے تمام عملے سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہے۔ اسرائیلی فوج کی غزہ میں اقوام متحدہ کے ایک اسکول پر بمباری میں 10 جب کہ مغربی کنارے میں چھاپا مار کارروائی میں 11 فلسطینی شہید ہوگئے۔اسرائیلی فوج صرف غزہ میں ہی فلسطینی بچوں، خواتین اور معصوم شہریوں کو اپنی وحشیانہ بمباری کا نشانہ نہیں بنا رہی ہے بلکہ مغربی کنارے میں یہودی ابادکاروں کی پشت پناہی کرکے شہریوں کے قتل میں ملوث ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ کے علاقے خان یونس میں اقوام متحدہ کے ایک اسکول کو نشانہ بنایا جس میں وہاں پناہ لیے ہوئے 10 فلسطینی شہید ہوگئے۔اسی طرح اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے پناہ گزین کیمپ جنین میں چھاپا مار کارروائی کی آڑ میں 11 فلسطینی نوجوانوں کو شہید کردیا جب کہ متعدد کو حراست میں لے لیا۔حماس کے رہنما اسامہ حمدان نے کہا ہے کہ حماس کسی بھی ایسے فلسطینی قومی ریفرنس کی تشکیل کیلئے کوشش میں حصہ لے گی جو ہمارے لوگوں کے حقوق بحال کرے،عرب میڈیا کے مطابق اسامہ حمدان نے گزشتہ روز ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ وہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کوشش کے لیے تیار ہیں، حماس غزہ میں فلسطینیوں کے مصائب کے خاتمے کے لیے اہم رابطے کر رہی ہے،اسامہ حمدان نے حماس کے اس دعوے کو دہرایا کہ وہ غزہ پر جنگ کے خاتمے تک کسی بھی قیدی کے تبادلے کے معاہدے پر بات چیت نہیں کرے گی،دوسری طرف امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے اسرائیلی انٹیلی جنس چیف سے ملاقات کی۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان اوراسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا کے درمیان ملاقات موساد کے ہیڈکوارٹر میں ہوئی۔رپورٹس کے مطابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر اور موساد کے سربراہ کے درمیان اسٹریٹیجک معاملات سمیت ایرانی خطرے پر بھی بات چیت کی گئی جب کہ اس دوران دونوں عہدیداران نے امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنسی ایجنسیز کے درمیان خطے میں نئے تعاون قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔رپورٹس کے مطابق جیک سلیوان اور ڈیوڈ برنیا کے درمیان غزہ میں یرغمالیوں کے معاملے پر بھی بات چیت کی گئی جس میں موساد سربراہ نے امریکی مدد کا شکریہ ادا کیا۔۔دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے غزہ میں یرغمال افراد کے اہلخانہ نے ملاقات کی جس میں انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو آڑے ہاتھوں لیا۔یرغمالیوں کے اہلخانہ نے انتونیو گوتریس کو 7 اکتوبر کے حملے سے متعلق بیان اور اسرائیل کا دورہ نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے فلسطینی شہریوں کو مسجد اقصیٰ میں جمعہ کی نماز کی ادائیگی سے بھی روک دیا۔ادھر اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ فوجی اہلکاروں کو غزہ میں سے مزید 2 یرغمالیوں کی لاشیں ملی ہیں جنہیں واپس اسرائیل بھیج دیا گیا ہے۔اسرائیلی فوج کے مطابق مارا جانیوالا ایک یرغمالی 19 سالہ اسرائیلی فوجی ہے جسے حماس نے 7 اکتوبر کو یرغمال بنایا تھا۔

اسرائیل بمباری

مزید :

صفحہ اول -